افسانہ

کھڑکیاں کھول دو

میرے گرد آوازوں کا جال ہے جو مجھے اپنی طرف کھینچ رہا ہے میں ہر سمت نظر دوڑاتی ہوں۔ کچھ مدہم مدہم آوازیں مجھے پیچھے کی طرف سے آتی ہیں میں سیڑھی سیڑھی اتر کر نیچے پہنچ جاتی ہوں۔ میرے مقابل ڈھیروں بچوں کے جھرمٹ اک معصوم سی بچی اپنا چہرہ ہاتھوں سے ڈھانپے اپناآپ چھپائے کھڑی ...

مزید پڑھیے

نائلون میں لپٹی لاش

کمرے میں سنہری مہک رچی تھی۔ پیلاہٹ اترنے کا آج آخری دن تھا یا زردی چڑھنے کا پہلا دن۔ کوئی بات آج تک طے نہ ہوئی تھی تو یہ کیسے ہوجاتی۔ وہ یہ سب سوچتی سرجھکائے بیٹھی تھی۔ کوئی لڑکی ریڈیو کُھلا چھوڑ گئی تھی۔گھٹیا بے ہودہ قسم کے گانے سننے کا لڑکیوں کو کتنا شوق ہے اس نے سوچا۔ ’’اک ...

مزید پڑھیے

امن کے ہاتھ

یہ ان دنوں کی بات ہے جب دوسری جنگ عظیم اپنے شباب پر تھی۔۔۔ فوجی کیمپ اور سپاہیوں کے دستے مکڑی کے جال کی طرح ملک کے چپے چپے میں پھیلا دیے گئے تھے۔ ہمارا علاقہ بھی اس کی زد سے نہ بچ سکا۔۔۔ ہمارے گاؤں کے قریباً چار پانچ فرلانگ کی دوری پر ایک بڑے سے گھنے باغ میں ملٹری کیمپ بننے لگا اور ...

مزید پڑھیے

جواں مردی

وہ میری بیوی جا رہی، مگر اس کے لبوں پر اس مسکراہٹ کا نام تک نہیں جیسا کہ لوگوں نے میری تسکین قلب کے لیے مجھ سے کہا تھا۔ بس ہڈیوں کا ایک ڈھانچا ہے۔ اس کی بھیانک صور ت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک مہلک بیماری کا شکار ہے اور موت کا خوف اس پر طاری ہے۔ اس کی آنکھوں میں میرے لیے اب لطف اور ...

مزید پڑھیے

اصل مرد

میں بیرسٹر زیب النساء انجم ہوں۔ سپریم کورٹ کی ایک سینئر ترین وکیل، کالم نگار، سماجی کارکن اور سیاسی مبصّر جس کی وجۂ شہرت وکالت سے کہیں زیادہ شعلہ بیاں طرزِ خطابت اور ٹی وی ٹاک شوز پر نڈر سیاسی تبصرے سمجھے جاتے ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ مجھے اپنے ملک کی سیاسی قیادت سے شدید نفرت ہے ...

مزید پڑھیے

ایک دانا کی خود نوشت

کوئی چراغ لے کر بھی نکلے تو رُوئے ارض پر مجھ جیسا دانا نہیں ڈھونڈ سکتا۔ میری ساری زندگی دانائی کی کُھلی کتاب ہے اور آج میرا جی چاہ رہا ہے کہ میں اپنی اس خداداد صلاحیت سے جڑی کچھ امثال آپ سب کے ساتھ بانٹوں تاکہ آپ سب بھی مجھ سے دانائی کے کچھ گُر سیکھ سکیں۔اگر آپ کے ادراک و معرفت کے ...

مزید پڑھیے

ہم

’’میں کافی دیر سے نوٹ کر رہا ہوں۔ آپ اس کاغذ پر ایک سطر لکھ کر جس طرح اس اے سی سلیپر کی چھت کی طرف دیکھ کر سوچنے لگتے ہیں، لگتا ہے یا توآپ کوئی معمّہ حل کر رہے ہیں۔ یا پھرآپ شاعری لکھ رہے ہیں!‘‘ کوٹری جنکشن سے جب ٹرین ایک بار پھر رینگنے لگی تو بالآخر تین گھنٹے کی مسلسل خاموشی کے ...

مزید پڑھیے

گھپ اندھیرے میں کالی بلی کی تلاش

جب سفر کا آغاز ہوا تو وہ مجھ سے کم از کم ایک فرلانگ آگے تھی ۔ ہرنی کی طرح قلانچیں بھرتی ، دشوار مسافتوں کو اپنے برق رفتار پیروں سے لپیٹے وہ کسی گردباد کی طرح کبھی ادھر ایستادہ ہوتی تو کبھی ادھر۔ اتنی ہی متحرک اور پرجوش جس طرح سیماب یا پھر کوئی خیال ۔ بالکل میرے جیسا لباس اور میرے ...

مزید پڑھیے

اک گھر ایسابنانا چاہیے

’’سر آپ اس ملک کے مایہ ناز بِلڈر اور Real Estate Tycoon ہیں ۔آپ نے اس ملک میں شہر کے شہر بسائے ہیں۔مگر سننے میں آیا ہے کہ آپ دوکمروں کے چھوٹے اور سادہ سے گھر میں رہتے ہیں۔اس کے پیچھے کوئی فلاسفی ہے ،سادہ مزاجی یا پھر آپ کے ماضی سے جُڑی کوئی کہانی ؟‘‘ ٹی وی اینکرنے انٹرویو کے دوران ایسا ...

مزید پڑھیے

رونے کے لیے چاہییے کاندھا میرے دوست

شام کا زہرمٹیالی ٹہنیوں میں اتر چکا تھا۔تھکے ہارے طیّوراپنے اپنے آشیانے میں بیٹھے اپنے نوزائیدہ بچوں کو دن بھر کی روداد سنا رہے تھے اور فضا میں ان کی اس گفتگو کا شورپھیلتے ہوئے مضمحل اندھیرے کا بیک گراؤنڈ میوزک محسوس ہوتا تھا۔گرلز ہاسٹل کے سامنے گھنے درختوں کی قطار کے پیچھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 142 سے 233