نحیف و زار صدا تھک کے بیٹھ جاتی ہے
نحیف و زار صدا تھک کے بیٹھ جاتی ہے
سر زباں ہی دعا تھک کے بیٹھ جاتی ہے
بہت کٹھن ہے عزیزو ہماری ہم سفری
ہمارے ساتھ ہوا تھک کے بیٹھ جاتی ہے
نہ اتنا رخت سفر دیں سمندروں سے کہو
میان راہ گھٹا تھک کے بیٹھ جاتی ہے
ہر ایک بار ابھرتا ہے آفتاب وفا
ہر ایک بار جفا تھک کے بیٹھ جاتی ہے
یہیں کہیں پہ گھنے زندگی کے سائے ہیں
یہیں کہیں پہ قضا تھک کے بیٹھ جاتی ہے
وہاں سے ہوتا ہے جاری خموشیوں کا سفر
جہاں پہنچ کے صدا تھک کے بیٹھ جاتی ہے
گلوں سے کہہ دو ابھی وقت ہے ابھی ہنس لیں
سحر کے بعد صبا تھک کے بیٹھ جاتی ہے
بہت ہی تیز ہے کاظمؔ حیات کی رفتار
یہ اور بات ذرا تھک کے بیٹھ جاتی ہے