Mashkoor Muradabadi

مشکور مرادآبادی

مشکور مرادآبادی کے تمام مواد

12 غزل (Ghazal)

    تمام عمر مکمل حیات ہو نہ سکی

    تمام عمر مکمل حیات ہو نہ سکی وہ دل کے پاس رہے اور بات ہو نہ سکی جلائے جاتے رہے ہم چراغ الفت کے یہ اور بات کہ پر نور رات ہو نہ سکی ہر ایک لمحہ تری جستجو رہی دل کو زہے نصیب الم سے نجات ہو نہ سکی جسے پکارا ہو دل نے جہاں جھکی ہو جبیں سوائے تیرے کوئی اور ذات ہو نہ سکی جلا ہے جب سے ...

    مزید پڑھیے

    علم و فن چڑھتا ہے پروان بڑی مشکل سے

    علم و فن چڑھتا ہے پروان بڑی مشکل سے آدمی بنتا ہے انسان بڑی مشکل سے سیکڑوں راہ محبت میں فنا ہوتے ہیں حسن ہوتا ہے پشیمان بڑی مشکل سے ہم تو کیا اہل نظر کو بھی ہوئی ہے اکثر دشمن و دوست کی پہچان بڑی مشکل سے شکریہ آپ نے دیکھا ہے محبت سے ہمیں سر سے اترے گا یہ احسان بڑی مشکل سے کعبہ و ...

    مزید پڑھیے

    جو راہ عشق میں ٹوٹا نہیں ہے

    جو راہ عشق میں ٹوٹا نہیں ہے وہ دل اک سنگ ہے شیشہ نہیں ہے بھلا دیں وہ مجھے ایسا نہیں ہے مگر اب جی کہیں لگتا نہیں ہے خدایا لاج رکھنا ضبط غم کی مزاج زندگی اچھا نہیں ہے حکومت ذہن و دل پر ہے اسی کی جسے ہم نے کبھی دیکھا نہیں ہے اسے دنیا کی آنکھیں تک رہی ہیں وہ بادل جو ابھی برسا نہیں ...

    مزید پڑھیے

    خواب غفلت سے ہم تو اب ٹوٹے

    خواب غفلت سے ہم تو اب ٹوٹے کس طرح یہ طلسم شب ٹوٹے وہ خدا جانے مہرباں کب ہوں سلسلہ بے رخی کا کب ٹوٹے شکل اپنی لگے ہے بیگانی حادثے ہم پہ کیا عجب ٹوٹے بچھ گئی ہر طرف صف ماتم فوج باطل پہ آپ جب ٹوٹے جب یقیناً خطا ہے آنکھوں کی شیشۂ دل پہ کیوں غضب ٹوٹے معترض تم پہ تو زمانہ تھا کس لئے ...

    مزید پڑھیے

    ہر نفس ان کو دھیان میں رکھئے

    ہر نفس ان کو دھیان میں رکھئے خود کو امن و امان میں رکھئے حوصلوں کو اڑان میں رکھئے منزلیں آسمان میں رکھئے دوریاں قربتیں بڑھاتی ہیں فاصلے درمیان میں رکھئے جانے کس وقت وہ پلٹ آئیں روشنی سائبان میں رکھئے تند گوئی بھلی نہیں لگتی نرم لہجہ زبان میں رکھئے جان حق پر لٹائیے ...

    مزید پڑھیے

تمام