افسانہ

واپسی کا ٹکٹ

انسان نے انسان کو ایذا پہنچانے کے لیے جو مختلف آلے اور طریقے اختیار کیے ہیں ان میں سب سے زیادہ خطرناک ہے ٹیلی فون! سانپ کے کاٹے کا منتر تو ہوسکتا ہے مگر ٹیلی فون کے مارے کو تو پانی بھی نہیں ملتا۔ مجھے تو رات بھر اس کمبخت کے ڈر سے نیند نہیں آتی کہ صبح سویرے نہ جانے کس کی منحوس آواز ...

مزید پڑھیے

اجنتا

’’اجنتا ہندوستان کے آرٹ کی معراج ہے، دنیا میں اس کا جواب نہیں ہے۔۔۔ بڑے بڑے انگریز اور امریکن یہاں آکر دم بخود رہ جاتے ہیں۔۔۔ یہ غار ڈیڑھ ہزار سال پرانے ہیں۔ ان کو کھودنے، تراشنے، ان میں مجسمے اور تصویریں بنانے میں کم سے کم آٹھ سو برس کا عرصہ لگا ہوگا۔۔۔ مہاتما بدھ کے اس مجسمے ...

مزید پڑھیے

ماں کا دل

ایک فلم کی شوٹنگ ہو رہی تھی۔سٹوڈیو میں حسب معمول ہنگامہ تھا۔ ہیرو کے سر پرنقلی بالوں کی ’’وِگ‘‘ بٹھائی جارہی تھی۔۔۔ ہیروئن بار بار آئینہ میں اپنی لپ سٹک کا معائنہ کر رہی تھی۔ ڈائریکٹر کبھی ڈائیلاگ رائٹر سے الجھ رہا تھا تھا کبھی کیمرہ مین سے۔ پروڈکشن منیجر اکسٹرا سپلائر سے ...

مزید پڑھیے

آئینہ خانے میں

ساٹھ برس تک وہ مجھ سے کتراتا رہا۔ مگر پھر آخر ایک دن ہمارا آمنا سامنا ہو ہی گیا۔ میں نے کہا، ’’بات کیا ہے؟ میں نے توکبھی تمہیں قرض نہیں دیا۔ پھر ہمیشہ کیوں مجھ سے آنکھیں چراتے ہو؟‘‘ اس نے کہا، ’’میں تم سے شرماتا بھی ہوں، ڈرتا بھی ہوں۔ مگر میں تم سے نفرت نہیں کرتا۔ کبھی کبھی تو ...

مزید پڑھیے

نیلی ساڑی

بمبئی: چونتیس کم عمر لڑکیاں تین قحبہ خانوں میں سے پچھلے ہفتے برآمد کی گئیں۔ ان میں سے تین کے چہرے کو ایذا پہنچانے کے لیے تیزاب سے جلا دیا گیا تھا۔ پولیس نے پانچ عورتوں کو رنڈی خانوں کو چلانے اور طوائفوں کی آمدنی پر رہنے کے جرم میں گرفتار کر لیاہے۔ (ایک خبر) حضور۔ میں سچ کہوں ...

مزید پڑھیے

سورج ابھی جاگ رہا ہے

اکتوبر کی ایک شام تھی۔ میں دفتر سے چھوٹتے ہی گھر جانے کے لئے باہر نکلا ہی تھا کہ تیز آندھی چلنے لگی۔ آندھی کیوں آتی ہے نغمہ ؟ آندھی کا اس زمین سے کیا رشتہ ہے ؟ تم بھی کیسے آدمی ہو ؟ زندگی کی اتنی منزلیں طے کرچکے،اور اس طرح کا سوال پوچھتے ہو۔اس طرح کا سوال تمہاری زبان سے اچھا نہیں ...

مزید پڑھیے

ایڈز

اور پھر وہ دن بھی آیا ---- جب مجھے اپنا گاؤں ، اپنا شہر اور اپنا ملک چھوڑنا تھا - جیسے جیسے ہوائی جہاز کی روانگی کا وقت قریب آ رہا تھا - میری تو جیسے جان ہی نکلی جا رہی تھی - میں نے اندر سے ٹوٹے پھوٹے ، بکھرے ہوئے اور اوپر سے صحیح و سالم جسم کے اندر دھڑکتے ہوئے دل کو سمجھایا , پھر اپنے ...

مزید پڑھیے

چھالیا

۔۔۔۔ خْورشید حیات ۔۔۔۔ زمین سے لے کر آسمانوں تک کے دْھواں دْھواں منظر کو دیکھ جب وہ مضطرب ہو جاتی ، اور رات ایک انجانے خوف سے سہمے ہوئے گزر جاتی ۔ تب ہوتا یہ تھا کہ اْس کی بوجھل آنکھوں میں صْبح کی سپیدی اتْر آتی تھی اور شام اْداس اْداس سی سیاہ رنگت لئے رات کی سیاہی سے جا ملتی تھی ...

مزید پڑھیے

آنگن میرے گھر کا

نام تو اس کا جمیلہ تھا مگر محلّے کی ساری عورتیں اسے پیار سے جمالو پکارا کرتی تھیں ۔ وہ آج بہت تھکی تھکی سی تھی ، دفتر سے آتے ہی اس نے اپنی بھیگی بھیگی سی تھکن کو باہر الگنی پر ٹانگ دیا اور ریشمی بستر کو چھوڑ ، فرش پر پسر گئی ۔ گھر میں پھیلے سّناٹا نے جب اسے دیکھا تو گلہری کے سہمے ...

مزید پڑھیے

خبر ہونے تک

میں نے جب کبھی حقیقت کا سامنا کرنا چاہا ہے تو خود کو اپاہج محسوس کیا ہے۔ انسان، کتنا بے بس ہے، وقت کے ہاتھوں کا کھلونا، اس پر یہ تیور کہ میں انقلاب لا سکتا ہوں۔ زندگی تیز رفتار سے چلتی رہتی ہے اور انسان خواب اور حقیقت کے دو راہے سے گذرتارہتا ہے۔ کبھی اسے محسوس ہوتا ہے کہ ہر خواب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 146 سے 233