ہم اندھیرے میں آ نہیں سکتے

ہم اندھیرے میں آ نہیں سکتے
اپنا سایہ مٹا نہیں سکتے


آندھیاں چھین لے گئیں پتے
اب شجر گنگنا نہیں سکتے


موجیں اپنی ہیں اپنا دریا ہے
پیاس پھر بھی بجھا نہیں سکتے


چھیننے والو دوسروں کی خوشی
تم کبھی مسکرا نہیں سکتے


پھول کاغذ کے اپنے ہونٹوں تک
تتلیوں کو بلا نہیں سکتے


قاتلو ننھے جگنوؤں کا لہو
روشنی ہے چھپا نہیں سکتے


جن کی آنکھوں کے خواب زندہ ہیں
ان کو قصے سلا نہیں سکتے


وقت کے ہاتھ بھی کبھی کاظمؔ
نقش میرے مٹا نہیں سکتے