Mashkoor Mamnoon Qannauji

مشکور ممنون قنوجی

مشکور ممنون قنوجی کے تمام مواد

17 غزل (Ghazal)

    میرے لیے تو پھر کوئی میرا نہیں ہوا

    میرے لیے تو پھر کوئی میرا نہیں ہوا تجھ سے بچھڑ کے میں بھی کسی کا نہیں ہوا اس نے بھی خواہشوں کو بہکنے نہیں دیا میں بھی جنون عشق میں اندھا نہیں ہوا بویا تھا ہم نے جو بھی وہی کاٹنا پڑا کیسے کہیں کہ جو ہوا اچھا نہیں ہوا وقت دعا یہ خوف ستاتا رہا مجھے مقبول کیا مرا کوئی سجدہ نہیں ...

    مزید پڑھیے

    مسئلہ ہے تو کوئی حل بھی نکالا جائے

    مسئلہ ہے تو کوئی حل بھی نکالا جائے آؤ حالات کو مل جل کے سنبھالا جائے ہم تو آئینہ صفت لوگ ہیں سچ بولیں گے ہم پہ ہرگز نہ کوئی سنگ اچھالا جائے یا تو خوابوں میں حقیقت کا کوئی رنگ بھرو یا تو کہہ دو کہ کوئی خواب نہ پالا جائے عشق میں ہار بھی ممکن ہے مگر بدلے میں پھول سے چہروں پہ تیزاب ...

    مزید پڑھیے

    رخ انسانیت پر بھیگے جوتے مار دیتی ہے

    رخ انسانیت پر بھیگے جوتے مار دیتی ہے یہاں پر بھوک اب معصوم بچے مار دیتی ہے ہمیں معلوم ہے ناجائز و جائز ہے کیا لیکن شکم کی آگ تو سارے سلیقے مار دیتی ہے مرے دل میں بھی جذبے ہیں تمنائیں مچلتی ہیں مگر غربت محبت کے ارادے مار دیتی ہے محبت اجنبی لوگوں سے رشتہ جوڑ لیتی ہے کدورت حد سے ...

    مزید پڑھیے

    بند ہے جو زبان کھولوں کیا

    بند ہے جو زبان کھولوں کیا سن سکو گے مجھے میں بولوں کیا تیز بارش ہے اور موقع بھی میں تجھے ساتھ میں بھگو لوں کیا تیری منزل ہی میری منزل ہے میں ترے ساتھ ساتھ ہو لوں کیا مر چکا ہے جو مجھ میں زندہ تھا نبض اس کی میں اب ٹٹولوں کیا میں تمہارا ہوں بس تمہارا ہوں اب کسی اور سے نہ بولوں ...

    مزید پڑھیے

    وہ ہمیں اور ہم انہیں بس دور سے دیکھا کئے

    وہ ہمیں اور ہم انہیں بس دور سے دیکھا کئے عمر بھر اک دوسرے کو ہم یوں ہی چاہا کئے اس نے وعدہ توڑ ڈالا یہ اسے حق تھا مگر کس قدر معصوم تھے ہم راستہ دیکھا کئے پا لیا اہل جنوں نے پھر شہادت کا مقام عقل والے مغفرت کی ہی دعا مانگا کئے تو نے میری سمت نا دیکھا پلٹ کے ایک بار جانے والے ہم تو ...

    مزید پڑھیے

تمام