افسانہ

ایک دردمند دل

آرکسٹرا نے ناچ کی ایک نئی دھن بجانی شروع کی، اور ناچنے والے جن میں زیادہ تعداد لندن یونیورسٹی کے شعبہ السنۂ شرقیہ وافریقہ کے طلباء اور طالبات کی تھی، پھر مصروف رقص ہوگئے۔ ناچ کا یہ ہنگامہ لندن کی ایک بھیگی ہوئی سرد شام کو، یونیورسٹی کی وسیع عمارت کے ایک کمرے میں برپا تھا۔ ...

مزید پڑھیے

چکر

سیٹھ چھنامل کا منیم چیلا رام صبح سے دوپہر کے بارہ بجے تک کوٹھی میں بہی کھاتے اور لکھنے پڑھنے کا کام کیا کرتا۔ اس کے بعد وہ رقمیں اگاہنے چلا جاتا۔ جون کی ایک دوپہر کو وہ اپنا کپڑے کا تھیلا لئے، جس میں وہ کاغذات وغیرہ رکھا کرتا تھا، سیٹھ کے کمرے کے سامنے سے گزرا۔ سیٹھ اس وقت گاؤ ...

مزید پڑھیے

پتلی بائی

محبت کا جذبہ پہلے پہل انسان کے دل میں کب بیدار ہوتا ہے، اس کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں۔ بعض لوگ لڑکپن ہی سےعاشق مزاج ہوتے ہیں اور بعض بلوغت کو پہنچ کے بھی اس جذبے سے بے بہرہ ہی رہتے ہیں۔ میری عمر کوئی نو دس برس کی ہوگی کہ مجھے عشق ہوگیا۔ عہد طفلی کا وہ معصوم عشق نہیں جو کھلونوں سے ...

مزید پڑھیے

سرخ گلاب

اس کا اپنا گھر تو کوئی تھا ہی نہیں مگر گاؤں کے ہر گھر کو وہ اپنا ہی گھر سمجھتی تھی۔ دن میں وہ کبھی کسی گھر میں دکھائی دیتی کبھی کسی گھر میں۔ کبھی ذیل دار کے ہاں تمباکو کوٹ رہی ہوتی کبھی شمے گوجر کے ہاں چھاچھ بلورہی ہوتی۔ کبھی مائی تاباں کے ساتھ اس کچی دیوار پر جس نے سارے گاؤں کا ...

مزید پڑھیے

کتبہ

شہر سے کوئی ڈیڑھ دو میل کے فاصلے پر پر فضا باغوں اور پھلواریوں میں گھر ی ہوئی قریب قریب ایک ہی وضع کی بنی ہوئی عمارتوں کا ایک سلسلہ ہے جو دور تک پھیلتا چلا گیا ہے۔ عمارتوں میں کئی چھوٹے بڑے دفتر ہیں جن میں کم و بیش چار ہزار آدمی کام کرتے ہیں۔ دن کے وقت اس علاقے کی چہل پہل اور گہما ...

مزید پڑھیے

بندر والا

میں شہر کے جس علاقے میں رہتا تھا، وہیں ایک صاحب بھی رہتے تھے۔ نام تو ان کا کچھ لمبا سا تھا مگر اس علاقے کے لوگوں میں وہ مسٹر شاہ کے نام سے یاد کیے جاتے تھے۔ وہ کسی دفتر میں اونچے عہدے پر فائز تھے اور ایک چھوٹے سے خوش نما بنگلے میں رہائش پذیر تھے۔ بڑے خلیق اور ملنسار معلوم ہوتے تھے ...

مزید پڑھیے

فرار

اس شام میں دفتر سے تھکا ہارا گھر پہنچا ہی تھا کہ میری بیوی نے بڑے تشویش کے لہجہ میں مجھ سے کہا، ’’ابھی ابھی نانا جان کے ہاں سے پیغام آیا ہے۔ سرفراز ماموں کی حالت یک لخت بہت بگڑ گئی ہے۔ امید نہیں وہ آج کی رات بھی کاٹ سکیں۔ ہم سب کو فوراً بلایا گیا ہے۔‘‘ سرفراز ماموں ہمارے وسیع ...

مزید پڑھیے

فینسی ہیرکٹنگ سیلون

آبادیوں کی ادل بدل نے ایک دن ایک اجنبی شہر میں چارحجاموں کو اکھٹا کردیا۔ وہ ایک چھوٹی سی دکان پر چائے پینے آئے۔ جیسا کہ قاعدہ ہے ہم پیشہ لوگ جلد ہی ایک دوسرےکو پہچان لیتے ہیں۔ یہ لوگ بھی جلد ایک دوسرے کو جان گئے۔ چاروں وطن سےلٹ لٹاکر آئے تھے۔ جب اپنی بپتا سناچکے تو سوچنےلگے کہ اب ...

مزید پڑھیے

بامبے والا

یہ علاقہ سرکاری فائلوں میں تو محض ’’گورنمنٹ کوارٹرز، سی/۳۵۵‘‘ کہلاتا تھا مگر یہاں کے ساکنوں نےبڑی جدوجہد کے بعد ایک ضمنی نام بھی سرکار سے منظور کرالیا تھااور وہ تھا ’’گلستاں کالونی۔‘‘ یہ لوگ خود تو اپنےخطوں کی پیشانی پر خوش خطی سے ’’گلستاں کالونی‘‘ لکھتے ہی تھے۔ رشتہ ...

مزید پڑھیے

بھنور

اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے لیے صوم و صلوۃ کا پابند ہونا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے مذہبی ولولوں کی تسکین کے لیے اس سے کہیں سوا چاہتے ہیں۔ ان کی تمنا ہوتی ہے کہ جس نور سے ان کا سینہ روشن ہے اس کی کرن دوسروں تک بھی پہنچے۔ وہ گمراہوں کی ہدایت کے لیے خطرناک جگہوں پر بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 184 سے 233