سونے کی چار چوڑیاں
بارش نے رات کے اندھیرے کو اور گہرا کردیا تھا۔ ایسا لگتا ہے (سڑک کے کنارے پیڑ کے نیچے کھڑے ہوئے شنکر نے سوچا) بھگوان بھی بادلوں کا لحاف اوڑھ کر سوگیا ہے اور اس وقت دنیا میں میں اکیلا ہوں۔ صرف میں ہوں اور دل کی دھڑکن ہے۔
اور پھر ایک بار بجلی چمکی تو اس نے سوچا میری زندگی بھی اس سڑک کی طرح ہے۔ یہ سڑک جو جُنار کے قصبے تک جاتی ہے۔
ناسک۔۔۔ وہ پوتر تیرتھ استھان جہاں بھگوان رام نے اپنے بن باس کے دنوں میں کبھی قیام کیا تھا۔
جُنّار۔۔۔ وہ تاریخی مقام جہاں چھتر پتی شواجی کا جنم ہوا تھا۔
ایک طرف ناسک ہے (وہ سوچ رہا تھا) دوسری طرف جنّار ہے اور ان کے بیچ میں یہ سڑک ہے جو رات دن موٹروں، بسوں، لاریوں اور ٹرکوں سے روندی جاتی ہے۔ ایک ایک لاکھ کی موٹر میں دو دو لاکھ کے ہیرے جواہرات سے لدی ہوئی سیٹھوں کی عورتیں ہوتی ہیں۔ ایک ایک ٹرک میں لاکھوں کا سامان بھرا ہوتا ہے۔
وہ سب سڑک کے سینے کو زخمی کرتی ہوئی گزر جاتی ہیں اور سڑک کے گھاؤ گہرے ہوتے جاتے ہیں۔ اب زخموں میں کیچڑکی پیپ بھری ہوئی ہے۔ اوپر سے موسلادھار بارش۔ پہاڑی کی ڈھلان سے پانی کا ریلا بہتا ہوا آرہا ہے۔ کھیتوں کو سمندر بناتا ہوا سڑک کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آج کی رات سڑک پانی میں ڈوب جائے گی۔ آج کی رات یہ بوڑھی گھائل سڑک مرجائے گی اور وہ تمام امیدیں اور آرزوئیں جو دھان کی نرم نرم کونپلوں کی طرح نہ جانے کتنے برسوں سے اس کے من کے اندھیرے میں پروان چڑھ رہی تھیں، آج دم توڑدیں گی۔
یہ سڑک جو ناسک سے شروع ہوتی ہے اور جُنّار پر ختم ہوجاتی ہے۔ یہ سڑک (شنکر نے پھر سوچا) جو میری زندگی کی طرح ہے جو شروع ہوئی تھی اس پاٹھ شالا سے جہاں میرا باپ بچوں کو پڑھایا کرتا تھا۔ کتنا چاہتا تھا بابا مجھے ایک بھی دن اس نے مجھے یہ محسوس نہ ہونے دیا کہ میری ماں زندہ نہیں ہے۔ اس نے مجھے ماں کی مامتا بھی دی اور باپ کا پیار بھی۔ کتنے بلند حوصلے تھے اس کے۔ کہتا تھا اپنے بیٹے کو اسکول پاس کراکر کالج بھیجوں گا۔ دیکھنا میرا شنکر ایک دن افسر بنے گا افسر پھر تم سب اسے سلام کرو گے مگر ابھی میں مڈل بھی پاس نہ کرپایا تھا کہ بابا بھگوان کو پیارے ہوگئے۔ جو کچھ انہوں نے میری پڑھائی کے لیے جمع جوڑ کر رکھی تھی۔ وہ سب ان کی بیماری اور کریا کرم میں لگ گیا۔ گھر پر ساہوکار نے قبضہ کرلیا۔ اور میری زندگی گھر اور پاٹھ شالہ سے نکل کر اس سڑک پر آگئی۔ چوراہے پر موٹریں ٹھہرتیں اور میں دوڑ دوڑ کر مسافروں کو ہوٹل سے چائے سوڈا لیمن لالا کر دیتا۔ موٹروں کے ریڈیئٹر میں ٹھنڈا پانی لالا کر ڈالتا۔ راستے کی گرد کو رگڑ رگڑ کر صاف کرتا۔ اور جاتے جاتے موٹر والا سیٹھ میری طرف اِکنّی دونّی پھینک دیتا۔ میں اسے ملٹری سیلوٹ مار کر سلام کرتا اور ایسی ہی بخشش کی کھوج میں دوسری موٹر کی طرف دوڑ جاتا اور رات کو جب آخری موٹر گزر جاتی اور چوراہے پر سناٹا چھا جاتا میں ہوٹل کے چھجے کے نیچے زمین پر لیٹ کر سوجاتا۔
شنکر جو چوربازار سے خریدی ہوئی پرانی فوجی برساتی اوڑھے ہوئے تھا اس میں سے پانی رِس رِس کر اس کی قمیص میں سے ہوتا ہوا اس کے سینے تک پہنچ چکا تھا اور اب فراٹے بھرتی ہوئی ٹھنڈی ہوا برف کے نشتروں سے اس کے بدن کو گدگدا رہی تھی۔ ایسی حالت میں اس کے لیے کچھ سوچنا بھی تو مشکل تھا۔ اس نے برساتی کے کالر کو چڑھاکر بٹن لگالیے تاکہ ہوا سے بچ سکے۔ اتنے میں اتنے زور سے بجلی چمکی کہ ایک پل کے لیے نہ صرف کیچڑ میں لت پت سڑک چمک اٹھی بلکہ دور کی پہاڑی بھی ایک اونٹ کے کوہان کی طرح ابھر آئی۔ اتنے زور کی کڑک سنائی دی کہ شنکر کے پاؤں تلے سے زمین ہل گئی اور پھر اندھیرا چھا گیا۔ اندھیرا اور سناٹا۔ اور اس پل میں اس نے ایک چکنی لمبی چیز کو اپنے دائیں پیر کے جوتے پر سے پھسلتے اور گزرتے ہوئے محسوس کیا۔
’’سانپ!‘‘ اس نے سوچا۔
اور آپ سے آپ اس کا سارا بدن اکڑ کر ساکت ہوگیا۔ اس وقت خیریت اسی میں تھی کہ ذرا سی بھی جنبش نہ کرے ورنہ اس اندھیرے اور بارش میں سانپ نے اسے ڈس لیا تو اتنی رات گئے اس کو سانپ کا توڑ ملتے ملتے اس کی تو جان ہی نکل جائے گی۔ سانپ کو اس کے پاؤں پر سے گزرنے میں مشکل سے دو تین سیکنڈ لگے ہوں گے مگر اس وقت اسے ایسا لگا کہ نجانے کتنے گھنٹے ہوگئے۔
سانپ کی دم اس کے پیر پر سے گزر گئی تب بھی دوچار پل کے لیے وہ ساکت ہی کھڑا رہا کہ کہیں کالا پلٹ نہ پڑے تب ہی اس نے برساتی کی جیب سے اپنی پانچ سیل کی لمبی ٹارچ نکالی اور اس کا بٹن دباکر روشنی کی۔ گھاس۔ کیچڑ اور بارش میں سانپ تو نہ جانے کہاں چھپ گیا تھا لیکن اس نے سڑک کی طرف ٹارچ کا رخ کیا تو کیچڑ اور پانی سے بھرے ایک گڑھے کے گرد سنہری روشنی کے کتنے ہی چھلے بن گئے تھے۔ نہیں یہ سنہری روشنی کے چھلّے نہیں تھے، چوڑیاں تھیں، چار سنہری چوڑیاں۔
سونے کی چار چوڑیاں جن کے بنا وہ پاروتی کو نہیں حاصل کرسکتا۔
پاروتی۔۔۔ بڑی بڑی آنکھوں والی۔ کالے چکنے بالوں والی پاروتی۔۔۔ جس کی رنگت نئی فصل کے پکے ہوئے گیہوں کی طرح سنہری تھی۔ پاروتی جو اس کا مستقبل تھی۔ اس کی زندگی کی سڑک کا جنّار تھی، جس کے بنا اس کا جیون ایسا ہی تھا جیسے یہ سڑک جس کے بدن پر گڑھوں کے گھاؤ تھے۔ کیچڑ کی پیپ تھی اور جو کوئی دم میں ڈوب جانے والی تھی، مر جانے والی تھی۔ مگر پاروتی تو کھیڈ گاؤں کے معاملے دار کی بیٹی تھی اور بڈھا اپنی چہیتی کو ایک بیکار، آوارہ نوجوان کے پلے باندھنے کو تیار نہیں تھا جو چوراہے پر موٹروں کے پیچھے بھاگ بھاگ کر روزی کماتا ہواور جس کے پاس اپنی دلہن کے پہنانے کے لیے سونے کی چار چوڑیاں بھی نہ ہوں۔
شنکر نے جنّار کے ایک سنار سے سونے کی چار چوڑیوں کی قیمت پوچھی تھی اور اسے بتایا گیا تھا کہ چار تولے سونا بارہ روپے کا ہوگا اور چار چوڑیوں کی بنوائی پر کم سے کم چالیس پچاس روپے لاگت آئے گی۔
پاروتی اتنی خوبصورت تھی کہ اس کو پانے کے لیے چار تولے کیا بیس تولے سونا بھی کم تھا۔ مگر شنکر نے حساب لگایا تھا کہ چوراہے پر کام کرکے اگر وہ چونّی روز بچائے تو اس چار سونے کی چوڑیوں کو حاصل کرنے میں کم سے کم بارہ برس لگیں گے اور اتنے دنوں میں سونے کا بھاؤ بڑھ گیا تو پھر برس چھ مہینے اور۔۔۔ اتنے دن کیا وہ انتظار کرسکتا ہے؟ نہیں (اس نے فیصلہ کرلیا تھا) اسے بہت سے روپے کمانے کا کوئی اور ڈھنگ سوچنا ہوگا۔
اور سو وہ ایس-ٹی کی بس میں بیٹھ کر بمبئی پہنچ گیا۔ وہاں اس نے جوتے پالش کیے۔ اکنّی دونّی کے لیے ٹیکسیوں کے پیچھے دوڑا۔ چھوٹے موٹے ہوٹلوں میں بیرا بن کر بوائے کہلایا۔
مگر یہ سب کرنے پر بھی وہ دس روپے سے زیادہ جمع نہ کرپایا۔ پھر ایک دن اس کے ایک جاننے والے نے اسے کپڑے کا ایک تھیلا دیا اور کہا۔ اس میں وہسکی کی دو بوتلیں ہیں انھیں وارڈن روڈ پر فلاں بلڈنگ میں فلاں نمبر کے فلیٹ پر پہنچا آؤ۔ دس روپے دوں گا۔ شنکر نے سوچا یہ تو بہت ہی اچھا کام ہے۔ بس میں آ نے جانے کے تو صرف آٹھ ہی آنے لگیں گے۔ پورے ساڑھے نو روپے کا فائدہ ہے۔
اور ایسا ہوا بھی۔ بلکہ جہاں اس نے بوتلیں پہنچائیں، اِس سیٹھ نے بھی ایک روپیہ انعام دے دیا۔ پھر کیا تھا شنکر باقاعدہ شراب سپلائی کرنے کا دھندا کرنے لگا۔ جلد ہی اس کے پاس دو سو سے زیادہ روپے جمع ہوگئے۔ وہ چاہتا تو بہ آسانی سونے کی چار نہیں تو دو چوڑیاں بنواکر واپس کھیڈ گاؤں چلا جاتا۔ مگر اب تو اسے روپے کمانے کا بھید معلوم ہوگیا تھا۔ اب تو وہ چاہتا تھا کہ دوچار ہزار روپے اکٹھے ہوجائیں تو پھر گھر جاؤں تاکہ پاروتی کے لیے نہ صرف چار چوڑیاں بنواسکوں بلکہ اس کے اور اپنے ہونے والے بچوں کے لیے ایک چھوٹا موٹا سا گھر بھی بنوالوں۔ ابھی وہ گھر بنوانے کے لیے سپنے ہی دیکھ رہا تھا کہ ایک دن ماہم کے نالے پر اس کے ہاتھ سے وہ کپڑے کا تھیلہ گر پڑا۔ بوتلیں ٹوٹ کر شراب سڑک پر بہہ نکلی اور وہ پکڑا گیا۔
پہلی بار دو مہینے کی سزا ہوئی۔
دوسری بار تین مہینے کی۔
تیسری بار جب وہ جیل سے چھوٹا تو شہر بدر یعنی بمبئی کے مقامی محاورے میں ’’تڑی پار‘‘ کردیا گیا۔ اور اب اسے کھیڈ گاؤں واپس آنا پڑا۔
اور تب سے اس نے سونے کی چوڑیاں بنوانے کے لیے ایک نیا راستہ اختیار کیا تھا۔ گاؤں سے باہر رات کو وہ سڑک پر نوک والی کیلیں بکھیر دیتا تھا جن پر سے گزرنے والی موٹر کا پنکچر ہوجاتا۔ اس کا پہیہ بدل دیتا۔ سلف اسٹارٹر کام نہ کرتا ہو تو دھکا دے کر موٹر اسٹارٹ کرادیتا۔ اس کام کے بدلے میں اسے روپیہ سوا روپیہ مل جاتا لیکن اصل کمائی اس کی کچھ اور ہی تھی۔ جیسے ہی موٹر اسٹارٹ ہونے لگتی، وہ اندھیرے سے فائدہ اٹھاکر اس میں سے کوئی چیز اڑا لیتا۔ ایک بار تو پیچھے لگے ہوئے گیرج کیرئر میں سے اس نے ایک چھوٹا سا سوٹ کیس ہی اتار لیا تھا۔ مگر بدقسمتی سے اس میں صرف اونی کپڑوں کے سیمپل ہی بھرے ہوئے تھے۔ پھر بھی سوٹ کیس کے اسے پانچ روپے مل گئے تھے۔ دوسرے موقعوں پر وہ زیادہ کامیاب رہا تھا۔ ایک بار ایک ٹرانسسٹر بلیک میں ساڑھے تین سو میں بکا تھا۔ کمبل، شال، ہینڈ بیگ، کوٹ، برساتی جو چیز بھی آسانی سے اس کے ہاتھ میں آجاتی وہ اسے کبھی نہیں چھوڑتا تھا۔ ایک بار کچھ نہیں ملا تو اس نے پٹرول کی ٹنکی کی ’’کیپ‘‘ اتار کر ایک روپے میں بیچ دی تھی۔
اور اس طرح اس کے پاس لگ بھگ پانچ سو روپے جمع ہوگئے تھے۔ بس اب سونے کی چوڑیوں کا آرڈر دینے میں صرف چند سو روپے کی کسر رہ گئی تھی۔ کمبخت بارش نہ ہوتی تو شاید آج ایک ہی رات میں وہ کسر بھی پوری ہوجاتی مگر (اس نے سوچا) بارہ سو روپے ہوجائیں گے۔ چار تولے سونا بھی آجائے گا۔ اس سے سونے کی چار چوڑیاں بھی بن جائیں گی پھر بڈھا معاملت دار بھی بیٹی دینے کے لیے راضی ہوجائے گا۔ لیکن پاروتی کے من کو کون بدلے گا۔ جب سے وہ بمبئی سے لوٹا تھا نہ جانے اسے کیا ہوگیا تھا۔ پہلے تو وہ اس سے ہنس ہنس کر باتیں کیا کرتی تھی۔ مسکراتی ہوئی آنکھوں سے دیکھا کرتی تھی لیکن اب وہ شنکر کو دیکھتے ہی دوسری طرف منہ پھیرلیتی ہے جیسے اس کی صورت دیکھنا بھی اسے گوارا نہ ہو۔ ایک دن اکیلے پاکر اس نے پاروتی سے پوچھ ہی لیا۔
’’اری تجھے کیا ہوگیا ہے۔ سیدھے منہ بات ہی نہیں کرتی۔ جب بھی ملتی ہو مجھے ایسے دیکھتی ہو جیسے میں کوئی زہریلا کیڑا ہوں۔ آخر میں نے ایسا کون سا پاپ کیا ہے؟‘‘
اور پاروتی کے جواب میں اتنی ٹھنڈی کڑواہٹ تھی کہ سن کر وہ لاجواب رہ گیا تھا۔ اس نے کہا تھا،
’’مجھے نہیں معلوم۔ تم نے کیا کیا ہے۔ اور تم اب کیا کرتے ہو مگر تمہارے پھٹکار مارے چہرے پر لکھا ہوا ہے کہ تم کوئی پاپ ضرور کرتے ہو۔‘‘
یہ سن کر بھی اس نے سوچا تھا۔ شائد پاروتی مذاق ہی کر رہی ہو۔ سو اس نے پوچھا تھا، ’’کیا سچ مچ تو مجھ سے بیاہ نہیں کرے گی؟‘‘
اور پاروتی نے منہ چڑا کر کہا تھا، ’’پہلے آئینے میں اپنی شکل تو دیکھ لو۔‘‘
تو اب سونے کی چار چوڑیوں کے علاوہ اس کو اپنے چہرے سے وہ منحوس پھٹکار بھی ہٹانی تھی جو اسے آئینے میں تو نظر نہیں آتی تھی لیکن پاروتی کو ضرور دکھائی دیتی تھی۔
ہے بھگوان (اس نے دل ہی دل میں پرارتھنا کی) آج کی رات ایک موٹر تو بھیج دے۔ موٹر نہیں تو ٹرک۔ ٹرک نہیں تو بیل گاڑی ہی سہی اور کچھ نہیں تو اندھیرے میں اناج کی ایک بوری ہی اتار لوں۔
اور شائد اس کی پرارتھنا کے جواب میں بارش کی زوردار بوچھاڑ کو چیرتی ہوئی ایک موٹر کے انجن کی آواز سنائی دی۔ آواز تیزی سے قریب آرہی تھی۔ موٹر تیز رفتار سے۔۔۔
نہیں نہیں۔ (اس کے ناتجربہ کار کانوں نے گواہی دی) یہ موٹر کا انجن نہیں ہے۔ یہ تو ہوائی جہاز ہے۔
ہفتے میں دو تین بار دن میں اور ایک بار عین آدھی رات کو ان کے گاؤں کے اوپر سے ایک ہوائی جہاز بمبئی کی طرف جاتا دکھائی دیتا تھا۔
دکھائی کیا دیتا تھا صرف سنائی دیتا تھا۔ اتنا اونچا ہوتا تھا کہ دن میں بھی کبھی کبھی تو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا تھا کہ چیل کوے ہیں یا ہوائی جہاز اور رات کو تو صرف لال ہری پیلی روشنیوں کی تکون ہوا میں تیرتی دکھائی دیتی تھی۔ مگر جب وہ بمبئی میں تھا تو سانتا کروز ایرپورٹ پر اس نے ایک بار ایسے ہوائی جہاز قریب سے اترتے چڑھتے دیکھے تھے۔ ایک ایک ہوائی جہاز میں سو سوا سو مسافر اور ان کے علاوہ ہر ہوائی جہاز کے پیٹ میں تین چار ٹرک سامان بھی سما جاتا۔ سینکڑو سوٹ کیس۔ درجنوں یہ بڑے جہازی ٹرنک۔ تجارتی سامان کی پیٹیاں اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اس نے سب بکسوں اور سوٹ کیسوں کو ایکسرے کرڈالا تھا۔ اندر بڑھیا سوٹ تھے۔ نئے فیشن کی چست پتلونیں۔ سلک کے بُش شرٹ۔ نائلون کی قمیضیں، ریشمی ساڑھیاں، ریڈیو ٹرانسسٹر، سنگھار کا سامان، مردوں کے لیے گھڑیاں۔ عورتوں کے لیے گھڑیاں، زیور سونے کی چوڑیاں۔
نیم گری کی پہاڑی پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ بارش بھی موسلادھار ہو رہی تھی۔ اس حالت میں ہوائی جہازکی بتیاں کیسے نظر آتیں۔ مگر آواز قریب ہوتی جارہی تھی۔ ایسا لگتا تھا آج ہوائی جہاز بہت نیچے سے گزر رہا تھا۔ شنکر کی مٹھی میں موٹر پنکچر کرنے والے کیلیں تھیں۔
کیا ہی اچھا ہو (اس کے من کے چھپے ہوئے ایک شیطان نے چپکے سے کہا) کہ میں یہ کیلیں ہوا میں اچھال دوں اور آج موٹر کی بجائے ہوائی جہاز پنکچر ہوجائے۔
اور اسی پل نیمگری کی چوٹی پر بجلی چمکی۔ پھر بادلوں کی کڑک سنائی دی۔ مگر نہیں یہ بجلی نہیں چمکی تھی کیونکہ بجلی تو پل دوپل کے لیے چمکتی ہے یہ روشنی تو شعلوں کی طرح بھڑک رہی تھی۔
’’ہوائی جہاز۔۔۔؟‘‘ اس کے دل کی دھڑکن نے چلاکر کہا۔ اندھیرے ہوئی جہاز نیمگری سے ٹکرا گیا ہے۔۔۔ اور اس کے من میں چھپے ہوئے شیطان نے کہا، ’’سونے کی چوڑیاں۔ سونے کی چوڑیاں۔‘‘
ہے بھگوان! اس کے دل کی دھڑکن چلائی۔ بچارے مسافروں کا کیا ہوگا۔۔۔؟
مگر اس کے من میں چھپے ہوئے شیطان نے پھر دہرایا، ’’سونے کی چوڑیاں‘‘ اور وہ دیوانہ وار نیم گری کی پہاڑی کی طرف دوڑا۔
بچپن میں کتنی بار وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نیم گری کی چوٹی پر چڑھا تھا۔ اس کے پیروں کو وہ سب ٹیڑھے میڑھے راستے یاد تھے۔ مگر اس وقت اندھیرا تھا۔ بارش تھی، کیچڑ تھی۔ ڈھلوانوں پر پھسلن تھی۔
پھر بھی وہ چلتا رہا۔ گرتا، پڑتا، پھسلتا، سنبھلتا، راستہ ٹٹولتا۔ کبھی کبھی بجلی چمکتی تو نیم گری کی چوٹی بالکل سامنے نظر آتی۔ مگر پل ہی بھر میں وہ اندھیرے میں ڈوب جاتی اور پھر ایسا لگتا کہ وہ نیم گری نہیں ہمالیہ پہاڑ ہے اور اس کی چوٹی تک پہنچنے کے لیے نہ جانے کتنے دن، کتنے ہفتے، کتنے مہینے لگیں گے۔ جھاڑیوں کے کانٹوں میں الجھ الجھ کر اس کی پرانی برساتی تار تار ہوگئی۔ اس کے جوتے پھٹ گئے۔ پھر ایک جوتہ پانی میں رہ گیا۔ دوسرے کا تلہ نکل آیا تھا۔ سو اس نے اسے بھی اتار پھینکا۔ اب اس کے ننے ی پیر پتھروں کی ہر نوک کو محسوس کرسکتے تھے۔ شائد کٹ کر لہولہان بھی ہوگئے تھے۔ پھر بھی وہ چلتا ہی رہا۔ اس کے دل کی دھڑکن اسے چلنے پر مجبور کرتی رہی۔ جلدی کرو، شاید تم کسی مسافر کو بچالو۔
مگر ساتھ ہی من میں چھپا ہوا شیطان بھی یہی کہے جارہا تھا جلدی کرو، اور ہر بار جب وہ راستہ دیکھنے کے لیے ٹارچ جلاتا تھا، اسے زمین پر روشنی دائروں میں چار سنہری چوڑیاں ہی نظرآتی تھیں۔
چلتے چلتے اسے نجانے کتنے گھنٹے ہوگئے تھے۔ اب وہ نیم گری کی ڈھلان پر چڑھ رہا تھا۔ یا چڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کیونکہ پھسلن اتنی تھی کہ دو قدم اوپر چڑھتا تھا تو چار قدم پھسل کر واپس جاتا تھا۔ ایک بار پھسلا تو اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کے پیر کے نیچے کوئی نرم چکنی اور گلگلی چیز رینگ رہی ہے۔ گھبراکر وہ ہٹا اور ٹارچ کی روشنی کی تو دیکھا، ایک لمبا موٹا اژدہا ہے جس کا اگلاآدھا حصہ ایک پیر کے گرد لپٹا ہوا ہے۔ خیریت ہوئی کہ اس کا پیر اس کی دم پر ہی پڑا تھا۔
ابھی تھوڑا ہی آگے گیا ہوگا کہ اسے پیڑوں میں سے ایسی آوازیں جیسے کوئی راکشس ڈکار رہا ہو۔ اندھیرے میں شیر کی آنکھیں ایسے چمکیں جیسے دو دہکتے انگارے ہوں۔ شنکر ایک پیڑ کی آڑ لے کر اسی کے تنے سے چپک گیا۔ وہ خوفناک آنکھیں اب دھیرے دھیرے اس کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ شنکر نے آنکھیں بند کرلیں اور اپنی موت کے لیے تیار ہوگیا۔ کیچڑ میں شیر کے بھاری پیر پڑنے کی آواز آتی گئی۔ بالکل پاس آگئی۔ یہاں تک کہ شیر کے سانس کو بھی شنکر سن سکتا تھا۔ اس کی بو بھی سونگھ سکتا تھا۔ مگر پھر شیر کی بو اور سانس اور پیروں کی بھیانک چاپ دور ہوتی گئیں۔ دور ہوتی گئیں۔ شنکر نے آنکھیں کھول دیں اور پھر ڈھلان پر چڑھنے لگا، بارش اور سردی کے باوجود اس نے محسوس کیا کہ اس کی قمیص پسینے میں شرابور ہے۔
اور اب پیڑ پیچھے اور نیچے رہ گئے۔ پھر جھاڑیاں بھی ختم ہوگئیں۔ اب چٹانوں پر صرف گھاس تھی یا کائی جمی ہوئی تھی۔ بارش بند ہوگئی تھی مگر جیسے جیسے وہ چوٹی پر پہنچتا جارہا تھا۔ ہواتیز ہوتی جارہی تھی۔ اس کی برساتی اب صرف چند چیتھڑے باقی رہ گئے تھے جو اس کے کندھے پر پھڑپھڑا رہے تھے۔ اس نے ان کو بھی اتار پھینکا۔
آخر کار وہ چوٹی پر پہنچ گیا۔ ہوا اتنی تیز تھی کہ اس کے لیے اپنے آپ کو سنبھالنا مشکل ہوگیا۔ دور جدھر بمبئی ہے ابھی تک اندھیرا تھا مگر مشرق میں گھاٹ کی پہاڑیوں کے پیچھے آسمان پر ایک ملگجا سا اجالا پھیلتا جارہا تھا۔
شنکر ٹارچ جلاکر اِدھر ادھر دیکھ ہی رہا تھا کہ ہوا میں کوئی چیز پھڑپھڑاتی ہوئی آئی اور اس کے چہرے سے ٹکرائی۔ اس نے گھبراکر اسے ہٹایا تو محسوس ہوا کوئی کاغذ ہے۔ ٹارچ کی روشنی میں دیکھا تو نوٹ تھا مگر ہندستانی نہیں کسی دوسرے ملک کا۔ انجانی بدیشی بھاشا میں نہ جانے کیا لکھا تھا۔
نوٹ! نوٹ! سوکھے پتوں کی طرح نوٹ ہوا میں اڑ رہے ہیں۔ ٹارچ کی روشنی کے دائروں میں چار چوڑیاں ناچنے لگیں۔
جدھر سے نوٹ اڑتا ہوا آیا تھا ضرور ہوائی جہاز کے ٹکڑے اور اس کا سارا سامان ادھر ہی پڑا ہوگا۔ یہ سوچ کر وہ آگے بڑھ ہی رہا تھا کہ اس کا پیر کسی چیز سے ٹکرایا۔ ٹارچ کی روشنی میں دیکھا تو ایک لاش تھی۔ ٹارچ کی روشنی کا دائرہ بڑھیا کالے جوتوں، دھاری دار پتلون اور اس کے ساتھ کے کوٹ پر سے ہوتے لاش کے چہرے کی طرف بڑھا مگر جہاں سر ہونا چاہیے تھا وہاں سر نہیں تھا صرف خون سے لتھڑی ہوئی گردن قمیص کے کالر سے نکلی ہوئی تھی۔ ایک بار تو شنکر کانپ اٹھا اور اس نے فوراً ٹارچ کی روشنی بجھادی اور پیچھے ہٹ گیا مگر دوسری طرف روشنی کی تو اس کے دائرے میں ایک لیڈیز ہینڈ بیگ پڑا ہوا نظر آیا۔ جلدی سے اس نے اسے اٹھالیا۔ اس کے پاس ہی ایک ٹرانسسٹر ریڈیو ٹوٹا پڑا تھا۔ ’’کوئی پرواہ نہیں مرمت کرالوں گا۔‘‘ اس نے سوچا اور اسے بھی اٹھالیا۔
صبح کا دھندلکا نیم گری کی چوٹی پر پھیلتا جارہا تھا۔ شنکر نے اپنی ٹارچ پھینکے دی۔ اب وہ پاگلوں کی طرح ادھر ادھر دوڑ کر چیزیں جمع کر رہا تھا اور ایک کمبل جو پڑا مل گیا تھا اسے پھیلاکر اس پر رکھتا جارہا تھا۔ اتنی دولت تو اس نے ساری عمر میں نہیں دیکھی تھی۔
لیڈیز ہینڈ بیگ۔
ٹرانسسٹر ریڈیو۔
نوٹوں سے بھرے ہوئے کتنے ہی بٹوے۔
سویٹر۔ مفلر۔ ہیٹ۔
بند کے بند سوٹ کیس۔
بڑے بڑے پلاسٹک کے لفافوں میں بند کیے ہوئے بڑھیا ولائتی سوٹ۔
گراموفون، گراموفون ریکارڈ۔
کیمرے۔ ایک دو تین چار کیمرے۔ درجنوں فاونٹین پن۔
چاکلیٹ کے ڈبے۔
کتنی ہی مردہ کلائیوں سے اتاری ہوئی ہاتھ کی گھڑیاں۔
کٹی ہوئی ٹانگوں سے اتارے ہوئے ولائتی جوتے۔
وہ سب مرچکے ہیں۔ ان کو اِن چیزوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مگر مجھے ضرورت ہے۔ یہ سب مال میرا ہے۔ میں نے یہ چھپا خزانہ کھوجا ہے اس پر میرے سوا کسی کا حق نہیں ہے۔
وہ پاگلوں کی طرح دوڑ رہا تھا۔ پاگلوں کی طرح سوچ رہا تھا۔ پاگلوں کی طرح اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا۔ پاگلوں کی طرح ہنس رہا تھا۔ چلا رہا تھا۔
اب وہ یہ سوچنے کے قابل بھی نہیں رہا تھا کہ کیا چیز اس کے کام کی ہے اور کیا نہیں ہے۔ جو بھی ہاتھ لگ رہا تھا اسے وہ کمبل پر پھینکتا جارہا تھا۔ یہاں تک کہ ایک بڑا اونچا ڈھیر لگ گیا۔
ایک بچی کے ہاتھ سے (جو مر کر بھی مسکرا رہی تھی) اس نے گڑیا چھین لی، دو کتابیں گھاس پر برابر برابر پڑی تھیں۔ ایک بائیبل، ایک بھگوت گیتا۔ اس نے سوچے بنا دونوں کو اٹھالیا۔
اور پھر اس نے دیکھا کہ ایک جھاڑی میں سے مہاتما بدھ کی ایک چکنی مٹی کی مورتی مسکرا رہی ہے۔ اس نے اس پر بھی قبضہ کرلیا اور کمبل پر رکھے ہوئے ڈھیر کے اوپر رکھ دیا۔ پھر اس نے خوشی اور گھبراہٹ اور خوف سے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کمبل کی گٹھڑی باندھی۔ جب وہ اس گٹھڑی کو مضبوط باندھنے کے لیے گرہ لگارہا تھا تو اس کی چوٹی میں سے جھانکتی ہوئی بدھ کی مورتی اس وقت بھی مسکرا رہی تھی۔
گٹھڑ بہت بھاری ہوگیا تھا۔ پھر بھی کسی نہ کسی طرح اس نے اسے اپنے کندھوں پر اٹھا ہی لیا۔ اور پہاڑی سے نیچے جانے کے لیے پگڈنڈی تلاش کرنے لگا۔ صبح کا سورج پھر کالے بادلوں میں چھپ گیا تھا۔ ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ اپنے گٹھڑ کے بوجھ کے نیچے وہ ایسا دبا ہوا تھا کہ سامنے راستہ بھی نظر نہ آتا تھا۔ ابھی وہ پیروں سے پگڈنڈی کو ٹٹول ٹٹول کر ڈھلان سے اتر ہی رہا تھا کہ اس کے کانوں میں ایک دھیمی سی کراہنے کی آوازآئی۔ اس نے گٹھڑی کو سر پر سے سرکاکر اِدھر ادھر دیکھا مگر کچھ نظر نہ آیا۔
ہوسکتا ہے کہ میرے کانوں کو دھوکا ہوا ہو۔ اس نے سوچا اور آگے برھنے ہی والا تھاکہ پھر وہی کراہنے کی آواز آئی۔ اس بار کوئی شبہ نہیں تھا کہ یہ کسی انسان کی آواز ہے۔
کوئی زندہ ہے۔۔۔ کوئی زندہ ہے۔۔۔ اس کے دل کی دھڑکن چلائی۔
جلدی کر۔ کوئی آجائے گا تو پھر تو یہ سامان نہیں لے جاسکے گا۔ اس کے من میں چھپے ہوئے شیطان نے اسے یاد دلایا۔
کوئی زندہ ہے۔۔۔ کوئی زندہ ہے۔۔۔ اس کے دل کی دھڑکن چلائی۔
چار سونے کی چوڑیاں۔۔۔ من میں چھپے ہوئے شیطان نے اپنا پرانا سبق دہرایا۔ چار سونے کی چوڑیاں۔
مگر تیسری بار پھر وہی کراہنے کی آواز سنائی دی تو شنکر نے ایک بار پھر گٹھڑی کواٹھاکر پیچھے مڑ کر دیکھا۔
ایک جھاڑی کی آڑ میں گھاس پر بارش میں بھیگی ہوئی ایک لڑکی پڑی تھی۔ اس نے قریب جاکر دیکھا تو ایک پل کے لیے اس کے دل کی دھڑکن بند ہوگئی، پاروتی۔۔۔
پاروتی یہاں پڑی سسک رہی ہے اور میں یہ پاپ کی گٹھڑی اٹھائے پھر رہا ہوں۔ اس نے گٹھڑ اتار کر پھینکا اور پاروتی کی طرف دوڑا۔
مگر وہ پاروتی نہیں تھی۔ پاروتی جیسی ہی کوئی لڑکی تھی۔ ویسی ہی سنہرے پکے ہوئے گیہوں جیسی رنگت۔ ویسے ہی کالے چکنے گھونگریالے بال جن کی ایک لٹ اس کے ادھ کھلے ہونٹوں پر پڑی جو اس کی سانس کے ساتھ ہلکے ہلکے جنبش کر رہے تھے۔
’’پاروتی نہیں ہے۔‘‘ من میں چھپے ہوئے شیطان نے اسے یاد دلایا۔
مگر یہ زندہ ہے! زندہ ہے! زندہ! اس کے دل کی دھڑکن چلائی۔
لڑکی ابھی تک زندہ ضرور تھی مگر سانس مشکل سے آرہا تھا۔ اس کے بدن پر کسی زخم کا کوئی نشان نہ تھا مگر بھیانک دھماکے سے اسے کوئی ایسی اندرونی چوٹ آئی تھی کہ وہ نہ صرف بے ہوش تھی بلکہ اس کے گالوں سے خون کی سرخی بالکل غائب ہوگئی تھی۔ موت کی پیلی پرچھائیں اس کے خوبصورت چہرے پر منڈلارہی تھی۔ بارش اب اور تیز ہوگئی تھی۔ ہوا کا جھکڑ بھی چل رہا تھا۔ بے ہوش ہونے پر بھی لڑکی کا بدن سردی سے کانپ رہا تھا۔
دفعتاً شنکر کو اس کمبل کاخیال آیا جس میں اس نے وہ سب سامان باندھا ہوا تھا۔ جلدی سے اٹھ کر وہ وہاں گیا اور جلدی جلدی گرہیں کھول کر سامان الٹ کر کمبل گھسیٹ لیا۔
گٹھڑی ڈھلان پر رکھی ہوئی تھی۔ سارا سامان لڑھک لڑھک کر اِدھر ادھر جھاڑیوں میں، کیچڑ اور پانی میں جاپڑا۔
گھڑیاں اور ریڈیو اور گراموفون اور فائونٹین پین اور سوٹ کیس اور بٹوے اور نوٹ اور زیور اور گڑیا اور بدھ کی مورتی اور۔۔۔
شنکر کو یہ سب دیکھنے کی فرصت نہیں تھی۔ وہ سردی سے کپکپاتی بے ہوش لڑکی کو کمبل میں لپیٹ رہا تھا۔
پانی میں بھیگا ہوا ٹھنڈا ہاتھ کمبل کے اندر کر رہا تھا کہ اس نے دیکھا پیلی نازک کلائی پر سونے کی چوڑیاں ہیں۔ چار۔
مگر اس بار شنکر کو ان چوڑیوں کی اہمیت کا کوئی احساس نہیں ہوا۔ اس کو فکر تھی کہ بارش میں بھیگ کر سردی سے لڑکی کو نمونیہ نہ ہوجائے۔ جلدی جلدی اس نے اسے کمبل میں لپیٹا اور شاید لاشعور میں گرمی کے احساس سے بے ہوش لڑکی کے ہونٹوں پر ایک عجیب سی دھیمی سی تشکر آمیز مسکراہٹ ابھر آئی۔
اب وہ ایک نیا بوجھ لے کر نیچے اتر رہا تھا۔ مگر اس میں اس پہلے گٹھڑ جتنا بوجھ نہیں تھا۔ دبلی پتلی نازک لڑکی کمبل میں لپٹی ہوئی بالکل بچی لگتی تھی۔ شنکر نے اسے اپنے سینے سے لگارکھا تھا۔ وہ کمبل میں سے بھی لڑکی کے دل کی دھیمی دھڑکن محسوس کرسکتا تھا۔ مگر یہ دھڑکن اور دھیمی ہوتی جارہی تھی۔ نہ جانے زندہ گاؤں تک پہنچ بھی سکے یا نہیں۔ گیلی پھسلوان ڈھلان پر شنکر تیز بھی نہیں چل سکتا تھا۔ ہر قدم پر گرنے کاڈر تھا اور اس کے شانے پر بڑا قیمتی بوجھ تھا۔ کسی کی زندگی تھی۔
زندگی! دفعتاً اسے محسوس ہوا کہ اب وہ صرف اپنے دل کی دھڑکن سن رہا ہے۔ وہ دوسری میٹھی دھڑکن اب خاموش ہے۔ یکایک اس کے کندھے کا بوجھ بھاری ہوگیا جیسے پھولوں کی گٹھڑی ایک دم پتھر بن گئی ہو۔
اس نے بڑی احتیاط سے لڑکی کو نرم گھاس پر لٹادیا۔ وہ مرچکی تھی۔
شنکر نے دیکھا کہ لڑکی کے اَدھ کھلے ہونٹوں پر وہ تشکر آمیز مسکراہٹ ابھی تک برقرار ہے۔ وہ موت کے لمحے میں اس کا احسان نہیں بھولی تھی۔
اگلے دن شام کو ہوائی جہاز کے مسافروں کے چند رشتے دار نیم گری سے لوٹے تو ایک نوجوان (جس کی آنکھیں روتے روتے سُوج گئی تھیں) نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا، ’’ہماری شادی اسی مہینے ہونے والی تھی۔‘‘
کسی نے پوچھا، ’’کیا آپ نے اپنی منگیتر کی لاش شناخت کرلی۔‘‘
’’جی ہاں! اس کی موت کسی اندرونی چوٹ سے ہوئی ہے۔ لاش پر کوئی زخم تو کیا ایک خراش تک نہیں آئی مگر لگتا ہے کسی نے اس کی چوڑیاں چرالی ہیں یا ہوسکتا ہے کہ وہ پہنے ہوئے ہی نہ ہو۔‘‘
’’چوڑیاں کیاں بہت قیمتی تھیں؟‘‘
’’قیمت سونے کی نہیں تھی محبت کی تھی۔ منگنی پر میں نے اسے پہنائی تھیں۔ اگر مجھے معلوم ہوجاتا کہ وہ آخری وقت تک پہنے ہوئے تھی۔۔۔‘‘ اور پھر اس کی آواز ایک گہری درد بھری سسکی میں ڈوب گئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے اور وہ انھیں چھپانے کے لیے زمین کی طرف دیکھنے لگا۔
دوسرے لوگ اسے وہیں چھوڑ کر پولیس کیمپ کی طرف چلے گئے۔ بڑی دیر تک وہ کھڑا زمین کو تکتا رہا۔ پھر نظر اٹھائی تو سامنے ایک سانولے نوجوان کو کھڑا دیکھا۔ اس کے کپڑے گیلے، میلے اور پھٹے ہوئے تھے۔ پیر کیچڑ اور خون میں لت پت تھے۔ اس کی آنکھیں بھی رونے سے سوجی ہوئی تھیں۔
’’یہ لیجیے۔۔۔!‘‘ اس نے کہا۔ اور شہر سے آنے والے کے ہاتھ میں کچھ دے دیا جو ایک پُرانے اخبار میں لپٹا ہوا تھا۔
اس نے کاغذ کھولا تو اس میں سے سونے کی چار چوڑیاں نکلیں۔ ’’تمہیں یہ کیسے۔۔۔؟‘‘ اس نے کہنا شروع کیا۔ مگر لانے والا جاچکا تھا۔
اور کتنے ہی دن بعد جب کھیڈ گاؤں میں ال اٹالیہ کے ہوائی جہاز کا حادثہ کہانی بن چکا تھا۔ ایک دن پاروتی باپ کے ساتھ پونہ جاتے ہوئے چوراہے سے گزری تو اس نے شنکر کو دیکھا جو اب پھر بھاگ بھاگ کر مسافروں کے لیے چائے پانی لا رہا تھا۔
پاروتی نے پکارا۔
’’شنکر۔۔۔ اے شنکر! اتنے دنوں کہاں رہے۔ نظر ہی نہیں آئے۔‘‘
شنکر اس کی طرف آیا تو وہ اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔
’’ایسے کیا گھورتی ہے میرے منحوس چہرے پر تو پھٹکار برستی ہے نا؟‘‘
پاروتی نے سرہلاکر خاموشی سے کہا، ’’نہیں‘‘ اور پھر بولی، ’’نہ رے۔ تُو تو بالکل بدل گیا ہے۔ اب تو۔۔۔ تو (اور پھر آنکھیں جھکاکر دھیرے سے کہا) اچھا لگتا ہے۔‘‘
’’سچ؟‘‘ شنکر خوشی سے چلاّیا۔
’’سچ!‘‘ پاروتی نے نظر اٹھاکر کہا اور ان بڑی بڑی کالی آنکھوں میں اس وقت شنکر کو چارسونے کی چوڑیاں جگمگاتی ہوئی نظر آئیں۔