کیا دکھا سکتا ہے کوئی معجزے اسی کروڑ
کیا دکھا سکتا ہے کوئی معجزے اسی کروڑ
کیا کبھی حل ہو سکیں گے مسئلے اسی کروڑ
سوچئے کیونکر کٹے گا وقت کا لمبا سفر
رہنما کوئی نہیں اور قافلے اسی کروڑ
کوئی بھی آنسو تمہارے پونچھنے والا نہیں
کہنے کو ماں ہیں تمہارے لاڈلے اسی کروڑ
اس کے ہونٹوں پر جگانا ہے مسرت کی لکیر
جس کے سینے میں نہاں ہیں آبلے اسی کروڑ
ایک کے بعد ایک رستے میں گزرنے کے لئے
منتظر بیٹھے ہوئے ہیں حادثے اسی کروڑ
مختلف انداز کے ہیں مختلف لہجوں میں ہیں
اک کتاب زندگی کے ترجمے اسی کروڑ
دیکھیے کب ختم ہو گھٹ گھٹ کے جینے کی سزا
ایک رسی بھوک کی ہے اور گلے اسی کروڑ
خود ہی کاظمؔ رکھ دیے ہم نے جلا کے واسطے
چند فن کاروں کے آگے آئنے اسی کروڑ