کھڑکیاں کھول دو
میرے گرد آوازوں کا جال ہے جو مجھے اپنی طرف کھینچ رہا ہے میں ہر سمت نظر دوڑاتی ہوں۔ کچھ مدہم مدہم آوازیں مجھے پیچھے کی طرف سے آتی ہیں میں سیڑھی سیڑھی اتر کر نیچے پہنچ جاتی ہوں۔ میرے مقابل ڈھیروں بچوں کے جھرمٹ اک معصوم سی بچی اپنا چہرہ ہاتھوں سے ڈھانپے اپناآپ چھپائے کھڑی ...