زعفران کے پھول
آؤ، مسافر، یہاں! اس چنار کے سایے میں بیٹھ جاؤ۔ میں ابھی پانی پلاتی ہوں۔۔۔ وہ نیلی نیلی لمبی سی موٹر ہے نا تمہاری۔۔۔؟ پنکچر ہوگیا ہوگیاہے۔۔۔؟ کوئی بات نہیں۔ اندھیرا ہونے سے پہلے سری نگر پہنچ جاؤگے۔۔۔اب بیس کوس کی تو بات ہی ہے۔۔۔ نہیں بیٹا مجھے پانی کی قیمت نہیں چاہیے۔ اور پھر پیسہ لے کر کروں گی بھی کیا۔ میرا ہے ہی کون۔۔۔؟اکیلی جان ہوں، ذیلدار کے کھیت میں کام کرتی ہوں، چشمے سے پانی بھرلاتی ہوں، دھان کوٹ دیتی ہوں، اللہ کا شکر ہے مٹھی بھر چاول تو مل ہی جاتا ہے۔ پانچ اوپر ساٹھ عمر ہونے کوآئی۔ اور چاہیے ہی کیا ایک بڑھیا کو۔ آج مری کل دوسرا دن۔۔۔تم بھی کہتے ہوگے کس بکواسن سے پالا پڑگیا ہے۔۔۔
کیا کہا تم نے، بیٹا۔۔۔؟ نہیں نہیں، گل لالہ کا نہیں یہ زعفران کا کھیت ہے۔۔۔ ٹھیک کہتے ہو زعفران کے پھول سچ مچ کاسنی ہی ہوتے ہیں۔ ابھی آگے جاؤگے تو دوسرے کھیتوں میں کاسنی پھول ہی پاؤگے۔ پر یہاں اس سال زعفران کے سرخ پھول ہی کھلے ہیں۔۔۔ اس کی وجہ کیا ہے۔۔۔؟ یہ خدا کی قدرت ہے بیٹا۔ پر تم میدانوں کے رہنے والے آج کل کے نوجوان، خدا اور اس کے کرشمے کو کب مانتے ہو۔ ہم کشمیریوں کو وہمی اور بے وقوف سمجھتے ہو کہ ہم ایسی باتوں میں اعتقاد رکھتے ہیں۔۔۔
اب ان پھولوں کی پوری کہانی سن کر کیا کروگے؟ ابھی تمہاری موٹر ٹھیک ہوجائے گی اور تم چلے جاؤگے اور کہانی ادھوری رہ جائے گی۔۔۔ موٹریں تو اس سڑک پر سے گزرتی ہی رہتی ہیں، بیٹا! پل دو پل کوٹھیرتی بھی ہیں تو پھر دھول کے بادل اڑاتی چلی جاتی ہیں۔ پر یہ زعفران کی کھیتی، یوں ہی کھڑی رہے گی۔ یہاں تک کہ پھول چننے کا وقت آجائے گا اور یہ لال لال لہو کی بوندوں جیسے شگوفے سکھاکر دساور کو بھیج دیے جائیں گے، اور نہ جانےان کی خوشبو کہاں کہاں اور کس کس کے دسترخوان پر مہکے گی اور تمہاری طرح کتنے ہی آدمی سوال کریں گے اس زعفران کا رنگ لہو کی طرح سرخ کیوں ہے۔۔۔؟ پر کوئی نہ بتاپائے گا۔ کیونکہ اس کی وجہ تو صرف میں ہی جانتی ہوں۔
تم مجھے پاگل سمجھتے ہو نا؟ دیوانی بڑھیا، جو نہ جانے کیا کیا بک رہی ہے۔۔۔ ہے نا۔۔۔؟ پھر بھی اس لال زعفران کا بھید جاننا چاہتے ہو۔۔۔؟ یا ابھی تمہاری موٹر درست ہونے میں دیر ہے، اور تم اس وقت کو ایک پگلی کی بڑ سن کر ہی کاٹنا چاہتے ہو؟ خیر جو بھی ہو، سننا چاہتے ہو تو سنو!
ہاں تو اس کھیت میں لال زعفران کے پھول تو اسی سال لگے ہیں پہلے یہاں بھی کاسنی پھول ہی اگا کرتے تھے۔ ساری وادی پر بہار آجاتی۔ ایسا معلوم ہوتا کہ کوئی نئی نویلی دلہن زعفرانی دوشالہ اوڑھے لیٹی ہے، اور خوشبو سے یہ سارا علاقہ مہک اٹھتا۔ سڑک پرموٹریں جو گزرتیں ان کی دھول کے بادلوں میں بھی یہ خوشبو پھیل جاتی اور ایسا معلوم ہوتا کہ زمین سے آسمان تک ہر چیز زعفران میں بسی ہوئی ہے۔۔۔
تمہاری ہی طرح ایک اور مسافر بھی ایک بار اس کھیت کے پھولوں کو دیکھنےٹھیر گیا تھا۔۔۔ کئی برس کی بات ہے، کوئی بہت ہی سیدھا آدمی معلوم ہوتاتھا۔ بیچارہ کھیت میں جاکر پھولوں کے بیچوں بیچ میں کھڑا ہوگیا اور لگا نتھنےپھلا پھلاکر ناک سے سانس لینے جیسے پھولوں کو سونگھ رہاہو۔ بلکہ ان کی خوشبو کو پی رہا ہو۔ پھر آپ سے آپ ہی کہنے لگا،
’’عجیب بات ہے کوئی بھی نہیں آئی؟‘‘
میں نےپوچھا،’’کون؟ آخر کس کو کھوجتے ہو؟‘‘
تو جواب ملا،’’ہنسی، ہنسی نہیں آئی۔ عجیب بات ہے حالانکہ کتابوں میں تو۔۔۔ ‘‘
تو بیٹا تب پتہ چلا کہ وہ بیچارہ کتابوں میں یہ پڑھ کر آیا تھا کہ اگر زعفران کے کھیت میں کھڑے ہوکر اس کی خوشبو سونگھو تو آپ سے آپ ہنسی آنے لگتی ہے۔ اتنے میں خدا کا کرنا کیا ہوا کہ سر پر لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے زعفرانی آگئی۔ میں نے جو اسے یہ بات بتائی تو وہ لگی کھل کھلاکر ہنسنے اور وہ اجنبی تو پہلے تو کھسیانا ہوگیا مگر جب اس نے دیکھا کہ زعفرانی کے قہقہے ختم ہونے ہی میں نہیں آتے تو لگا وہ بھی ہنسنے۔ ان دونوں کو ہنستے دیکھ کر مجھے بھی ہنسی آگئی۔ اور بعد میں اجنبی کہنے لگا کہ دیکھ کتابوں کا لکھا پورا ہوا۔ کیونکہ زعفران کے کھیت میں ہم تین ہی کھڑے تھے اور تینوں کاہنسی کے مارے برا حال تھا۔
میں بھی کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔۔۔ بیٹا بڑھاپے میں دماغ قابو میں نہیں رہتا۔ بات کرتے کرتے بہک جاتی ہوں۔۔۔ ہاں تو زعفرانی۔۔۔ کیا کہا۔۔۔ زعفرانی کون۔۔۔؟ ابھی تو بتاچکی ہوں کہ زعفرانی میری بیٹی تھی۔۔۔ نہیں بتایا تھا۔۔۔؟ بھول گئی ہوں گی۔۔۔ لو دیکھ لو یاد کا یہ حال ہے بیٹا۔۔۔ ہاں تو اس کا نام تو اصل میں نوراں تھا، مگر گاؤں میں سب اسے زعفرانی کہہ کر پکارتے تھے۔ بات یہ ہے کہ بچپن ہی سے اس کی رنگت کچھ پیلی پیلی سی تھی، لڑکپن میں بچوں بچیوں کے ساتھ کدال مچایا کرتی تھی، وہ اسے زعفرانی کہہ کر چھیڑا کرتے اور جتنا وہ چڑھتی اتنا ہی وہ اور شور مچاتے زعفرانی! زعفرانی۔‘‘ تم جانو بچے کسی کی مانتے تھوڑا ہی ہیں۔۔۔ ہاں تو جب وہ جوان ہوگئی تو گاؤں کےلڑکے کہنے لگے کہ نوراں جیسی خوبصورت لڑکی تو ہمارے ہاں ایک بھی نہیں ہے۔ اس کی رنگت تو زعفران کے پھول کی طرح ہے۔ اس کی آنکھیں تو کھلے ہوئے کنول ہیں اور نہ جانے کیا کیا اوندھی سیدھی باتیں، مجھے تو اس میں کوئی خوبصورتی و بدصورتی نظر نہیں آتی۔ ایک تو دبلی تھی جیسے چشمہ کے کنارے اگے ہوئے بید۔ بید مجنوں۔ میں کہتی، بھلا ایسی لڑکی بچے کیسے جنے گی؟ اور پھر رنگت بالکل پیلی جیسے بیمار ہو۔ دیدے پھٹے ہوئے۔ اوپر سے یہ کہ تمیز نام کو نہیں، نہ چھوٹے کاخیال نہ بڑے کا۔ بس ہر وقت دھماچوکڑی سےمطلب، میں تو ذرا منہ نہیں لگاتی تھی۔ پھر تین بھائیوں میں ایک بہن تھی وہ بھی دو سے چھوٹی۔ باپ اور دونوں بڑے بھائیوں نے لاڈ پیار میں بگاڑ رکھا تھا۔ میں سوچتی، ایسی لڑکی سے کون شادی کرے گا؟ پر وہاں تو جس کو دیکھو وہ زعفرانی ہی سے بیاہ کرنے پر تلا ہوا تھا۔۔۔ تم لڑکوں کی پسند کا بھی کچھ ٹھیک نہیں بیٹا۔۔۔ ‘‘
ہاں تو پیغام چاروں طرف سے آرہے تھے۔ یہاں تک کہ ذیلدار نے اپنے لڑکے کاپیغام بھی دے دیا جو شہر کے اسکول میں پڑھ رہا تھا۔ بھلا ایک معمولی کسان کی بیٹی کو اس سے اچھا کون بر مل سکتا تھا۔۔۔؟ میں نے سوچا زعفرانی کی قسمت کھل گئی۔۔۔ پر خدا کو تو کچھ او رہی منظور تھا۔ اس سال جاڑے کے موسم میں نمونیہ کا بخار ایسا چلا کہ گھروالا اللہ کو پیارا ہوگیا۔ خدا اسے جنت نصیب کرے، اس کامرنا تھا کہ ہمارے گھر میں تو آفتوں پر آفتیں آنی شروع ہوگئیں۔ مرنے والے نے مہاجن سے قرضہ لے رکھا تھا۔ اس میں زمین کی قرقی ہوگئی اس پر بھی میری ہمت نہ ٹوٹی۔ تین بیٹے تھے نا۔ میں نے سوچا روپے زمین سے کیا ہوتا ہے۔ میری اصل پونجی تو میری اولاد ہے۔ ہاں ایک زعفرانی کی طرف سے فکر ضرور تھی کہ غریب اور یتیم لڑکی کو کون بیاہے گا۔
سیکڑوں برسوں سے ہم اس گاؤں میں رہتے چلے آرہے ہیں۔ کبھی فصل اچھی ہوتی ہے کبھی بُری، کبھی بارش ہوتی ہے کبھی نہیں، کبھی اتنا پانی برستا ہے کہ کھیتیاں بہہ جاتی ہیں کبھی دھوپ میں جل جاتی ہیں۔ کبھی برف میں تباہ ہوجاتی ہیں۔ کبھی ہم اپنی زمین بوتے ہیں کبھی دوسرے کی۔ قسمت کی اونچ نیچ تو ہر ایک کے ساتھ لگی ہی رہتی ہے اور بیٹا کبھی کبھی راجا کے افسر ظلم بھی کرتے ہیں پر راجہ پرجا کا کیا مقابلہ۔ صبر و شکر سے زندگی کسی نہ کسی طرح بسر ہوہی جاتی ہے۔ مگر ٹھیک کہتے ہیں کہ یہ کلجگ ہے کلجگ۔ اس میں جو نہ ہو تھوڑا ہے۔۔۔ کئی برس کی بات ہے ابھی گھر والا زندہ ہی تھا کہ ایک دن میں دھان کوٹ رہی تھی کہ میرا بیٹانورو چلاتا ہوا آیا۔
’’ ماں! شیرِ کشمیر آئے ہیں، شیر کشمیر۔‘‘
بس اتنا کہہ یہ جا وہ جا۔ میں چلاتی ہی رہ گئی کہ ارے اگر شیر آیا ہے تو ذیلدار صاحب کو بول جا کے۔ بندوق لے کے آویں۔۔۔ تھوڑی ہی دیر میں کیا دیکھتی ہوں کہ سارے ہی گاؤں والے تو کیا مرد اور کیا عورت اور کیا بچے بھاگے چلے جارہے ہیں۔ میں نے سوچا شیر کو پکڑ لیا ہوگا تبھی تو عورتیں بچے نڈر ہوکر جارہے ہیں۔ چلو میں بھی تماشہ دیکھوں۔۔۔
وہ نقشہ آج تک یاد ہے مجھے۔ گاؤں کے اس سرے پر اے وہ دیکھو ان درختوں کے پیچھے۔۔۔ایک اسکول ہے۔۔۔اب تو مڈل تک کا ہوگیا ہے۔ پر جب چار جماعتوں ہی کی پڑھائی ہوتی تھی۔۔۔ ہاں تو کیا دیکھتی کہ اسی اسکول کے سامنے ٹھٹ کے ٹھٹ لگے ہوئے ہیں۔ اور سامنے شیر نہ چیتا، ایک لمبا سا گورا سا آدمی چبوترے پر کھڑا زور زور سے کچھ کہہ رہا ہے۔ لو جی یہ تھا وہ شیر کشمیر۔۔۔ میں نے کہا، ’’لو خواہ مخواہ ہی ڈرادیا۔ شیر تو شیر یہ تو کوئی معمولی درجے کا سرکاری افسر بھی نہیں ہے۔ بھلا افسر کہیں گاڑھے کھدّر کے موٹے جھوٹے کپڑے پہنتے ہیں۔ جس طرح سے وہ زور زور سے تقریر کر رہا تھا، اس سے میں سمجھی کہ چائے بیچنے والا ہوگا۔ اب تھوڑی دیر میں کالا توا رکھ کے بھونپو والا باجہ بجائے گا۔ پھر مفت چائے سب کو بانٹے گا، اسی انتظار میں میں بھی وہاں جاکر کھڑی ہوگئی۔ پر وہ تو کشمیری میں بول رہا تھا اور اگر یہ چائے والا تھا تو اس کی چائے تو بہت ہی گرماگرم اور خطرناک تھی۔ میں نے دوچار بول ہی سنے تھے کہ ڈر گئی۔ یا اللہ! اب ہمارے گاؤں پر کوئی نہ کوئی مصیبت ضرور آئے گی۔ وہ باتیں ہی ایسی کر رہا تھا کہ دل دہل جائے۔ ریاست کے اصل مالک راجہ اور اس کے افسر نہیں بلکہ ہم کسان ہیں۔ ہم پر ظلم ہو رہاہے۔ سب کو مل کر اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ آپس میں ایک ہوجانا چاہیے۔ لڑکوں لڑکیوں کو پڑھنا چاہیے، پڑھ لکھ کر یہ کشمیری قوم کے لیڈر بنیں گے اور نہ جانے کیا کیا۔ میں نے تو پوری بات سنی بھی نہیں۔ زعفرانی منہ پھاڑے ایک کونے میں بیٹھی تھی۔ میں اس کا ہاتھ پکڑ گھسیٹتی ہوئی چلی کہ گھر جاکے اس کے باپ سے ایسا پٹواؤں گی کہ پھر کبھی ہمت نہ پڑے۔ ایسی خطرناک جگہ قدم دھرنے کی۔ پھر بھیڑ کےآگے جہاں بڑے بوڑھے بیٹھے ہوئے تھے۔ وہاں کیا دیکھتی ہوں کہ وہ تو خود ہی وہاں بیٹھا بڑے غور سے سُن رہا ہے۔ جل ہی تو گئی میں۔۔۔
تم تو جانتے ہی ہو تلاؤ کے بیج میں ایک پتھر پھینک دو سارے پانی میں ہل چل مچ جاتی ہے، تو بیٹا یہ شیر کشمیر بھی ایسا ہی ایک پتھر تھا جس نے ہمارے گاؤں کے ٹھیرے ہوئے پانی کوہلادیا۔ وہ دن اور آج کا دن، آرام چین، صلح شانتی کانام نہیں رہا۔ جس کو دیکھو بے چین۔ جس کو دیکھو اس کی زبان پر شکایت۔ ہر ایک اپنی زندگی سے نالاں، اس کو بدلنے پر تلا ہوا۔ میں کہتی ارے تمہارے باپ دادا نے بھی تو اپنی عمریں انھیں راجوں مہاراجوں کے افسروں کے ظلم سہتے سہتے روکھی سوکھی کھاکر صبر شکر سے کاٹ دیں، تم میں کون سے سرخاب کے پرلگے ہیں کہ ساری دنیا کو بدلنے پر تلے ہوئے ہو۔۔۔ پر میری کون سنتا ہے بیٹا،۔۔۔ وہ تو اس شیر کشمیر نے جادو ہی ایسا کیا تھا۔۔۔ ہاں، ہاں، بیٹا۔ اس کی بات تو کر رہی ہوں۔ تم بھی کہتے ہوگے یہ کہاں کا جھگڑا لے بیٹھی۔ پر بات یہ ہے کہ نہ تو گاؤں کے ٹھیرے، شانت تلاؤ میں میں شیر کشمیر کی تقریر کا وہ پتھر گرتا اور نہ یہ زعفران کے پھول لال ہوتے۔۔۔ یہ کیسے؟ یہی تو بتارہی ہوں پر تم تو بیچ میں ٹوکتے ہی جاتے ہو۔۔۔
ہمارے گاؤں میں اس کو آئے ہوئے دوچار مہینے ہوئے ہوں گے کہ خبر آئی کہ شیر کشمیر کو راجا نے پکڑ لیا اورجیل میں بند کردیا۔ میں نے کہا چلو اچھا ہوا۔ اب سب اس کی سکھائی پڑھائی باتیں بھول جائیں گے اور وادی میں صبر شکر کے دن پھر لوٹ آئیں گے۔ پر جی اس کی گرفتاری پر تو اور بھی اس کا چرچا ہونے لگا۔ جس کو دیکھو غصے میں بھرا ہوا ہے کہ ہمارے شیر کشمیر کو پکڑلیا۔ اب اس سرکار کی خیر نہیں۔ اور ایسی باتیں کرنےوالوں میں سب سے آگے آگے میرے ہی لڑکے۔ تھوڑے دنوں میں سنا کہ چھٹ گیا۔ میں نے سوچا یہ بھی اچھا ہوا نہیں تو یہ لڑکے سرکار کو برا بھلا کہتے رہتے او رذیلداریا کوئی سرکاری افسر سن لیتا تو لینے کے دینے پڑجاتے۔۔۔
جب تک باپ زندہ رہا تب تک بیٹے کچھ قابو میں رہے۔ اس کا مرنا تھا کہ جس کا جدھر منہ اٹھا ادھر چل دیا۔ زمین تو جاتی ہی رہی تھی بڑا غلام نیر کہنے لگا، میں دوسرے کی زمین پر مزدوری نہیں کروں گا۔ اس سے تو بہتر ہے سری نگر یا گلمرگ میں مسافروں کا سامان اٹھاکر لے جانے کا کام کروں۔ دوتین روپے روز کماسکتا ہوں۔ میں نے لاکھ سرپٹخا پر وہ ایک نہ مانا۔ جب گیا ہے تو سارے گاؤں کے لڑکوں میں سب سے زیادہ چوڑا چکاے سینہ تھا۔ اس کا، چھ مہینے بعد دوچار دن کو جو آیا تو پہچاننا مشکل ہوگیا۔ رنگت زعفرانی سے بھی زیادہ پیلی، آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی۔ ماتھے پر گھاؤ جیسا گہرا گڈھا، جہاں بوجھا سنبھالنے کے لیے مزدور پٹہ باندھتے ہیں اور رات بھر کھانسنا۔ کبھی کبھی تو اتنا کہ ہوش نہ رہتا۔ میں نے کہا یہ کیا حالت ہوگئی تیری۔ کیا بیمار ہے۔ بولا نہیں ماں، بوجھ اٹھانے والوں کے ماتھوں پر ایسا گڈھا تو پڑا ہی رہتا ہے۔ رہی کھانسی تو وہ اس دن تنگ مرگ سے ایک صاحب کاسامان گلمرگ لے جارہا تھا، بیچ میں بارش آگئی، بھیگنے سےزکام کھانسی ہوگئی ہے۔۔۔ چار دن کے بعد جب وہ تنگ مرگ گیا تو منجھلا نورو بھی ساتھ ہولیا۔ کہنے لگا ماں باپ کا لحاظ ہی نہیں رہا تو یہاں رہنے سے کیا فائدہ؟ نورو کو گئے ہوئے تین چار مہینے ہوئے ہوں گے کہ ذیلدار نے شہر سے آکر کہا، غلام نبی کی ماں! اب تمہاری خیر نہیں ہے۔ تمھارا منجھلا بیٹا نورو شیخ عبداللہ کی پارٹی میں مل گیا ہے۔ دن میں کشتی چلاتا ہے، رات کو مزدوروں کے جلسوں میں جاجاکے تقریریں کرتاہے۔ میں نے کہا، بی مینڈکی کو بھی زکام ہوا وہ شیر کشمیر تو سنا ماسٹر تھا پہلے۔ اس کسان کے چھوکرے کو دیکھو یہ بھی چلاہے لیڈری کرنے۔ پر میں نے سب سے کہہ دیا کہ آج سےمیرے سامنےاس کا نام نہ لینا۔ نہ وہ میرا بیٹا۔ نہ میں اس کی ماں۔۔۔
زعفرانی؟ تو اس کا تو ذکر ہی کرنا بھول گئی۔ تو بیٹا اب ہمارے گھر میں رہ ہی گیا تھا کون؟ بس میں، زعفرانی اور سب سے چھوٹا لڑکا غفورا۔ زعفرانی اب بیس برس کی بن بیاہی بیٹھی تھی۔ گھر میں پیسے ہوں تو اس کی شادی کی بات چیت کروں۔ اور یہاں اوّل تو آمدنی ہی صفر تھی۔ ادھر سنا سمندر پار ولایت میں لڑائی شروع ہوگئی، تو مہنگائی کا یہ عالم ہوا کہ بس کچھ پوچھو مت۔ میں اور زعفرانی دونوں کام کرتے تھے۔ کبھی کسی کے کھیت پر کبھی جنگل سےلکڑیاں چن لاتے، کبھی پانی بھرتے، کبھی اون کاتتے تب جاکے دو وقت چولہا جلتا۔ میں نے کہا۔ غفورا دس برس کا ہوگیا، لاؤاس کو بھی کام پر لگادیں پر زعفرانی بولی نہیں ماں، ہم تو غفورا کو مدرسے پڑھنے بھیجیں گے۔ میں نے کہا پاگل ہوگئی ہے۔ پر وہ ایک نہ مانی، مجھ سے کہے سنے بغیر اگلے دن سویرے خود اسے لے جا مدرسے میں داخل کروا آئی۔ جوان برابر کی لڑکی۔ اب میں اسے کہوں بھی تو کیا کہوں۔ پھر اس کے بیاہ نہ ہونےکا بھی دکھ تھا۔
اس واسطے میں چپ ہی ہوگئی۔۔۔ مگر میرا ماتھا ضرور ٹھنکا کہ آج اس گھر کا پہلا لڑکا مدرسے گیا ہے۔ اب نہ جانے کون سی مصیبت آئے گی۔۔۔ پر بیٹا اس لونڈیا پر تو پڑھائی کا بھوت سوار تھا،دن رات بھائی کے پیچھے پڑی رہتی۔۔۔ مدرسے سے آتا تو کہتی گھر پر بیٹھ کر پڑھ۔ حساب کے سوال پوچھنے ماسٹر کے ہاں جا، یہ کر، وہ کر۔ اس کابس نہ چلتا تھا کہ کتابیں گھول کر غفورا کو پلادے۔۔۔ جس گھر میں بیری کا پیڑ ہوتا ہے بیٹا وہاں پتھر تو آتے ہی ہیں۔ بیس اکیس برس کی لڑکی، پھر شکل صورت میں حور کا بچہ نہیں تھی تو کانی، بھینگی، چیچک داغ بھی نہیں تھی، اور تم جانو آج کل کتے لونڈے، شہر جاکے سنیما، بائسکوپ، ناچ رنگ نہ جانے کیا کیا دیکھ کے کتنے آوارہ ہوگئے ہیں۔ ایک دن زعفرانی لکڑیاں چننے گئی تھی کہ کیا دیکھتی ہوں کہ خالی ہاتھ واپس چلی آرہی ہے۔ زاروقطار روتی ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ کیا ہوا، تو کچھ جواب نہیں۔ بس روئے چلی جارہی ہے۔ اری کمبخت کچھ کہے گی بھی کیا ہوا۔ کسی نےمارا، گالی دی۔ چوٹ لگ گئی۔ آخر ہواکیا؟ اس کاجواب سن کر میں تو دنگ رہ گئی، بیٹا بات ہی اس نے ایسی کہی جو کسی ماں نے اپنی بیٹی کی زبان سے کبھی نہیں سنی ہوگی۔ کہنے لگی،
’’ماں! میرا بیاہ کردو۔‘‘ اور پھر لگی رونے۔ دس دفعہ پوچھا تب یہ بات کھلی کہ لکڑیاں چن رہی تھی کہ ذیلدار کالڑکا جو شہر سے آیا ہوا ہے اِدھر آن نکلا اور لڑکی کواکیلادیکھ کر لگا اسے چھیڑنے اور اول فول بکنے۔ جب زعفرانی نے جھٹکا تو اس کاہاتھ پکڑ کر بد ارادے سے اپنی طرف گھسیٹنے لگا۔ بڑی مصیبت سے ہاتھ چھڑا کر بھاگتی ہوئی آئی تھی بیچاری۔ مگراس بدمعاش کی ہول بیٹھی ہوئی تھی، دل میں ابھی تک پتے کی طرح تھر تھر کانپ رہی تھی اور رو رہی تھی۔ اور جب ہچکیاں ذرا رکتیں تو یہی کہتی۔
’’ماں! میرا بیاہ کردو، نہیں تو ایک دن میری عزت مٹی میں مل جائے گی۔۔۔‘‘
اب تم ہی بولو بیٹا، غریب عورت کرے تو کیا کرے۔ جب دمڑی پاس نہ ہو تو کس برتے پر لڑکی کا بیاہ رچائے۔۔۔ پھر بھی میں نے ادھر ادھر نگاہ ڈالی کہ کوئی غریب مگر طبیعت کا شریف آدمی مل جائے جو زعفرانی کو بیاہ لے، تو یہ فکر تو دور ہوجائے۔ مگر پچاس ساٹھ روپے تب بھی چاہئیں۔ زمین۔ زیور یہاں تک کہ میرے اور زعفرانی کے کانوں کے بالے بھی بک چکے تھے۔ اب تو کچھ بھی نہیں تھا جس کے سہارے قرضہ ہی مل جاتا۔ اسی ادھیڑ بن میں لگی ہوئی تھی کہ ایک دن ایک آدمی آیا۔ شکل صورت سے بیچارہ قلی معلوم ہوتا تھا۔ وہی ماتھے پر پٹے کانشان،عمر پتہ نہیں کیا تھی؟ پر پچاس کا معلوم ہوتا تھا۔ کہنے لگا،
’’غلام نبی نے یہ بھیجا ہے۔ میں اس کا دوست ہوں محمدو۔‘‘ یہ کہہ کر ایک میلے سےکپڑے کی پوٹلی میرے سامنے رکھ دی۔ کھول کر دیکھا تو نوٹ اور روپے اور کچھ ریزگاری۔ گنے تو پانچ اوپر ساٹھ روپے اور دس آنے ہوئے۔ وہ بولا،
’’غلا م نبی نے کہا تھا کہ ماں سے کہنا، اس روپے سے زعفرانی کا بیاہ کردیں۔‘‘
میں نے خدا کا شکر کیا کہ بیٹے کے دل میں ماں بہن کاخیال تو آیا۔ پھر محمدو کے منہ پر کچھ عجیب سی حالت دیکھ کر میں نے پوچھا،
’’غلام نبی کا کیا حال ہے؟ وہ نہیں آیا؟‘‘
محمدو کے گلے میں آواز پھنسی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ ٹھیر ٹھیر کر بولا جیسے بولنا نہ چاہتا ہو۔
’’ماں جی! غلام نبی تو چل بسا۔ اسے دِق ہوگئی تھی۔‘‘ اور بس — چپ ہوگیا۔
بیٹا! تم لوگ نہیں سمجھ سکتے کہ بیٹے کی موت کا ماں پر کیا اثر ہوتا ہے۔۔۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کلیجے کا ٹکڑا کسی نے کاٹ کر نکال لیا ہو۔ ماں نو مہینے بچہ کو پیٹ میں رکھتی ہے نا۔ دو سال دودھ پلاتی ہے۔ بچہ اس کے خون، اس کے گوشت پوست سے بنتا ہے اور پھر وہ بڑا ہوکر غلام نبی کی طرح چوڑے چکلے سینے والا نوجوان ہوجاتا ہے اور پھر گدھے کی طرح صاحب لوگوں کاسامان ڈھوتے ڈھوتے خون کی کھانسی کھانستا ہوا مرجاتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ماں بھی مرجاتی ہے۔۔۔ اور سب سے بڑی موت یہ ہوتی ہے کہ وہ پھر بھی زندہ رہتی ہے۔۔۔
میرا تو، جو حال ہوا سو ہوا، زعفرانی پر بھائی کی موت کا کچھ عجیب ہی اثر ہوا، چھوٹے بھائی کی پڑھائی کی اور بھی فکر پڑگئی۔ ہر وقت اس کی جان پر سوار رہتی کہ پڑھ۔ تختی لکھ۔ مدرسے کا کام کر۔ گھڑی بھر کھیلنے کی بھی چھٹی نہ دیتی جیسے اسے کوئی خاص جلدی ہو کہ سال بھر کی مدرسے کی پڑھائی دو چار دن ہی میں پوری ہوجائے۔ نہ جانے کیوں اتنی جلدی تھی اسے۔ نہ جانےکیوں؟
ہاں اور محمدو کے پاس بیٹھ کر زعفرانی نے بھائی کے آخری دنوں کا سب حال کرید کرید کر پوچھا۔
’’کب اور کیسے بیمار پڑا، علاج ہوا یا نہیں؟ کیا سب سامان ڈھونے والے مزدوروں کو اسی طرح دق ہوجاتی ہے؟‘‘
اور جب محمدو نے کہا،
’’ہاں بہت سوں کو،‘‘ تو نہ جانے کیوں زعفرانی نے اس سے پوچھا،
’’تو کیا تم واپس جاکر پھر یہی کام کرنے لگوگے؟ یہاں کیوں نہیں رہ جاتے۔۔۔؟‘‘ نہ جانے کیوں۔۔۔
میرے کہنے سے محمدو ہمارے یہاں تین دن اور ٹھیرا۔ جس روز وہ جارہاتھا میں نے اس سے پوچھا،
’’کیوں محمدو جب یہ کام اتناخطرناک ہے تو چھوڑ کیوں نہیں دیتا؟‘‘
وہ بولا،
’’چھوڑ کر کیا کروں گا، ماں جی؟ اور کوئی کام آتا نہیں ہے۔ اور پھر کوئی آگے ہے نہ پیچھے۔ نہ ماں نہ باپ۔۔۔‘‘
میں نے جلدی سے پوچھا،
’’اور بیوی؟‘‘
اس نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا،
’’کب کی مرگئی۔‘‘
پتہ نہیں وہ میرا مطلب سمجھا یا نہیں، پر میں نے کہا،
’’دوسری کیوں نہیں کرلیتے؟‘‘
اس کو تین دن میں میں نے ہنستے تو کیا مسکراتے بھی نہ دیکھا تھا۔ پر اس بات پر اس کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک پیدا ہوئی اور اس کے سوکھے چمڑے جیسے چہرے پر ہنسی کی جھریاں پڑگئیں۔
’’مجھ سے کون بیاہ کرے ہے، ماں جی؟‘‘
تو بیٹا یوں زعفرانی کا بیاہ محمدو سے طے پایا۔
کیا کہا؟ زعفرانی کی رائے؟ بیٹا بھلا شادی بیاہ کیا لڑکیوں کی صلح سے ہوتے ہیں۔ پر میں نے زعفرانی سےذکر کیا کہ اگلے چاند کی بیسویں کو محمدو اسے بیاہنے آئے گا۔ تو یہ تو میں نہیں کہوں گی کہ وہ سن کر خوش ہوگئی۔ بھلا شریف لڑکیاں کیا شادی کے ذکر پر خوش ہواکرتی ہیں۔۔۔ پر اس کے چہرے سے اطمینان ضرور ٹپکتا تھا۔ جیسے اب اس کی کوئی چنتا دور ہوگئی ہو۔۔۔
شادی کی چھوٹی موٹی تیاریوں میں دن گذر گئے۔ ہاں بیٹا، آخر ہم غریبوں کو بھی کچھ نہ کچھ تو دینا ہی پڑتا ہے۔ چاہے ایک ہی جوڑا اور دو چاندی کے بالے ہوں۔ جس دن محمدو آنے والا تھا اسی دن میں نے سویرے ہی اسے اٹھاکر، نہلا دھلاکر شادی کا جوڑا پہنادیا۔ گلابی رنگ کا پیراہن اور اس کے نیچے سبز پھول دار جھینٹ کی شلوار۔ ہم پرانے زمانے کی کشمیری عورتیں تو بس لمبے لمبے پیراہن ہی پہنا کرتی تھیں۔ مگر اسی شیر کشمیر کے کہنےسے آج کل لڑکیوں نے شلواریں بھی پہنیم شروع کردی ہیں۔ یہاں تک کہ زعفرانی تو مجھے بھی مجبور کرتی تھی کہ ماں شلوار پہنو نہیں تو شیر کشمیر خفا ہوجائیں گے۔ شیر ویر سے ڈرے میری بلا، پر اور عورتیں بھی اب شلوار پہننے لگی تھیں۔ سو میں نے سوچا میں ہی کیوں نکو بنوں۔ سو میں نے بھی سلوالی۔
اتنا غصہ آیا ہے مجھے اس شیر کشمیر پر کہ کمبخت کو اگر پکڑا جانا تھا تو کیا اسے وہی دن جڑا تھا؟ جب میری بیٹی کا بیاہ طے پایا تھا، یکایک سارے گاؤں میں شور مچ گیا، ’’شیر کشمیر پکڑے گئے۔ شیر کشمیر پکڑے گئے،‘‘ مجھے کیا پتہ کیوں سرکار نے اسے پکڑا تھا۔۔۔ میری طرف سے اگر سال کے بارہ مہینے قید رکھا جاتا تو اور بھی اچھا تھا۔ پر یہ ضرور سنا کہ اب کے اس نے خود راجہ ہی کو ریاست سے باہر نکالنے کی بات چلائی تھی۔ میں نے کہا اب کے اِس شیر نے شیر ببر کے بھٹ میں پنجہ ڈالا ہے، اب یہ زندہ نہیں بچے گا۔ باہر شور کی آواز ہوئی تو میں گلی میں آئی، یہ سوچ کر کہ شاید محمدو اور اس کے ساتھی برات لائے ہوں، مگر وہاں تو بچے دھینگا مشتی مچارہے تھے۔ دو چار لال جھنڈے جن پر ہل بنا ہواتھا، لیے، ’’شیر کشمیر زندہ باد‘‘، ڈوگرا راج مردہ باد‘‘ کہتے پھر رہے تھے اور ہمارا نورو چھ اینٹوں کا چبوترہ بنائے سفید کھریا سے دیوار پر کچھ لکھ رہا تھا اور زور زور سے ہجے پڑھتا جاتا تھا۔۔۔ ’’ک ش م ی ر چھ و ڑ د و۔۔۔۔‘‘ اور زعفرانی دروازے میں کھڑی غفورا کو دیکھ رہی تھی اور اب اس کے چہرے پر اتنی خوشی تھی جیسے اس نے کوئی بڑا کام پورا کرلیا ہو۔
ہاں تو ابھی میں اندر جاکر بیٹھی ہی تھی کہ باہر سے رونے او رچلانے کی آوازیں آئیں۔ میں نے جو دیکھا تو پاؤں تلے کی زمین نکل گئی۔ ایک خاکی رنگ کی موٹر لاری کھڑی تھی اور اس میں سے سپاہی کود کر، بچوں کو لاٹھیوں سے مار رہے تھے، میں دیوار کی طرف دوڑی، جہاں پل بھر ہوئے غفورا کھڑا ہوا کھریا سے لکھ رہا تھا۔ پر غفورا وہاں نہیں تھا۔ ہاں خون کی ایک لکیر زمین پر کھینچی ہوئی تھی اوراس لکیر کی سیدھ میں جو میں نے دیکھا تو غفورا کو زمین پر بیہوش پڑا پایا۔ اس کے سر میں ایک گہرا گھاؤ تھا،جس میں سے خون بہہ رہا تھا اور اس کے ہاتھ میں ابھی تک کھریا کاٹکرا تھا۔۔۔ میں اپنے غفوراکو اٹھاکر اندر لے آئی اور وہاں اپنی بہن کی گود میں اس نےجان دے دی او ربے ہوشی میں بھی آخر وقت تک اس کے ہونٹ انھیں حرفوں کو دہراتے رہے جنہیں وہ باہر دیوار پر لکھنے کی کوشش کر رہاتھا۔ ک۔ش۔م۔ی اور ابھی ر نہیں کہہ پایا تھا کہ گڑگڑاہٹ کے ساتھ ایک ہچکی آئی اور اس مہینےمیں دوسری بار مجھے موت آئی پر نہ آئی۔۔۔
اور اس کے بعد کیا ہوا بیٹا، یہ مجھے ایسا یاد ہے، جیسے کوئی ڈراؤنا خواب ہو جس میں ایک خوف ناک بات کا دوسری خوف ناک بات سے کوئی تعلق نہ ہو، مگر پھر بھی خوف اور دہشت کاپہاڑ اٹھتا چلا جائے۔۔۔
زعفرانی کی آنکھیں جو کبھی کنول سےملتی جلتی ہوا کرتی تھیں اس وقت دو دہکتے ہوئے انگاروں کی طرح تھیں۔۔۔ آنسوؤں کانام نہیں تھا نہیں تو وہ آگ بجھ جاتی جو اس وقت ان میں سلگ رہی تھی۔۔۔
اور پھر سارے گاؤں والوں کا ایک جلوس،مردوں سے آگے عورتیں اور عورتوں میں سب سےآگے زعفرانی۔ وہی اپنی شادی کا جوڑا پہنےہوئے اور اس کی آنکھوں میں وہی دہکتی ہوئی آگ۔ اور یہ سارا مجمع گاہے ہوئے کھیتوں میں سے ہوکر سڑک کی طرف جاتاہوا۔ جہاں بالکل اسی جگہ جہاں تمہاری موٹر کھڑی ہے، سپاہیوں کی خاکی لاری کھڑی تھی۔
بڑی بڑی مونچھوں اور کالی رنگت والے سپاہی اور ان کی بندوقیں جو ٹکٹکی باندھے اس جلوس کی طرف، ان عورتوں کی طرف، زعفرانی کی طرف دیکھ رہی تھیں۔۔۔
ایک تڑاخہ۔ دس بارہ تڑاخے، سب تتر بتر ہوکر بھاگے اور اس کھیت کے بیچوں بیچ اپنی چھاتی کو سنبھالتی ہوئی زعفرانی نرم مٹی میں اس طرح گری جیسے ماں کی گود میں بچہ آن کر گر پڑے۔ میں ادھر بھاگی۔ پر جب تک میں پہنچوں زعفرانی کی چھاتی میں سے خون کی ایک دھار بہتی ہوئی کھیت کی سوکھی مٹی کو سیراب کر رہی تھی۔۔۔ عورت کی چاتھی اور اس میں سے دودھ کے بجائے خون۔۔۔ خون مٹی میں مل رہا تھا۔۔۔
اور میری بیٹی میری گود میں جان دے رہی تھی۔ پر مرتے دم تک اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی، اور نہ جانےکیوں آخری ہچکی سے پہلے اس نے مسکراکر مجھ سے کہا،
’’میرا بیاہ ہوگیا ماں۔‘‘
یہیں اسی کھیت میں جہاں تم اب گل لالہ کی طرح سرخ زعفران کے پھول دیکھتے ہو۔
سنی بیٹا، تم نے میری کہانی۔۔۔؟ پر تم کہاں ہو؟ چلے گئے نہ تم۔۔۔؟ میں نہ کہتی تھی کہ ابھی تمہاری موٹر ٹھیک ہوجائے گی اور تم لوگ چلے جاؤگے اور کہانی نہ سن پاؤگے۔
موٹریں تو اس سڑک پر سے گزرتی ہی رہتی ہیں بیٹا، پل دو پل کو ٹھیرتی بھی ہیں۔ پھر دھول کے بادل اڑاتی چلی جاتی ہیں۔ پر یہ زعفران کی کھیتی یوں ہی کھڑی رہے گی۔ یہاں تک کہ پھول چننے کا وقت آجائے گا۔ اور یہ لال لال لہو کی بوندوں جیسے شگوفے سکھاکر دساور کو بھیج دیے جائیں گے۔ اور نہ جانے ان کی خوشبو کہاں کہاں اور کس کس کے دسترخوان پر سےمہکے گی اور تمہاری طرح کتنے ہی آدمی سوال کریں گے کہ ’’اس زعفران کا رنگ لہو کی طرح لال کیوں ہے۔۔۔؟‘‘ پر کوئی نہ بتاپائے گا۔ کیونکہ اس کی وجہ تو صرف میں ہی جانتی ہوں۔۔۔