قافلہ جا کے اسی دشت میں ٹھہرا اپنا
قافلہ جا کے اسی دشت میں ٹھہرا اپنا
خود پہ رکھتے ہیں جہاں پیڑ بھی سایا اپنا
اس جگہ لے کے مجھے تشنہ لبی آئی ہے
خود ہی پی لیتا ہے پانی جہاں دریا اپنا
ہم کسی غیر کے شرمندۂ احسان نہ ہوئے
ہم نے خود بڑھ کے اٹھایا ہے جنازا اپنا
اگتی رہتی ہیں یہاں شمس و قمر کی فصلیں
کیا کمی ہم کو سلامت رہے صحرا اپنا
لوگ ہی سارے برے ہیں کہ کمی تجھ میں ہے
آئینہ رکھ کے ذرا دیکھ تو چہرا اپنا
راہبر مجھ کو نہیں چاہئے تیری منزل
میرے قدموں سے اٹھا لے جا یہ رستا اپنا
فاصلہ اپنوں سے کچھ اور بڑھا اور بڑھا
ہوں گے سب اپنے اگر کوئی نہ ہوگا اپنا
وقف ہے روز ازل ہی سے کسی اور کے نام
اپنے کس کام کا ہے خون پسینا اپنا
ان چراغوں سے کبھی لو نہ لگانا کاظمؔ
جن کو خود اپنے لئے کم ہے اجالا اپنا