افسانہ

بڑی فیملی

ایک شخص کے انتالیس کالم پورے کرنے کے بعد بیوی سات بچوں، دو بہوؤں، ان کے تین بچوں اور دادی سمیت تمام تفصیلات درج کرتے کرتے تقریباً ایک گھنٹہ بیت چکا تھا۔ پچھلے پانچ گھنٹوں سے میں فیلڈ میں تھی اور اب بری طرح تھک چکی تھی۔ سامان سمیٹتے ہوئے باہر نکلی تو اندھیرا پھیل چکا تھا۔ لہٰذا ...

مزید پڑھیے

طنابیں

جب ذرینہ کے سر سے باپ کا سایہ اٹھا تو وہ نو برس کی تھی۔ دو وقت کی روٹی کے لیے اس کی ماں شکیلہ کو کئی گھروں کے برتن مانجھنا پڑتے، لیکن کرایہ نہ دے سکنے کی وجہ سے سر چھپانے کی جگہ چھن گئی تھی۔ ماں کو در در بھٹکتے روتے سسکتے دیکھ دیکھ کر ذریعہ کا بچپن خوف زدہ ہوکر چپکے سے کہیں اور ...

مزید پڑھیے

ایکوریم

پہلی مرتبہ اس سکھ سے آشنا ہوئی تو سرشار ہوگئی۔ پیار، محبت، دلجوئی بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ... جو ہم نے پچیس برسوں میں اسے دیا تھا شاید وہ پچیس دن میں ہی لوٹا دینا چاہتا تھا۔ ممکن ہے یہ پچھلے چھ ماہ کی جدائی کا اثر ہو۔ دراصل بیٹے کو ایک اچھی فرم میں ملازمت ملی تو اسے دہلی چھوڑ کر ...

مزید پڑھیے

اے گردشِ دوراں

پھول پور واقعی پھول پورتھا۔ جمناندی کے کنارے بسے اس چھوٹے سے قصبے میں میلوں تک رنگ برنگے خوشنما گلابوں کی فصلیں لہلہاتیں، پرندے چہچہاتے، قمریاں گیت گاتیں، تتلیاں رقص کرتیں اور بچے ان تتلیوں کے پیچھے دوڑتے دوڑتے بچپن سے جوانی تک کا سفر یوں ہی طے کرلیتے۔ پھول پور قصبے کی کل ...

مزید پڑھیے

ایک زندہ کہانی

میری زبان پر آیاجملہ ابھی مکمل بھی نہیں ہواتھا کہ نوری نے جھپٹ کر اتنی زور سے میرا منہ بند کیا کہ میں چھٹپٹاگئی۔اگروہ کچھ دیر اوردبائے رکھتی تویقیناًمیری آنکھیں باہر آجاتیں۔ نوری واقعی بہت خوبصورت تھی۔ ذہین اور بے باک۔ فیصلے کرنے میں ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ نڈر اور سفاک بھی ...

مزید پڑھیے

لمس

موسم انتہائی خوشگوار تھا۔ بارش کی مندمند پھوہار نے موسم میں مزید تازگی بھر دی تھی۔ لیکن میرے اندر کے کسیلے پن نے اس روح پرور موسم کے لطف سے مجھے محروم رکھا۔ بس کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ اسے اتفاق کہیے یا موسم کا کرم کہ بس میں سواریاں بہت کم تھیں لہٰذا خالی سیٹیں دیکھ کر ...

مزید پڑھیے

فریم

کال بیل پر انگلی رکھنے کے بعد خود ہی دروازہ کھول کر آنگن عبور کرتی ہوئی وہ اندر آچکی تھی۔ تب تک سلمان بھی کمرے سے باہر آچکا تھا۔ ’’ہائے۔‘‘ ’’ہیلو۔‘‘ ’’ہاؤ سلمان!‘‘ ’’فائن۔‘‘ ایک دوسرے کی طرف بڑھ کر دونوں نے ہاتھ ملایا اور پھر سلمان کا دایاں رخسار اس لڑکی کے دائیں رخسار ...

مزید پڑھیے

مُردار

وہ دروازہ کھول کر گرتا پڑتا اندر داخل ہوا اور ڈھیر ہوگیا۔ وہ ہمیشہ کی طرح نشے میں تھا۔ لیکن اس مرتبہ اس کے چہرے سے وحشت برس رہی تھی۔ وہ رو رہا تھا۔ تڑپ رہا تھا۔ اس کا پورا وجود درد و کرب سے لرز رہا تھا۔ شاید کئی راتوں سے سویا بھی نہیں تھا۔ بال بے ترتیب اور بڑھے ہوئے تھے۔ کپڑے ...

مزید پڑھیے

تعلق

کمرہ اس وقت خالی تھا۔ اس نے آہستہ سے اپنا بیگ اٹھایا۔ باہر نکلنا ہی چاہتی تھی کہ وہ پھر نازل ہوگیا۔ ’’ارے۔ کہاں جارہی ہو؟؟‘‘ ’’جی۔۔۔ جی گھر۔۔۔ بہت دیر ہوجائے گی۔ یہ شبوا بھی تک نہیں آئی؟؟‘‘ اس نے بے چینی ظاہر کی۔ ’’ہاں ہاں آجائے گی۔ چلی جانا۔ میں گاڑی سے چھڑوا دوں گا۔ پانچ ...

مزید پڑھیے

بے چہرگی

حسب معمول ٹیرس گارڈن پربانس کی بنی جھونپڑی کے ایک گوشے میں ایژل پر لگے کینوس پہ میں نئی پینٹنگ کے اسکیچ کی ابتدا کر رہی تھی۔ چارکول تیزی سے نقش بنارہاتھا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ اپنے تخلیقی کاموں کے لیے اس سے مناسب کوئی دوسری جگہ مجھے متاثرنہ کرتی۔ گھر کے مصروفیت بھرے ماحول، ...

مزید پڑھیے
صفحہ 91 سے 233