بھِڑ
’’کیا آپ لوگوں کو ایسا نہیں لگتا کہ ہمیں بھی اس آواز پر لبیک کہنا چاہیے۔‘‘
حیرت ہے کہ جو کل تک سریندر پرکاش کی کہانی ’’باز گوئی‘‘ کے اس نظریے پر سختی سے قائم تھا کہ جب کوئی شب روزی مل جاتی ہے تو فن کار کی بانسری بند ہوجاتی ہے بلکہ ہاتھ سے چھوٹ کر گرجاتی ہے اور ظلمت کے خلاف انقلابی دھن بجانے والا موسیقار شب روزی کے ہمرا ہ ہم بستری میں مصروف ہوجاتا ہے اور قرۃ العین حیدر کے ناول کا کردار ریحان دا بھی کامریڈ نہیں رہ پاتا بلکہ وہ بھی کار دار بن جاتا ہے۔
میں نے حیرت سے اس شخص کی طرف دیکھا تو بولا
’’ڈاکٹر صاحب ! میں مذاق نہیں کررہا ہوں ۔ اس معاملے میں میں کافی سیریس ہوں ۔
ہماری یہ گفتگو اس نئی آواز کے متعلق تھی جو کچھ دنوں پہلے گونجی تھی اور نہایت سرعت کے ساتھ بلند سے بلند تر ہوتی گئی تھی اور جواُن د لوں میں بھی پہنچ کر گھر بنانے لگی تھی جن سے آواز یں ٹکراکر اپنا سر پھوڑ لیا کرتی تھیں۔
یہ آواز واقعی نئی آواز تھی۔ نہایت صاف ، شفّاف ،منزّہ ، مدُھر ، منفرداور ممتاز۔ یہ آواز دل سے نکلی تھی اور برسوں کی تپسّیا اور سادھنا کے بعد اس جوش، جذبہ اور قوت سے نکالی گئی تھی کہ سنتے ہی سماعتیں چونک پڑی تھیں۔
یہ آواز ققنس کی اس آواز کی مانند تھی جس کے منقار سے نکلتے ہی پر ند اس کی جانب دیوانہ وار پرواز بھرلگتے ہیں مگر اس سحر انگیز آواز کو نکالنے والا سحر ساز اس ققنس کی طرح نہ تھا جو اپنی آواز کی کشش پر پاس آئے پرندوں کو دبوچ کر اپنے منہ میں رکھ لیتا ہے ۔
وہ لوگ جو آواز وں پر کبھی کان نہیں دھرتے تھے، وہ بھی اس آواز پہ ہمہ تن گوش ہوگئے تھے اور ان میں سے بیشتر کے پاؤں اس صدائے فسوں ساز کی جانب بڑھنے بھی لگے تھے۔ لوگ اس آواز کی سمت اس طرح بڑھ رہے تھے جیسے ڈگڈگی کی آواز پر گھروں سے بچے نکلتے ہیں جبکہ بیشتر لوگوں کے ذہنوں میں یہ تماشا موجود تھا کہ مداری ڈگڈگی کی آواز پر مجمع لگاتا ہے۔ سانپ اور نیولے کی عجیب و غریب لڑائی دکھانے کی دلچسپ تمہید باندھتا ہے، بار بار پٹاری کھولتا ، بند کرتا ہے اور لڑائی دکھائے بغیر اپنا تیل بیچ کر چل دیتا ہے ۔ شاید لوگوں کے پاؤں اس لیے بھی بڑھ رہے تھے کہ ان کی آنکھوں میں اس نئی آواز والے شخص کا حلیہ بھی داخل ہوچکا تھا:
اس کے ہاتھ میں کوئی ڈگڈگی نہیں تھی۔ اس کی انگلیاں رنگ برنگ کے نگوں والی انگوٹھیوں سے خالی تھیں۔ گلے میں رنگین اور چمک دار موتیوں کی کوئی مالا بھی نہیں تھی۔ اس کے بال بھی نارمل تھے۔ اس کے جسم پر کسی مخصوص قسم کا کوئی لبادہ بھی نہیں تھا۔ اس کا لباس بالکل سادہ تھا۔ سرسے پاتک سادہ ،نہ کپڑے میں کوئی تاب نہ رنگ میں کوئی آب۔ کوئی گل بوٹا نہیں، کوئی پیوند کاری نہیں ، کوئی تکمہ نہیں ، کوئی پھند نا نہیں ۔
دیکھتے ہی دیکھتے اس آواز کے ارد گرد ایک عالم اکھٹا ہوگیا ۔ اس آواز سے انسانی سماعتیں تو متاثر ہوئیں ہی فطرت بھی متحرک ہواٹھی:
پُر شور فضائیں مترنم ہوگئیں
حبس زدہ ماحول میں تازہ ہوائیں گھلنے لگیں۔
گم سم سے بیٹھی ہوائیں چلنے اور بولنے لگیں
پیڑوں کی ساکت شاخیں ہلنے لگیں
فالج زدہ پتّے جھومنے لگے
پرندوں کے خاموش لب کھلنے لگے
اس آواز اور اس آواز کی بدولت فطرت کے بدلے ہوئے تال سرنے بہت کم وقت میں وہ کردکھایا جو مدّتوں میں بڑے بڑے ساز اور اونچی آواز والے مطرب بھی نہ کرسکے :
حالتِ حبس میں ہوامحسوس ہونے لگی
ذہن و دل کی گانٹھیں کھلنے لگیں
درد سر کنے لگا
کرب میں کمی آنے لگی
اضطراب ٹھہرنے لگا
یاس آس میں بدلنے لگی
سرابوں میں سیرابی سرسرانے لگی
پہلی بار مجھے بھی یہ خیال آیا تھا کہ اس آواز کی طرف بڑھنا چاہیے۔اس سُر پہ کان دھرناچاہیے۔ اس لیے کہ اس سر میں مجھے بھی وہ سُر محسوس ہواتھا جو گھٹن کو دورکرنے اور سانسوں میں سنگیت گھولنے والا سُر تھا۔جس میں زہراب کو آبِ زلال بنانے والا جوہر موجود تھا ۔ وہ آواز واقعی صدائے نجات تھی اور عنقریب ہم سب اس کے قریب پہنچنے والے تھے کہ اچانک لوگوں کا اس آواز کی سمت آنے اور اس کے پاس موجود لوگوں کا اس سے ہٹنے اور دور جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔
سبب یہ نہیں تھا کہ کسی نے لوگوں کی سماعت میں یہ بات ڈال دی تھی کہ اس شخص کی آوازبھی آخرِ شب کے ہم سفر ریحان دا اور باز گوئی کے فن کار کی بانسری کی آواز جیسی ہی ثابت ہوگی۔ سبب پر میں نے غور کیا تومعلوم ہو اکہ اس کی آواز میں کچھ تبدیلی سی پیدا ہوگئی تھی۔ اس میں اب وہ پہلے جیسا سُر نہیں تھا جو شروع شروع میں ابھراتھا۔ سماعتوں کو ناگوارلگنے والے کچھ عنا صر بھی اس آواز میں داخل ہوگئے تھے۔
اس تبدیلی کے سبب کو جاننے کے لیے میرا تجسس بڑھتا گیا۔ چھان بین کرنے پر بس اتنا پتا چلا کہ کسی دن اس کے اُوپربھڑ کا کوئی چھتّا گِرا تھا۔ اس چھتّے سے بھڑیں نکلی تھیں اور وہ بھڑیں اس کے گلے سے چمٹ گئی تھیں ۔ شاید تب ہی سے اس کی آواز متاثر ہوگئی تھی ۔
یوں اچانک اپنی آواز میں پیدا ہوئی خرابی سے وہ دکھی رہنے لگا۔ اپنی آواز سے زیادہ دکھ اسے اس بات کا تھا کہ لوگ اس سے دور جارہے تھے۔ پوری طاقت سے ایک اور آواز اس کے اندرسے اُٹھ رہی تھی کہ وہ لوگوں کو روکے۔ انھیں بتائے کہ یہ عارضی خرابی ہے ۔ زیادہ دنوں تک باقی نہیں رہے گی مگر یہ آواز باہر آتے آتے بے اثر ہوجاتی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے تھے۔ یہ آنسو اپنے لیے کم اور دوسروں کے لیے زیادہ تھے۔ یہ آنسو ان کے لیے تھے جن کی خاطر اس نے رشیوں منیوں جیسی ریاضت کی تھی ۔ جومینکاؤں کے رقص سے بھی متاثر نہیں ہواتھا۔جو اپنی قوتِ مدافعت شیطانی شعبدوں اور زمانی کرشموں کے سحر سے بھی بچتا رہا تھا ۔
اس کی آواز کی جانب جاتے ہوئے لوگ مجھے اچھے لگے تھے مگر وہاں سے واپس آتے ہوئے اچھے نہیں لگ رہے تھے۔ میرا جی چاہ رہاتھا کہ میں ان کے رستے میں کھڑا ہوجاؤں، انھیں روک لوں مگر میں کیسے روکتا ؟کیا کہتا؟میں تو خود بھی تذبذب کا شکار ہوگیا تھا۔
چھتّے کا گرنا ، چھتّے سے بھڑوں کا نکلنا او ر ان بھڑوں کا اس کے گلے سے چمٹنا کیا محض اتّفاقات تھے یا کچھ اور ۔یہ بات میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔اس اُلجھن کو لے کر میں خاصا پریشان رہنے لگا تھا کہ اچانک اُن پروفیسر صاحب کی یاد آئی گئی جنھوں نے ایک دن ہم سب کو بھی اس آواز پر لبیک کہنا کامشورہ دیا تھا۔
جب میں نے بھڑوں والی بات ان سے بتائی تو بولے:
’یہ اتّفاق نہیں ہوسکتا ۔ ‘
’تو کیا ہوسکتاہے؟‘ میں نے دوسرا سوال کردیا
’سبب‘ ۔نہایت سنجیدگی سے انھوں نے جواب دیا۔
’سبب؟ کیسا سبب میں کچھ سمجھا نہیں ؟‘
’سبب یعنی کچھ آوازیں ہیں جو اس آواز کے راستے میں کھڑی ہوگئی ہیں۔‘
’ آوازیں! کون سی آواز یں؟‘
’وہ آوازیں جو آخرِ شب کے ہم سفر ریحان دا اور ’باز گوئی‘ کے فن کار جیسے لوگوں کے ہونٹو ں سے نکلتی ہیں۔‘
’یہ آواز اُن آوازوں کے راستے کا سبب کیوں کر بن سکتی ہیں ؟‘
’یہ آوازاُن سے مختلف ہے اور اُن کو ڈر ہے کہ کہیں یہ اُن کے گلے کے لیے بھِڑ نہ بن جائے‘
’اس لیے انھوں نے بھِڑ ۔۔۔۔۔‘
’ہاں اسی لیے۔ ‘
میری آنکھوں کے آگے بھِڑ کا ایک چھتّا اُبھر آیا۔
(مجموعہ پارکنگ ایریا ازغضنفر، ص 188)