افسانہ

تین بھنگی

مدھیہ پردیش کی سرکار نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی اونچی ذات والا کسی میونسپلٹی میں بھنگی کا کام کرنا منظور کرے گا اسے تنخواہ کے علاوہ نوے روپے ماہوار اسپیشل الاؤنس بھی دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ چھوت چھات دور کرنے کی غرض سے کیا گیا ہے۔ (بھوپال کی خبر) ابھی سورج نہیں نکلا تھا کہ ...

مزید پڑھیے

دیوالی کے تین دیے

پہلا دیادیوالی کا یہ دیا کوئی معمولی دیا نہیں تھا۔ دیے کی شکل کا بہت بڑا بجلی کا لیمپ تھا۔ جو سیٹھ لکشمی داس کے محل نما گھر کے سامنے کے برآمدےمیں لگا ہواتھا۔ بیچ میں یہ دیوں کاسمراٹ دیا تھااور جیسے سورج کے اردگرد اَن گنت ستارے ہیں، اسی طرح اس ایک دیے کے چاروں طرف بلکہ اوپر نیچے ...

مزید پڑھیے

دل ہی تو ہے

آپریشن تھیٹر کی سفید دیواروں میں تین افراد قید تھے۔ ایک آدمی تھا۔ ایک جج تھا۔ ایک ڈاکٹر تھا۔ ایک آدمی تھا بے سکت، بے ہوش، تقریباً بے جان آدمی آپریشن ٹیبل پر پڑا تھا۔ اس کے دل میں ایک سوراخ تھا۔ اس کے سوراخ میں پستول کی ایک گولی تھی۔ تھوڑی دیر ہی میں اس کے دل کی حرکت ہمیشہ کے ...

مزید پڑھیے

ایک لڑکی

(اس کہانی میں کوئی کیریکٹر قطعی فرضی نہیں ہے۔) (1) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخ میں ۱۹۳۷ء یادگار رہے گا۔ کیونکہ اس سال ہندوستانی مسلمانوں کے واحد دارالعلوم میں سرکاری طو رپر مخلوط تعلیم کی ابتدا ہوئی۔ یہ قصہ بھی عجیب ہے کہ کس طرح یونیورسٹی کے ارباب حل و عقد ا س سنسنی خیز ...

مزید پڑھیے

تین مائیں ایک بچہ

بچہ ایک تھا ۔۔۔ چار پانچ برس کا ہوگا۔ خوبصورت تھا۔ بڑی بڑی آنکھیں۔ مگر ان آنکھوں میں دنیا بھر کا غم بھرا ہوا تھا۔ جیسے ایک بڑے گمبھیر فلاسفر کو پاکٹ سائز کا بنادیا گیا ہو۔ جسم بھی لاغر تھا۔ جو تعجب کی بات نہیں تھی کیونکہ وہ بچپن ہی سے ایک بھکارن کے یہاں پلا تھا جو اسے نہ دودھ ہی ...

مزید پڑھیے

دیا جلے ساری رات

جہاں تک نظر جاتی تھی ساحل کے کنارے ناریل کے پیڑوں کے جھنڈ پھیلے ہوئے تھے، سورج دور سمندر میں ڈوب رہا تھا اور آکاش پر رنگا رنگ کے بادل تیر رہے تھے، بادل جن میں آگ کے شعلوں جیسی چمک تھی اور موت کی سیاہی، سونے کی پیلاہٹ اور خون کی سرخی۔ ٹراونکور کا ساحل اپنے قدرتی حسن کے لئے ساری ...

مزید پڑھیے

شکر اللہ کا

نہیں صاحب! کوئی شکوہ شکایت نہیں۔ رشتہ داروں، دوستوں، دشمنوں، تعلقات والوں، افسروں، مالکوں، کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ نہ سرکار سے کوئی گلہ ہے۔ نہ اللہ میاں سے کوئی شکوہ ہے۔ وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے۔ قسمت کے لکھے کو کون مٹا سکتا ہے۔ سو میں اپنی قسمت پر شاکر ہوں اور صبح ...

مزید پڑھیے

زعفران کے پھول

آؤ، مسافر، یہاں! اس چنار کے سایے میں بیٹھ جاؤ۔ میں ابھی پانی پلاتی ہوں۔۔۔ وہ نیلی نیلی لمبی سی موٹر ہے نا تمہاری۔۔۔؟ پنکچر ہوگیا ہوگیاہے۔۔۔؟ کوئی بات نہیں۔ اندھیرا ہونے سے پہلے سری نگر پہنچ جاؤگے۔۔۔اب بیس کوس کی تو بات ہی ہے۔۔۔ نہیں بیٹا مجھے پانی کی قیمت نہیں چاہیے۔ اور پھر ...

مزید پڑھیے

سونے کی چار چوڑیاں

بارش نے رات کے اندھیرے کو اور گہرا کردیا تھا۔ ایسا لگتا ہے (سڑک کے کنارے پیڑ کے نیچے کھڑے ہوئے شنکر نے سوچا) بھگوان بھی بادلوں کا لحاف اوڑھ کر سوگیا ہے اور اس وقت دنیا میں میں اکیلا ہوں۔ صرف میں ہوں اور دل کی دھڑکن ہے۔ اور پھر ایک بار بجلی چمکی تو اس نے سوچا میری زندگی بھی اس سڑک ...

مزید پڑھیے

آج کے لیلیٰ مجنوں

ایک تھی لیلیٰ، ایک تھا مجنوں۔ مگر لیلیٰ کا نام لیلیٰ نہیں تھا، للی تھا، للی ڈی سوزا۔ وہ دونوں اور ان کے قبیلے صحرائے عرب میں نہیں رہتے تھے۔ ماہم اور باندرہ کے بیچ میں سڑک کے نیچے اور کھاری پانی کی کھاڑی کے کنارے جو جھونپڑیوں کی بستی ہے وہاں رہتے تھے۔ مگر صحرائے عرب کی طرح اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 145 سے 233