افسانہ

مادری زبان

دروازے کے اِدھر اُدھر نظر ڈالی گھنٹی کا کوئی سوئچ نہیں تھا۔ لہٰذا ہولے سے دروازہ کھٹکھٹایا..... کوئی آواز نہیں..... پھر دوبارہ اور زور سے..... اور زور سے.....؟ ’’کون ہے‘‘؟..... چیختی ہوئی ایک آواز سماعت سے ٹکرائی۔ آواز اوپر سے آئی تھی۔ میں نے گردن اٹھائی لیکن کوئی نظر نہیں آیا۔ ذرا ...

مزید پڑھیے

عکس

اف میرے خدا۔ یہ میں نے کیا دیکھ لیا..... میرا وجود پارہ پارہ ہوکر لرزنے لگا ہے۔ دل کی گھٹن بڑھتی ہی جارہی ہے.......... کاش میں نے یہ سب کچھ نہ دیکھا ہوتا۔ بچپن سے لے کر جوانی کے آخری لمحوں تک کی یادیں میرے ذہن کو جھنجھوڑنے لگیں۔ اس وقت میں کوئی چھ برس کی تھی۔ ایک صبح سوتے میں میری ران پر ...

مزید پڑھیے

لمحہ

دروازہ کھولاتو اسے یوں سامنے کھڑا دیکھ کر میں حیران رہ گئی۔ ’تم؟‘ ’کیااندر آسکتاہوں؟‘ ’ہاں ہاں آؤ۔‘ ایک ہی نظرمیں اس نے گھر کاجائزہ لیا۔ اپنے بریف کیس کو ایک طرف رکھا اور صوفے پر اس طرح دراز ہوا جیسے مانوتھک کر چورچور ہورہاہو۔ دوتین مرتبہ بالوں میں انگلیاں پھیریں جیسے تھکن ...

مزید پڑھیے

میڈی ٹیشن

ہوٹل کے نزدیک چہل قدمی کرتے ہوئے میری نگاہیں اچانک آشرم پر پڑیں۔ جس سڑک پر یہ آشرم تھا بالکل اس کے دوسری جانب ایک فٹ پاتھ پر جوتے اتارنے کی جگہ تھی۔ میں نے دیکھا لوگ اپنے جوتے اتار کر ملازم کو تھماتے سڑک کراس کرتے اور آشرم کے اندر داخل ہوجاتے۔ میں نے بھی ایسا ہی کیا۔ اروبندو آشرم ...

مزید پڑھیے

پناہ گاہ

مدراس سینٹرل اسٹیشن کے نزدیک پوناملّی ہائی روڈ پر ہوٹل نیلامبر کی پانچویں منزل پر ہمارا قیام تھا۔ کالج کے پندرہ لڑکے لڑکیوں کو میں اور میرے دو کلیگ ویبھو اور ابھیمنیو ایجوکیشنل ٹور پر لائے تھے۔ تمام لڑکے لڑکیاں اور میرے دونوں ساتھی اسی فلور پر پانچ کمروں میں بٹے ہوئے تھے۔ ...

مزید پڑھیے

تصویریں

گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ میں بھڑکتا سورج سروں پر سے ہوتا ہواآگے کی منازل طے کر رہا تھا۔سکول سے اپنے بچوں کو پک کرنے کے بعد میں مین بلیوارڈ گلبرگ کے ٹریفک جام میں پھنسی بیزاری سے ادھر ادھر نظریں دوڑا رہی تھی۔ ٹیلی فون کی نئی تاریں بچھانے کی غرض سے سڑک جگہ جگہ سے کھدی پڑی تھی۔ شدید ...

مزید پڑھیے

ضرب

چولستان بارڈر پر قائم پاکستانی یونٹ کو اطلاع ملی کہ ہندوستان کی طرف سے کرنل اروڑہ امن کے حوالے سے بارڈر کے کچھ اہم امور پر بات چیت کرنے کے لئے وزٹ پر آ رہے ہیں ۔کافی عرصہ سے بارڈر کے دونوں طرف کے لوگوں کے دل کی بھی یہی آواز تھی اور وہ یہ سوچتے تھے کہ دونوں علاقے ایک جیسے ہی تو ہیں ...

مزید پڑھیے

اجازت

دونوں میں دوستی ناگزیر تھی۔ دونوں جوان تھے، خوبرو تھے۔ بلاکے ذہین اور ایک سی سوچ رکھنے والے۔ گھنٹوں گپ شپ کرتے، بحثیں کرتے اور فلسفے جھاڑتے رہتے۔ وہ اسے کبھی کبھار چھیڑ کر ’’فلسفیہ‘‘ بھی کہہ ڈالتا تھا جس پر وہ پنجے جھاڑ کر اس کے پیچھے پڑ جایا کرتی تھی۔ سب سے بڑی بات یہ تھی ...

مزید پڑھیے

خلا

مہمانوں کے آنے سے پہلے فضیلہ نے اپنے بیک یا ر ڈ پر ایک طائرا نہ نظر ڈالی ۔ سب کچھ کتنا خو بصورت لگ رہا تھا ۔ نفاست سے کٹی ہوئی ہری گھاس ، ٹراپیکل پھولوں والے سرا مک کے نما ئشی گملے، لان کے ایک طرف نیلے نگینے کی طرح چمکتا ہوا بڑا سا سوئمنگ پول اور اس کے پانی سے اٹھتی کلو رین کی مہک ، ...

مزید پڑھیے

بابا

کنول کو اپنے نصیبے پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ واقعی وہاں آ پہنچی تھی؟یہ تو وہی جگہ تھی جس کا اس نے بچپن سے بس خواب ہی دیکھ رکھا تھا۔ ایسا خواب جس کی تعبیر کی اسے کوئی خاص امید بھی نہ تھی۔ اس کے سکول ماسٹر بابا غیاث الدین نے اس جگہ کے بارے میں اتنا کچھ بتا رکھا تھا کہ اسے لگتا وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 92 سے 233