افسانہ

کھدر کا کفن

تیس برس کی بات ہے جب میں بالکل بچّہ تھا۔ ہمارے پڑوس میں ایک غریب بوڑھی رہتی تھی۔ اس کا نام تو حکمین تھا مگر لوگ اُسے حکّو کہہ کر پُکارتے تھے۔ اس وقت شاید ساٹھ بر س کی عمر ہوگی، جوانی میں ہی ودھوا ہوگئی تھی اور عمر بھر اپنے ہاتھ سے کام کر کے اپنے بچوں کو پالا تھا۔ بوڑھی ہو کر بھی وہ ...

مزید پڑھیے

نئی جنگ

جس دن صوبیدار راجندر سنگھ کی پینشن مقرر ہوئی تو وہ بہت پریشان تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ زندگی کا سب سے بڑا سہارا ہی جاتا رہا۔ صوبیدار نے اپنی ساری عمر فوج میں کاٹی تھی۔ نہ جانے کتنی جنگوں میں جان پر کھیل کر آدھے درجن تمغے حاصل کیے تھے۔ کتنی ہی چھاؤنیوں کی خاک چھانی تھی۔ اپنی بہادری ...

مزید پڑھیے

بھوک

ڈائننگ ٹیبل پر تین قسم کے انڈے رکھے ہوئے تھے۔ ابلے ہوئے انڈے، فرائڈ انڈے، چھ انڈوں کا آملیٹ ایک کانچ کی قاب میں رکھا تھا۔ تین قسم کے سیریل پیکٹوں میں رکھے تھے۔ کویکر اوٹس، کورن فلیکس اور کرسپیز۔ دودھ کا ایک جگ بیچ میں رکھا تھا۔ الیکٹرک ٹوسٹر میں ٹوسٹ رکھے تھے اور اچھل کر باہر ...

مزید پڑھیے

بھولی

اس کا نام تو سلیکھا تھا مگر بچپن ہی سے اس کے گھر والے ہی نہیں سارے گاؤں والے اسے بھولی کہتے تھے۔ ان کے پڑوس کے رہنے والوں کا کہنا تھا کہ نمبردار رام لال کی چوتھی بیٹی سلیکھا جب دس مہینے کی تھی تو گھاٹ پر سے سر کے بل گرپڑی تھی۔ وہ تو خیریت ہوئی کہ زمین کچی مٹی کی تھی، اس لیے ننھی جان ...

مزید پڑھیے

میری موت

لوگ سمجھتے ہیں کہ سردار جی مارے گئے۔ نہیں۔ یہ میری موت ہے۔ پرانے ’’میں‘‘ کی موت۔ میرے تعصبات کی موت۔ اس منافرت کی موت جو میرے دل میں تھی۔ میری یہ موت کیسے ہوئی؟ یہ بتانے کے لیے مجھے اپنے پرانے مردہ ’’میں‘‘ کو زندہ کرنا پڑے گا۔ میرا نام شیخ برہان الدین ہے۔ جب دہلی اور نئی ...

مزید پڑھیے

بارہ گھنٹے

دسمبر کا مہینہ! اسٹیشن ماسٹر کا گھنٹہ۔۔۔ پونے آٹھ بجا رہا تھا۔ گاڑی کے آنے میں اب بھی پندرہ منٹ باقی ہیں۔ بینا نے سوچا اور پلیٹ فارم کے چکر لگانے لگی۔ چھوٹا سا اسٹیشن۔ نہ کتابوں اور اخباروں کی دوکان۔ نہ کوئی ہوٹل۔ چائے کی ایک پیالی بھی ملنی ممکن نہیں۔ بس دو کمروں کی چھوٹی سی ...

مزید پڑھیے

ایک لڑکی سات دیوانے

لڑکی جوان ہوگئی تھی۔ لوگ کہتے تھے لڑکی خوبصورت ہے، چنچل ہے، طرح دار ہے، دنیا اس کی دیوانی ہے، ہر کوئی اس کی خاطر جان دینے کو تیار ہے۔ ساتھ میں لڑکی گنی بھی تھی۔ پڑھی لکھی تھی۔ دنیا بھر کی زبانیں جانتی تھی۔ ملٹن اور شیلی، ٹیگور اور قاضی نذرالسلام، سبرامنیم بھارتی اور نرالا، ...

مزید پڑھیے

سلمہ اور سمندر

’’سلمہ!‘‘ ’’ہوں۔۔۔‘‘ ’’خوش ہو۔۔۔؟‘‘ ’’ہوں۔‘‘ ’’کتنی خوش ہو؟‘‘ ’’اتنی خوش ہوں۔۔۔ اتنی خوش ہوں۔۔۔ کہ بتا نہیں سکتی۔‘‘ اور بڑی بڑی کالی آنکھیں جو کاجل کی غیر ضروری لکیروں کے بغیر بھی بہت خوبصورت تھیں، آہستہ آہستہ پلکوں کے پردے میں چھپتی گئیں، جیسے غلافی پپوٹے ...

مزید پڑھیے

تین عورتیں

تین عورتیں ایک ریلوے لائن کے کنارے چلی جارہی تھیں۔ کس مقام پر؟ کس ریلوے لائن کے کنارے؟ ان کا مذہب کیا تھا؟ ان کی ذات کیا تھی؟ یہ سب تفصیل غیر ضروری ہے۔ تین عورتیں! ایک نوجوان سندری تھی۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔ اس کے سینہ میں ابھار، اس کی چال میں والہانہ پن۔ ایک ماں تھی۔ اس کی ...

مزید پڑھیے

بنارس کا ٹھگ

(۱) ریل کے اسٹیشن پر لکھا تھا۔۔۔ وارانسی پولیس کے تھانے کے باہر لکھا تھا۔۔۔ وارانسی ہسپتال کے دروازے پر بورڈ لگا تھا۔۔۔ وارانسی شراب کی دکان پر لکھا تھا۔۔۔ وارانسی افیون، گانجہ اور چرس کی دوکان پر لکھا تھا۔۔۔ وارانسی کتابوں کی دوکان، جہاں کوک شاستر کھلے عام بک رہی تھی، ...

مزید پڑھیے
صفحہ 144 سے 233