رونے کے لیے چاہییے کاندھا میرے دوست
شام کا زہرمٹیالی ٹہنیوں میں اتر چکا تھا۔تھکے ہارے طیّوراپنے اپنے آشیانے میں بیٹھے اپنے نوزائیدہ بچوں کو دن بھر کی روداد سنا رہے تھے اور فضا میں ان کی اس گفتگو کا شورپھیلتے ہوئے مضمحل اندھیرے کا بیک گراؤنڈ میوزک محسوس ہوتا تھا۔گرلز ہاسٹل کے سامنے گھنے درختوں کی قطار کے پیچھے جگنو لمبی گھاس کے اوپر سرِشام اپنی آدھی روشنی ڈھونڈنے نکل آئے تھے ۔چونکہ سرما کے عروج میں راہ گیرسرِشام ہی سڑک کو تنہا چھوڑ جاتے ہیں چنانچہ گرلز ہاسٹل اور درختوں کے عین درمیان گہری سوچ میں گم خالی اور اداس سڑک تھی اور کسی ویلن کی طرح قہقہے لگاتا ہواندھیرا منظروں اور ان کے اصل رنگوں کو تیزی سے فتح کرتا چلا جا رہا تھا!
ادھر سے وہ نکلی اور ادھر سے وہ چلا آرہا تھا۔.سڑک کواپنی تنہائی مٹنے کی وجہ بنتی نظرآئی توخوشی سے کھِل اٹھی!
وہ دونوں ہاتھ اپنی بغلوں میں چھپائے جونہی سڑک پر آئی،جیسے اس کے زخم کا منہ پھر سے کھل گیا اورآنسوقطار در قطار اس کی آنکھوں سے نکل کرسڑک کے کاندھوں پر جذب ہونے لگے۔ملگجا سا اندھیرا تھااورسامنے سے وہ اپنی دُھن میں چلا آرہا تھا۔
نئی نئی محبتوں کی سرشاری میں مست!
اسے اس راستے سے نہیں آنا تھا مگر یونہی بلا سوچے سمجھے اس راستے کو شارٹ کٹ سمجھتے ہوئے وہ اپنے ہاتھ پتلون کی جیبوں میں دبائے اس طرف نکل آیا تھا۔ اس سڑک کے اختتام پر عین سامنے بس سٹاپ تھا جہاں اسے اپنی بس پکڑنا تھی!
وہ اس پیاری سی لڑکی سے ابھی کچھ ہی دُور تھا کہ ہلکے ہلکے اندھیرے میں ایک ہلکورے کی آواز نے پل بھر کے لیے اس کا رابطہ اپنے رنگین خیالات سے منقطع کر دیا۔ اس نے سامنے اپنی طرف آتی ہوئی لڑکی کی طرف دیکھا جوپھوٹ پھوٹ کر روئے چلی جا رہی تھی ۔ہلکے ہلکے اندھیرے میں آنسو اس کے بھیگے ہوئے عارض پر جگنوؤں کی طرح چمک رہے تھے اور پھر چند لمحوں بعدجب وہ اس کے بالکل پاس سے گذرا تو اپنے کسی دکھ سے لڑتی ہوئی اس لڑکی کو شاید اندازہ بھی نہیں ہو سکا کہ ایک اجنبی اس کے پاس سے گذرتے ہوئے اسے کتنی حیرت بھر ی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ ایک بہت خوبصورت اور اجلی رنگت والی لڑکی تھی مگرکسی دکھ کی نیلاہٹ نے اس کی خوبصورتی کو گہنا دیا تھا!
’’اتنی پیاری سی لڑکی۔تنہا سڑک پر۔آخر کیوں اس طرح روئے چلی جا رہی ہے؟‘‘
آنسو،روتے اور دُکھوں سے لڑتے ہوئے لوگ ہمیشہ اسے مضطرب کر دیا کرتے تھے!
اس نے مڑ کر دیکھا اور اپنی مخالف سمت پر جاتی ہوئی اس لڑکی کے متعلق متفکر انداز میں سوچا مگر وہ دنیا مافیہا سے بے خبر بار بار اپنے بازو سے آنسو پونچھتے ہوئے اب مخالف سمت میں چلی جا رہی تھی!
وہ کچھ چلا،پھر مڑا اور اسے پھر دیکھا!
اب وہ نسبتاً گہرے اندھیرے میں ملفوف ایک کانپتا اوربھیگا ہوا سا وجود لگ رہی تھی۔ وہ کچھ قدم اور بس سٹاپ کی طرف چلا، پھر مڑکر اسے دیکھا۔اب وہ مڑ کر پھر واپس آ رہی تھی ، نظریں سڑک پر گاڑے بدستور اپنے آنسو ؤں سے مات کھا رہی تھی!
چند قدموں کے فاصلے پر گرلز ہاسٹل کی سڑک ختم ہونے والی تھی اور پھر بڑی سڑک پار کر کے وہ اپنے بس سٹاپ پر جا پہنچتا ۔ بس اسے وہیں تک جانا تھا مگر اس کے قدم جیسے سلب ہو گئے تھے اور چند قدموں کی مسافت کو اس ایک سوال نے اس قدرطوالت دے ڈالی تھی کہ سامنے چند قدموں کے فاصلے پر واقع بس سٹاپ اسے دنیا کا دوسرا کونا لگنے لگا تھا!
وہ وہیں رک گیااوراس نے ایک بار پھر مڑ کراس دل گرفتہ لڑکی کی طرف دیکھا!
دفعتاً اس کا جی چاہنے لگا کہ وہ اس کے پاس جائے اور اس سے پوچھے کہ ایسا کون سا دکھ ہے جو اس کی خوبصورت آنکھوں سے رِسے چلا جا رہا ہے مگر اگلے ہی لمحے اسے لگا جیسے نہ تو وہ اس تک پہنچ سکتا تھا اور نہ ہی اس سے کچھ پوچھ سکتا تھا ۔ چند قدموں کے فاصلے کے باوجود ان دونوں کے درمیان ان گنت دیواریں حائل تھیں!
اجنبیت کی دیوار!
مخالف اصناف کی دیوار!
اخلاقیات کی دیوار !
جھجھک کی دیوار!
اندھیرے کی دیوار!
ڈر کی دیوار!
اسے لگا کہ وہ اتنی ساری دیواریں نہیں گرا سکتا سو بوجھل قدموں کے ساتھ سڑک پار کر کے اپنے بس سٹاپ پر جا کھڑا ہوا اور سامنے ٹہلتی ہوئی اس آزردہ لڑکی کو دیکھنے لگا،اس کی بس آئی اور چلی گئی مگر وہ وہیں پریشان کھڑا اس لڑکی کو دیکھتا رہا۔وہ دُور سے اس لڑکی کو لاکھوں دلاسے سوچوں کے ذریعے پہنچانے لگا!
’’رومت پیاری لڑکی!۔.دُکھ زیادہ ہونے لگیں تو سُکھ کہیں پاس ہو ہوتے ہیں مگر آنسوؤں کے شور میں ہمیں دکھائی نہیں دیتے۔.اور جب کھڑکیاں دھندلا نے لگتی ہیں تو کمرے کے اندر روشنی کی ضرورت اچانک بڑھ جاتی ہے!‘‘
’’رومت پیاری لڑکی!۔.حوصلے پازیب کی طرح ہوتے ہیں۔.اداسی میں بھی بالکل اسی طرح خوبصورت لگتے ہیں جیسے سرما کی کسی رات کے پچھلے پہر ہَوا جو چلمنوں سے ٹکرا کر ایک خوبصورت دھن تخلیق کرتی ہے۔.آنسو آسیب کی طرح ہوتے ہیں،اداسی میں بھی اتنے ہی مہیب لگتے ہیں جیسے کسی اجڑے ہوئے مکاں میں کوئی فسوں زدہ چراغ تھرتھراتا ہے!‘‘
’’پلیز چپ ہو جاؤ پیاری لڑکی۔۔۔کچھ آنکھیں بھیگنے کے لیے نہیں ہوتیں۔۔۔کچھ ہلکورے سن کر کڑی دھوپ میں بھی آسمان کی رنگت قرمزی سی ہونے لگتی ہے۔.اس روز چاند بھی نہیں نکلتا۔.کچھ رخسار بھیگنے کے لیے نہیں ہوتے اور اگر بھیگ جائیں تو برساتیں زمین کا رخ نہیں کرتیں۔.راتیں بھی بھیگنے سے گھبراتی ہیں!‘‘
’’پیاری لڑکی۔.اگر میری بات نہیں سمجھتیں تو وہ دیوار سے لگی چنبیلی کی طرف دیکھو۔.وہ زرد ہو چلی ہے!۔۔۔جب چنبیلی زرد ہونے لگتی ہے تو یہ دستکِ بہار ہوتی ہے۔۔۔یہ زندگی ہے،یہ اسی طرح چلتی ہے۔.جب کوئی خلش کاجل کو بار بار پھیلانے لگے تو سمجھ لوکہ کہیں پاس ہی قرار ہے!‘‘
جب دلاسے ختم ہوگئے تو ان کی جگہ دعاؤں نے لے لی!
’’اے نیلی چادر کے خالق!۔.اپنی اتنی خوبصورت تخلیق کا دکھ سن!۔.تُو تو کسی کو اس کی برداشت سے بڑھ کر کوئی تکلیف نہیں دیتا۔.اس کے لیے کہیں سے کوئی مہربان کاندھا یا پھر کوئی ٹھنڈا مرہم بھیج میرے خدا!‘‘
مگر کچھ بھی نہ ہوا اور وہ لڑکی اسی طرح روتے ہوئے ٹہلتی رہی اور اپنا دکھ سڑک پر بچھاتی رہی!
ایک اور بس آئی اور چلی گئی !
اور پھر اس نے ایک فیصلہ کر لیا کہ وہ تمام دیواریں گرا کر اس لڑکی کے پاس جائے گا ، کسی بندش،ردعمل اور نتیجے کی پرواہ کیے بغیر اس سے کہے گا۔.
’’ اپنا دکھ مجھے دے دو۔.میں دوسروں کے دکھ سنبھالنا خوب جانتا ہوں۔.شروع سے میں نے یہی کیا ہے ۔میں جب بھی کسی کا دکھ بانٹتا ہوں،میرے اثاثے بڑھ جاتے ہیں!‘‘
یہ سوچ کر اس نے ہمت کر تے ہوئے بے ترتیب دھڑکنوں کے ساتھ اس لڑکی کی طرف اپناسفر شروع کیا ۔ہربڑھتے ہوئے قدم پر جیسے جیسے وہ اس کے قریب ہوتی چلی جا رہی تھی اسے اپنا ارادہ بھی مزید مضبوط محسوس ہونے لگا۔سوچنے لگا کہ وہ اس لڑکی سے کیسے بات شروع کرے گا، اس سے کیا کہے گا اور کس طرح ہمدردی کا مرہم اس کے دُکھ پر رکھے گا!
اور پھرجب اس کا اور لڑکی کا فاصلہ محض چند قدم رہ گیاتو۔.!
دفعتاً ہاسٹل سے ایک اور لڑکی باہر نکلی اور اسے دیکھ کر تیزی کے ساتھ روتی ہوئی لڑکی کی طرف آئی۔اس لڑکی کو اس کی جانب بڑھتے دیکھ کر اس کے بڑھتے قدم وہیں تھم گئے۔اس نے روتی ہوئی لڑکی کو محبت کے ساتھ اپنے ساتھ لگایا، اس کے آنسو پونچھے اور اپنے بازو اس کے گرد حمائل کرتے ہوئے اندر اپنے ساتھ لے گئی۔ جاتے جاتے پشت پر اسے اس لڑکی کی محض چند ہی باتیں سنائی دیں!
’’میں نے تمہیں کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا۔.پلیز چپ ہو جاؤ۔.اتنی پیاری آنکھیں رونے کے لیے نہیں ہوتیں۔.میں اندازہ کر سکتی ہوں کہ تمہارا دکھ کتنا بڑا ہے مگر میری جان۔دکھ کتنا ہی بڑا اورزخم کتنا ہی گہرا ہو ،وہ زندگی سے نہیں جیت سکتا۔.دئیے کی لَو کو دیکھ لو۔.اتنی چھوٹی سی ہوتی ہے مگر سارے جہان کے اندھیرے مل کر بھی اسے شکست نہیں دے سکتے!۔پلیز چپ ہو جاؤ میں تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتی۔!‘‘
اور پھرجب دھیرے دھیرے تشفی دیتی اور معدوم ہوئی وہ آواز اندھیرے میں گھل گئی تو اس نے مسرت اور طمانیت سے بھرپور ایک لمبی سانس بھری، پہلے اوپر آسمانوں کی طرف اور پھر دیوار سے لگی زرد چنبیلی کو دیکھ کرمسکرا دیا۔
دفعتاً بس کے ہارن نے اسے چونکا دیا۔
بی بی جی کا گھر
رات کا آخری پہر تھا۔وہ اپنی بی بی جی کا سرد ہاتھ تھامے پتھرائی آنکھوں سے ان کے ایک طرف کو ڈھلکے زردچہرے کو دیکھے چلا جا رہا تھا۔ انہیں زندگی کی جنگ ہارے چھ گھنٹے سے زیادہ ہو چکے تھے۔ بی بی جی کی اولاد اوراس سے آگے ان کے اولاد سمیت سب رو رو کربالآخر نیند کے ہاتھوں ہار چکے تھے۔سوائے اس کے!
اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے اپنی بی بی جی کے مہندی زدہ بالوں پر ہاتھ پھیراجو پچھلے ماہ شدید بیمار پڑنے سے پہلے انہوں نے بہت اہتمام سے لگوائی تھی۔ان کے وجود میں اب واحد سرخی صرف بالوں میں ہی بچی تھی۔پھر اس کی ڈبڈبائی نظریں بی بی جی کے ماتھے کی شکنوں پر ٹہر گئیں ۔ نجانے کتنی فکریں ان بے شمارشکنوں کے پیچھے ہمیشہ بے کل رہا کرتی تھیں۔ انہیں فکروں میں سے بی بی جی کی سب سے بڑی فکر وہ خود تھا کیونکہ بی بی جی کو اپنی اولاد اور ان کی اولاد میں سب سے زیادہ پیار اسی سے تھا۔اس نے بی بی جی کے ماتھے کی سب سے بڑی اور گہری شکن کو احترام کے ساتھ چھواتودفعتاً اسے اپنی پیدائش سے لے کر بی بی جی کے زیرِ سایہ گذرے اپنی زندگی کے چونتیس برس اس شکن کے پیچھے جھانکتے ہوئے صاف نظر آنے لگے۔پھر اس کی نظریں بی بی جی کی بند آنکھوں اوران کے نیچے بھاری پپوٹوں پر جم گئیں۔اس نے بے حد عقیدت کے ساتھ اپنی انگلیوں کی پوریں ان کی آنکھوں پر پھیریں۔چھ گھنٹے پہلے جب انہوں نے اس کے بازوؤں میں اس دنیا میں اپنی آخری سانس لی تھی تو اسی نے ان کھلی بے نور آنکھوں کو بند کیا تھا۔ ان کی آنکھوں کے بھاری پپوٹے اب کچھ اور بھی ڈھلک آئے تھے۔سب اسے کہا کرتے تھے۔۔۔’’تمہاری آنکھوں کے پپوٹے بالکل اپنی دادی پر گئے ہیں!‘‘ اس نے اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے ان پپوٹوں کو چھوا اور ان کا سرد ہاتھ چومتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔فرق صرف اتنا تھا کہ آج پہلی بار اسے روتا دیکھ کر نہ تو بی بی جی تڑپیں اورنہ ہی اسے دلاسا دیاورنہ یہ وہی بی بی جی تھی جو اس کے ایک آنسو کو دیکھ کر اپنے شوہر، بیٹے اور بہو سمیت ہر کسی کے ساتھ لڑ پڑتی تھیں اور ا ن سب کو ایسی بے بھاؤ کی سنایا کرتی تھیں کہ ان سے جان چھڑانا مشکل ہو جایا کرتا تھا۔اس نے آنسو بھری نظروں سے اپنی بی بی جی کے یخ بستہ پیروں کو چھوا جو اپنے حصے کی پر تھکن مسافت طے کر کے اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تھم چکے تھے۔یہ وہی پیر تھے جوساری زندگی اپنے گھر کی دہلیزعبور کرنے کی خواہش دل میں لیے اب کسی اور سفر اور گھرکی جستجو میں نکل چکے تھے ۔ان کے ننگے پاؤں دیکھ کر اسے اپنا وجود کسی برچھی کے پھل پر پرویاہوا محسوس ہونے لگااوراسے ان سے کیا ہواوہ وعدہ یاد آ گیا جووہ وفا نہیں کر سکا تھا!
بی بی جی کی شخصیت میں جس قدر کمال کا رعب تھا اتنی ہی بے مثال متانت اور انفرادیت بھی تھی۔محبت اور غصے کا کچھ ایسا عجب متوازن امتزاج تھا کہ اس سے رات اور دن کی سنگت کا راز باآسانی سمجھا جا سکتا تھا۔جب ان کی شادی ہوئی توان کے والد نے اپنے داماد نیاز محمد کو الگ بٹھا کران کی پسند اور نا پسند کے بابت بطور خاص نصیحتیں کیں۔ان نصیحتوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ’’اور کچھ بھی فرمائش کر لینا مگر خورشیدسے کبھی حقہ تازہ کروانے کی کوشش نہ کرنا!‘‘
اور پھرایک وقت ایسا آیا کہ وہی بی بی جی اپنے شوہر کی محبت میں نہ صرف ان کا حقہ خود تازہ کیا کرتیں بلکہ تمباکو کی طاقت ناپنے کے لیے اس کے ایک دو کش بھی لگا لیا کرتیں۔ان کی شخصیت کے گوناگوں پہلوؤں میں سب سے نمایاں اپنے گھر سے محبت تھی۔شادی کے بعد انہیں کتنا ہی عرصہ اپنے والدین کے گھر کی یاد ستاتی رہی جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے پہلے سولہ برس اسے سجانے سنوارنے میں صرف کیے تھے۔نیاز محمد کے سمجھانے پربڑی مشکل سے انہوں نے اپنے گھر کی در و دیوار کی طرف دیکھنا شروع کیا اور پھر اسی محبت سے اس گھر کی فکر و آرائش میں لگ گئیں۔جب اس گھرکی در و دیوار اوراس کے ایک ایک کونے میں انہوں نے اپنی محبت کامیابی کے ساتھ تقسیم کر ڈالی توبرِصغیر کی تقسیم کا اعلان ہو گیا اور لاہور ہجرت کے باعث جالندھر شہر کے دل میں واقع اپنا اتنا شاندار گھرچھوڑنا پڑا۔اسے چھوڑنے سے پہلے وہ اس کی دیواروں سے لپٹ لپٹ کے روتی رہیں اور انہیں چومتی رہیں۔وہ اکثر اپنے پوتے کے سامنے بڑی معصومیت کے ساتھ اعتراف کیا کرتیں کہ ہندوستان اورجالندھر چھوڑنے سے زیادہ دکھ انہیں اپنا گھر کھو کر ہوا تھا اور محض اسی وجہ سے وہ کتنا ہی عرصہ اس نقطے کو سمجھ ہی نہیں سکیں کہ اس تقسیم کے پیچھے آخر اصل مقاصد کیا تھے!
پاکستان آ کر نیاز محمد نے پٹوار کر لی اور انہیں حاصل پور کے ایک گاؤں نما قصبے میں ایک نیا بڑا گھرمل گیا۔ابھی اس نئے گھر سے بی بی جی کی پوری طرح علیک سلیک بھی نہ ہوئی تھی کہ ان کے اکلوتے بیٹے صفدر کو رحیم یار خان شہر میں نوکری مل گئی۔اپنے اکلوتے بیٹے سے نیاز محمد کو اس قدر محبت تھی کہ وہ وہ اداس اور چپ چپ رہنے لگا اوربلاآخر ایک شام بی بی جی کے سامنے اپنا دل کھول بیٹھا۔
’’خورشید۔صفدر کے خط کاایک ایک حرف مجھے اداس اور آنسوؤں سے بھیگا ہوا لگتا ہے۔.یوں لگتا ہے ان لفظوں کی مدد لے کروہ ہمیں پکار رہا ہو، ہمیں کوئی پیغام دے رہا ہو۔.سچ پوچھو تو میں بھی اتنا ہی اداس ہوں۔.جس گھر میں والدین کو اکلوتابیٹا ہوتے ہوئے بھی نظر نہ آئے، میرے نزدیک وہ آم کے ایسے درخت کی طرح ہے جس پر پھل نہ آتا ہو!‘‘
’’مگرآپ کی پٹوار اور یہ گھر۔.‘‘
’’دفع مارو گھر کو۔تمہیں ہمیشہ گھر کی ہی پڑی رہتی ہے۔ہم صفدر کے سرکاری کوارٹر کو گھر بنائیں گے۔میرے نزدیک گھر وہی ہوتا ہے جس میں سب گھر والے محبت اور رواداری کے ساتھ مل کر رہتے ہوں۔خواہ وہ پرانے کھدّر کی بنی ہوئی جُھگی ہی کیوں نہ ہو!‘‘
اپنے شوہرکی اطاعت اور بیٹے کی محبت تھی مگر بی بی جی نے اس گھر کو بھی بہت بھاری دل کے ساتھ چھوڑا جس کے آنگن میں انہوں نے پچھلے ہی ہفتے دھنیا، لہسن، ہری مرچیں اور پیازبڑے ارمانوں کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے لگائے تھے۔ اس بڑے گھر کی کھلی چھت،نئی قلعی کی ہوئی دیواروں اورزمین سے سر نکالتے ان ننھے پودوں کو انہوں نے ڈبڈائی آنکھوں سے اسی طرح الوداع کہا جس طرح برسوں گذارنے کے بعد انہوں نے اپنے والدین اور جالندھر والے گھروں کو کہا تھا!
وہ شہرتو بڑا تھا مگر اس کے بیٹے کو الاٹ ہونے والا اس کا کوارٹربہت چھوٹا ! لیکن جب بی بی جی نے اپنی بیٹے کی محبت کی عینک لگا کر اس گھر کو دیکھا تو انہیں یہ گھر دنیا کے آخری کونے تک پھیلا نظر آیا۔نیاز محمد نے جمع پونجی سے شہر کے بیچوں بیچ ایک جنرل سٹور کھول لیااور کچھ ہی عرصے میں گویااوپر سے من و سلویٰ اترنے لگا۔جب انہوں نے اپنے بیٹے کی شادی طے کی توبی بی جی نے اس گھر کی تزئین و آرائش پر پیسوں سے زیادہ اپنا وقت اور دن رات خرچ کیے۔ ایک برس بعد جب انہوں نے پوتے کی نعمت کا ذائقہ پہلی بار چکھا توبی بی جی کی خوشی دیدنی تھی۔انہوں نے اپنی زیرِ نگرانی پورے گھر پر نئی قلعی کروائی،اسے برقی قمقموں سے سجایا، نئے گملے لا کر رکھے،دیگیں پکوائیں، ہیجڑے ناچے تو دل کھول کراپنے ہاتھوں سے انہیں خوب بیلیں بھی دیں۔سارا دن وہ اپنے پوتے کو گودلیے پھرتیں اور اس کی خاطر نیاز محمد، اپنے بیٹے اور اپنی بہو سے لڑ پڑتیں۔پوتا ایک سال کا ہوا تو اسے گود میں اٹھائے پورے شہر کا پیدل چکر لگا آیا کرتیں۔ مجال ہے کہ ان کے ماتھے پر تھکن کی ایک بھی شکن ابھرتی۔
’’تم تھکتی نہیں ہو اسے گود میں اٹھا اٹھا کر؟ ‘‘
’’کمال کرتے ہیں آپ بھی۔کبھی مُولی بھی اپنے پتوں پر بھاری ہوئی ہے؟ ‘‘
’’مجھے تو لگتا ہے تمہیں اپنے جالندھر والے گھر سے بھی اس قدرپیار نہیں تھا جتنا تمہیں اپنے پوتے سے ہے! ‘‘
’’دیکھ لیجیے گا اگر زندگی نے مہلت دی تو میرا یہی پوتا مجھے جالندھر جیساگھر واپس کرے گا! ‘‘
بی بی جی نے اپنے پوتے کے سر پر ہاتھ پھیر کر کچھ اس یقین اور اندازسے کہا کہ نیاز محمدکو احساس ہوا کہ اپنی بیوی کو اس کااپنا گھر لَوٹانے کی پہلی ذمہ داری اب بھی اسی کی تھی۔ کچھ عرصے بعد جب ان کا بیٹا ایک دفتری سازش کا شکار ہو کر اپنی نوکری گنوا بیٹھاتو انہیں ایک مہینے کے اندر اندر گھر چھوڑنے کا نوٹس مل گیا۔بی بی جی کے لئے یہ دہری افتاد تھی۔بیٹے کی بے روزگاری کی پریشانی الگ اور اس گھر کو چھوڑنے کا قلق الگ اوران کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے ان بیتے سالوں میں اس سرکاری کوارٹر کو بھی اپنا گھر سمجھ لیا تھا۔ایک نئی کالونی میں کرائے کا مکان لینے کے بعد ایک بار پھر اس گھر سے نکلنے والی وہ آخری فرد تھیں۔اس گھر کو چھوڑنے سے پہلے وہ کتنی ہی دیر اس کی دیواروں کو نمناک آنکھوں سے دیکھتی رہیں جن پر انہوں نے آندھیوں کے موسم میں بھی کبھی گرد کی تہیں نہیں جمنے دی تھیں۔کتنی ہی دیر وہ چپ چاپ ڈیوڑھی کی سرخ اینٹوں کو گھورتی رہیں جس پرہر صبح وہ بڑے اہتمام کے ساتھ اپنی نگرانی میں جھاڑو لگوایا کرتی تھیں۔کتنی ہی دیر وہ کپکپائے ہاتھوں سے اس مکان کے بیرونی دروازے کو تالا لگانے کی کوشش کرتی رہیں مگر ہر بار آنسوؤں کے دائرے پھیل کر منظر کو دھندلا دیتے۔اپنے والدین کے گھر کو شامل کر کے یہ چوتھا مکان تھا جسے انہوں نے اپنا گھر سمجھ لیا تھا اور وہ ان سے چھن گیا تھا،جہاں انہیں بہت سی خوشگواس یادیں ان گھروں کے آنگن میں دفن کر کے نکلنا پڑا تھا!
’’یہ لو نئے گھر کی چاپی!۔میں نے دکان بیچ دی ہے ۔میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اورصفدرعدالت میں بیٹھیں گے۔وہ ٹائپنگ کرے گا اور میں اسٹام فروشی کیا کروں گا۔ آج کے بعد اللہ نے چاہا تومیرے جیتے جی اس گھر سے تمہیں کبھی نہیں نکلنا پڑے گا! ‘‘ نیاز محمد نے ایک شام کنجیوں کا بڑا سا گچھا بی بی جی کے ہاتھ تھماتے ہوئے انہیں زندگی کی سب سے بڑی خوشی عطا کر ڈالی۔وہ فرطِ انسباط،تشکر اور جذبات سے کتنی ہی دیر ان کنجیوں کو چومتی رہیں اور جب انہوں نے پہلی بار اس مکان کا دروازہ کھولا تو اس کی دگوگوں حالت دیکھ کر بھی ان کی تیوری پر کوئی بل نہیں پڑا۔انہوں نے اس مکان کو گھر میں بدلنے کا بیڑا ایک بار اٹھایا اور تھوڑے عرصے میں اس خستہ حال مکان کو ایک ایسے پر سکون آشیانے میں تبدیل کر دیا جس کے اندر قدم رکھتے ہی سب کی تھکن اڑنچھو ہو جایا کرتی تھی۔اس گھر کی سب سے منفرد خاصیت بیچوں بیچ آم کا ایک درخت تھا جس کی شاخوں پر لگے آم آنگن کے فرش کو چوما کرتے تھے۔اللہ نے نیاز محمد اور ان کے بیٹے کے کام میں برکت ڈالی اور آمدنی کا تنگ منہ ایک بار پھر دھیرے دھیرے کھلنے لگا۔ بی بی جی کی ایما پرجب اس آمدنی کا معقول حصہ اس گھر کی حالت بہتر کرنے میں صرف ہونے لگا تو ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہی خستہ حالت گھر اس کالونی کا سب سے شاندار گھر شمار ہونے لگا اور لوگ خوبصورتی میں اس کی مثالیں دینے لگے۔بہت کم لو گ جانتے تھے کہ اس کی حالتِ زار بدلنے میں سب سے بڑا کردار صرف بی بی جی کا ہی تھا!
قدرت کو شاید بی بی جی کا مزید امتحان مقصود تھا۔ ایک بار گرمیوں میں ان کی پوتی بی بی جی کے کہنے پر پکے ہوئے آم توڑنے کے لئے درخت پر چڑھی تواسے شاخ پر بندھا ہوا ایک تعویذ نظر آ گیا۔اس نے بی بی جی کو اس کے بابت بتایا تونجانے ان کے من میں کیا سمائی کہ انہوں نے اسے وہ تعویذ اتار پھینکنے کا حکم صادر کر دیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس گھر پر جنات کا سایہ تھا اوران سے پہلے رہنے والے لوگوں نے کسی پہنچے ہوئے بزرگ کی مدد سے ان جنات کو اس تعویذ کی مدد سے باندھ رکھا تھا۔ اس تعویذ کا کھلنا تھا کہ بی بی جی کے گھر پرپے در پے مصیبتیں نازل ہونے لگیں۔پہلے ایک رات پراسرار طور پر کمرے میں آگ لگ گئی اور نیاز محمد اس آتشزدگی کے باعث بری طرح جھلس گیا اور ایک ہفتہ اپنے زخموں سے لڑنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔بی بی جی نے ابھی بمشکل بیوگی کا دکھ قبول کیا تھا کہ ان کا اکلوتا بیٹا عدالت کا باعزت کام چھوڑ کرجلد بہت زیادہ پیسے کمانے کے چکر میں ویزے بیچنے کے کاروبار میں پڑ گیا۔ نام نہاد دوستوں نے بی بی جی کے سادہ مزاج بیٹے کی پیٹھ میں ایسا چھرا گھونپا کہ ایک دن اسے لوگوں کے پیسے واپس کرنے کے تقاضوں سے بچنے اور اپنی عزت بچانے کے لیے اپنا گھر بیچنا پڑا۔بی بی جی پر یہ خبر بجلی بن کر گری۔اپنے تئیں وہ تو یہی سمجھ بیٹھی تھیں کہ باقی زندگی اپنے گھر کی چھت سے کبھی محروم نہ ہوں گی۔نیاز محمد کی وفات کے بعدان کا بیٹا کیا کرتا پھر رہا تھا انہیں اس کی بالکل خبر نہیں تھی۔ خبر ہوئی تو تب جب پانی سر سے اونچا ہو چکا تھا اور اس کا علاوہ مسئلے کا اور کوئی حل باقی نہیں بچا تھا۔جس گھر کی ایک ایک اینٹ انہوں نے نئے سرے سے جمائی تھی ،جس کے ایک ایک کونے کوانہوں نے بڑے ارمانوں سے سنوارا تھااورجو ان کے مرحوم شوہر کی نشانی تھا،اس کو چھوڑتے ہوئے بی بی جی بالکل اسی طرح روئیں جس طرح وہ اس سہ پہر نیاز محمد کا جنازہ گھر سے اٹھتے ہوئے روئی تھیں۔آم کا درخت جسے انہوں نے اولاد کی طرح پیار تھا وہ بھی تعویذ اتارنے کے بعدبیماری کا شکار ہو کر سُوکھ گیا تھا۔ گھر چھوڑتے ہوئے اپنے بڑے پوتے کے ہمراہ بی بی جی نے آنسوؤں سے تر چہرے کے ساتھ اس کے تنے پر آخری دفعہ یوں ہاتھ پھیرا تھا جیسے بھری جوانی میں موت کا شکار ہو جانے پر والدین مردہ بیٹے کے چہرے پردکھ اوربے یقینی کے ساتھ ہاتھ پھیرا کرتے ہیں!
اگلی جمعرات جب بی بی جی حسبِ معمول اپنے بڑے پوتے کو ساتھ لے کر نیاز محمد کی قبر پر گئیں تو روتے ہوئے ان سے گلے کرنے لگیں۔
’’آپ توکہتے تھے کہ اس گھر سے مجھے کوئی نہیں نکال سکے گا۔دیکھ لیں آپ کے جانے کے ایک سال کے اندر اندر وقت اور حالات نے ایک بارپھرمجھ سے میرا گھر چھین لیا ہے۔کتنی محنت سے میں نے اس گھر کو سینچا تھا۔ایک سال پہلے آپ اس گھر سے رخصت ہو گئے تھے اور آج میں بھی اس گھر سے چلی آئی ہوں۔فرق صرف اتنا ہے کہ میری سانس ابھی چل رہی ہے! ‘‘
بی بی جی کو روتے دیکھ کر ان کے پوتے نے ان کے پلّو سے ان کے آنسو پونچھے۔
’’میں بنا کر دوں گا بی بی جی آپ کواپنا گھر۔اپنے ان ہاتھوں سے۔ایسا مضبوط گھرجس میں سے کوئی آپ کو کبھی بھی نہیں نکال سکے گا! ‘‘
بی بی جی نے اپنے سولہ سالہ پوتے کی آنکھوں میں امید اور لہجے میں عزم اور ولولہ دیکھا او ر اسے فرطِ جذبات سے گلے لگاتے ہوئے اپنے گھر کی نئی امیدزندگی میں ایک بار پھر باندھ ڈالی!
کرائے کا پرانا مکان بی بی جی کو ایک آنکھ نہ بھایا۔ اپنے بیٹے کی پریشانی کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے انہیں بمشکل یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔اس پرانے گھر کی مخدوش چھت میں ڈھیروں چھید تھے اور جب بارش ہوتی توگارے نما پانی دیواروں پر اپنی لکیریں چھوڑتا ہوا پچھلی بارش کا زخم تازہ کر دیا کرتا۔اس گھر کی بنیادوں میں اینٹیں کم اور حشرات الارض زیادہ تھے ۔کالے اوربھورے رنگ کے چیونٹے اور چیونٹیاں آزادانہ گھوماتے نظر آتے تو بی بی جی کا پارہ ہر بار نئے سرے سے چڑھ جاتا۔ وہ غصے میں اپنی قسمت کو خوب کوستیں اور اپنے بیٹے کے ان سب دوستوں کو ایسی ایسی گالیوں اور بد دعاؤں سے نوازتیں جس سے اور تو کچھ نہ ہوتا مگر ان کے پوتے اور پوتیوں کی معلوماتِ عامہ میں دلچسپ اضافہ ضرور ہوجاتا ۔چونکہ بڑے پوتے کو ان کے ساتھ مذاق کرنے کی خصوصی سہولت میسر تھی چنانچہ جب وہ ان سے ’’ڈکرے کرانے ‘‘،’’کالے منہ اور نیلے پیروالے ‘‘اور’’دادے کی پیڑھی ہگانے والے ‘‘ کا آسان ترجمہ کرنے کو کہتا تو شدید غصے میں ہونے کے باوجود بی بی جی کی ہنسی نکل جاتی اور وہ اپنے بڑے پوتے کوبڑے پیار سے ’’ویڑکا ‘‘ کہتے ہوئے اپنا آنچل اپنے پوپلے منہ میں ٹھونس لیتیں!
بی بی جی کے بیٹے نے نئے سرے سے معاشی جدوجہد شروع کی تو ان کے بڑے پوتے نے تعلیمی اوقات کے بعد اپنے باپ کا ساتھ دینا شروع کرد یا۔ تپتی گرمیوں کی سہ پہروں میں بی بی جی روح افزا شربت کا جگ بھرے اپنے گھر کی دہلیز پر بیٹھ کر دونوں کی راہ دیکھا کرتیں۔سال یوں گذرنے لگے جیسے ہائی وے سڑک سے تیز رفتار ٹریفک گذر ا کرتی ہے۔ان دونوں کی جد و جہد بمشکل سفید پوشی کا بھرم رکھ پاتی ۔ کام اور ذمہ داریاں بڑی تھیں اور چادر چھوٹی تھی سو بار باراس گٹھڑی کی گانٹھ کھل جاتی۔دھیرے دھیرے بی بی جی کو اپنے گھر کا خواب پانی پر بہتا ہواایسا مکان لگنے لگا جسے پانی کی لہریں ان کی بصارتوں سے دور کرتی جارہی تھیں!
ایک مضمحل شام کے بوجھل لمحے میں ان کے بڑے پوتے نے تھکے ہوئے لہجے میں ایسا اعتراف کیا کہ بی بی کا کلیجہ منہ کو آ گیا۔
’’بی بی جی ۔سو روپے کی دیاڑھی سے نہ تواپنامکان بن سکتا ہے اور نہ ہی چھوٹی دونوں بہنوں کی شادیاں۔اور کچھ دنوں میں ان کے رشتے آنے لگے تو ہم کیا کریں گے۔اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ میں بیرونِ ملک چلاجاؤں گا ۔ابا جی سے بھی اب کام نہیں ہوتا۔ہمارے تمام بڑے بڑے کاموں کاحل صرف اسی طرح نکل سکتا ہے! ‘‘
’’نہ میرا بچہ۔تمہارے بغیر ہم سب۔! ‘‘ مگر بی بی جی کے پوتے نے انہیں بات بھی مکمل نہ کرنے دی۔
’’بی بی جی۔ہر بڑا کام قربانی مانگتا ہے۔میں اپنی بی بی جی کا اپنے گھر والا خواب پورا کرنا چاہتا ہوں۔اور یہ بیرونِ ملک جائے بغیر ممکن نظر نہیں آتا!‘‘
’’چولہے میں جائے اپنا گھر۔تمہارے بغیر میرا سانس رک جائے گا! ‘‘
’’کچھ بھی نہیں ہوگا بی بی جی۔آپ دیکھیں گی اس سفراور قربانی سے ہمارے دن بدل جائیں گے۔اور پھر میں ہمیشہ کے لیے تھوڑا ہی جا رہا ہوں۔جس روز بہنوں کی شادیاں ہو گئیں اور اپنا گھر بن گیامیں اپنی بی بی جی کے پاس واپس چلا آؤں گا! ‘‘
اور پھروہ بی بی جی کوروتا چھوڑ کر بیرونِ ملک چلا گیا۔وہ ہر ہفتے سب گھر والوں کے ساتھ فون پر باقاعدگی کے ساتھ بات کرتا تو بی بی جی کی گفتگو میں ان کی مخصوص روزمرہ کی فکریں جھلکتیں۔
’’کھانا توٹھیک سے کھاتے ہو ناں؟ ‘‘
’’سڑک دھیان سے پار کیا کرو!‘‘
’’کپڑے کہاں سے استری کرواتے ہو؟‘‘
’’نماز تو باقاعدگی سے پڑھتے ہو ناں؟‘‘
اور آخر میں رندھی رندھی آواز میں ہر بار اپنے دل کی اصل بات ضرور کہتیں!
’’میں تمہیں بہت یاد کرتی ہوں بیٹے۔ دن گن گن کر تمہارا انتظار کرتی ہوں۔یوں لگتا ہے تمہیں صدیوں پہلے دیکھا تھا! ‘‘
بی بی جی کو ہر ماہ اپنے بیٹے کے ہاتھوں جب اپنے پوتے کے صرف ان کے لیے بھیجے ہوئے پیسے ملتے تووہ انہیں کوئی مقدس صحیفہ سمجھتے ہوئے چوم کر اور آنکھوں سے لگاکراپنے پنسورے میں محفوظ کر لیتیں جہاں انہوں نے اپنے پوتے کی تصویر رکھی ہوئی تھی۔بی بی جی نے دو سال دو صدیوں کی طرح گذارے اور جب ان کا پوتا پہلی چھٹی پروطن واپس آیا تو انہوں نے اس کی آمد سے ایک رات پہلے اپنے مرحوم شوہر کے دئیے ہوئے نئے کرنسی نوٹ جو انہیں بیحد عزیز تھے کو گلابوں کے ہار میں اپنے ہاتھوں سے پرویا اور ایئر پورٹ پر اس کے گلے میں کانپتے ہوئے ہاتھوں سے ڈالا۔کتنی ہی دیر وہ اسے اپنے گلے سے لگائے روتی رہیں۔
’’بہن کی شادی تو دھوم دھام سے ہو گئی بی بی جی۔مگر سچ یہ ہے کہ میری تنخواہ بہت زیادہ اچھی نہیں۔کچھ قرض چڑھ گیا ہے مگر فکر کی کوئی بات نہیں انشاء اللہ آپ کی دعاؤں سے چھ ماہ میں اتر جائے گا۔اس کے بعد ہم چھوٹی کی شادی کریں گے اور اس کی شادی ہوتے ہی میں سب پیسے صرف آپ کو بھیجا کروں گا تا کہ وہ وعدہ پورا ہو سکے جو میں نے آپ سے کر رکھا ہے۔جو میری زندگی کا سب سے بڑا مشن بھی ہے ۔بی بی جی کا گھر!۔آپ کا اپنا گھر بنانے کا وعدہ !‘‘
اپنے پوتے کی باتیں سن کرسارے جہان کی خوشی اور کرب ایک ساتھ بی بی جی کی ضعیف آنکھوں میں جمع ہو گئے ۔
’’پورا مہینہ اتناخوش رہی تو بھول ہی گئی کہ تمہیں واپس بھی جانا ہے ۔قرض نہیں لینا چاہیے تھا بیٹے۔جتنی چادر ہو اتنے ہی پیر پھیلانے چاہئیں۔سادگی سے بہن کی شادی کر لیتے۔اب میرے بیٹے کی عمر کے چھ قیمتی ماہ اس دکھاوے کی قیمت ادا کرنے میں صرف ہو جائیں گے۔اپنا چہرہ غور سے دیکھو۔.پردیس میں کاٹے صرف دو سالوں نے میرے بیٹے کے چہرے کی تازگی اور خوش مزاجی چھین کراس پر سنجیدگی کا ایک بھاری غلاف چڑھا ڈالا ہے۔اپنے گھر سے زیادہ انتظار اب مجھے تمہارے لَوٹنے کا رہتا ہے۔عمرکا آخری سٹیشن کب آجائے کسے اس کی خبر ہے! ‘‘
ان کا پوتا پھر چلا گیا اور اس بار بی بی جی کے لیے اسے رخصت کرنا پہلی بار سے بھی زیادہ مشکل لگا۔اپنا قرضہ اتارکر اگلی چھٹی جب وہ اپنی دوسری بہن کی شادی کرنے آیا توجاتے جاتے اس کے والدین نے اسے اپنی شادی کی زنجیر میں باندھ ڈالاسو ایک اور برس اس وعدے کی تکمیل میں خرچ ہو گیا۔ جس روز ان کے پوتے کی شادی ہوئی اس روز بی بی جی ساتویں آسمان پر تھیں اور وہ اس خوشی میں سرمئی بادلوں کی انگلی تھام کر کبھی ادھر نکل جاتیں توکبھی ادھر۔یہی وجہ تھی کہ اس پورے عرصے میں تمام بادلوں کی نہاں نمی ان کی آنکھوں سے برستی رہی۔انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اس کا سہراباندھا،سب سے پہلے اس کا ماتھا چوما اور اس کی بارات کے ساتھ لمبا سفربھی کیا۔شادی کے بعداس کی دلہن کے صدقے واری جاتے ہوئے اس کا بھرپور استقبال بھی کیا۔ جاتے ہوئے جب ان کے پوتے نے شرمندہ لہجے میں ان کے کان میں اس شادی کے باعث مزید قرضہ چڑھنے کا راز افشا کیا تو بی بی جی کی آدھی خوشی پکے فرش پر گر نے والے کسی شیشے کے گلاس کی طرح چکنا چور ہو گئی۔وہ کچھ چاہتے ہوئے بھی اس بارکچھ نہ کہہ پائیں اور جاتے ہوئے اپنے پوتے کو اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بس اتنا ہی کہہ پائیں۔
’’اب ایک سال اورقرضہ اتارنے میں اپنی جان کھپاؤ گے۔مجھے لگتا ہے یہ بات سن کرمیری کمر آج اور جھک گئی ہے۔اللہ تمہاری سب مشکلیں آسان کرے بیٹے! ‘‘
ان کا پوتا اپنے وعدے کا اعادہ کرتے ہوئے ایک بار پھر رخصت ہو گیا۔ اپنی شادی کا قرض تو وہ کیا اتارتا، شادی کے بعد اپنی بیوی کو اپنے پاس بلانے اور اپنا گھر سیٹ کرنے میں وہ کچھ مزید مقروض ہو گیا اور نتیجتاً بی بی جی کی عمر کے دو اور قیمتی برس اسی چکر میں صرف ہو گئے۔دو برس بعدجب انہوں نے اپنے پوتے کے خوبصورت بیٹے کو پہلی بار دیکھا تو انہیں محسوس ہوا جیسے ان کی کمر کا خم بالکل ختم ہو گیا ہو۔ہر وقت دھوپ میں لے کر بیٹھی اپنے پڑپوتے کے چاند سے چہرے کو خوشی سے تکتی رہتیں اور اس کا ناک اور ماتھا اپنے ہاتھوں سے دباتی رہتیں اور دل ہی دل میں اس کے لیے دعائیں کرتی رہتیں۔ اپنے پڑپوتے کو گودمیں لے کر اپنے پوتے اور بیٹے کواپنے ارد گرد بٹھا کرخاص فرمائش پر ایک تصویرکھنچوائی جس کے بعد انہوں نے بڑے فخر کے ساتھ سب کو کہا تھا۔
’’بھلا مجھ سا خوش نصیب بھی کوئی اور ہو گا۔اپنی اولاد کی اولاد کی اولاد کوگودکھلانی نصیب ہوئی۔اس یادگار تصویر میں چار نسلیں ایک ساتھ نظر آئیں گی!
بڑھاپے کا کڑوا سچ محبتوں اور قربتوں کی میٹھی تھپک کوکبھی نہیں مانتااور جب وقت کسی ریل گاڑی کی طرح تیز رفتاری کے ساتھ گذر جاتا ہے تو پٹڑی پر رکھے کسی سکے کی طرح انسان کے سب ارادے، خواب اور خواہشیں بری طرح مسخ ہو کر اپنی اصل ہیئت کھو بیٹھتے ہیں۔وہ دھند میں لپٹی سردیوں کی ایک ٹھٹھرائی ہوئی رات تھی جب بی بی جی کو پہلی بارمرگی کا دورہ پڑا۔اس بات کو معمولی واقعہ قراردے کر ان کے بیٹے نے سب کو یہی ہدایت کی کہ بی بی جی کے پوتے کو خبر نہ کی جائے جو ان دنوں اپنے ایک نئے قرضے سے نبردو آزما تھاورنہ اپنی بی بی جی کی خرابئ طبیعت کی خبر سنتے ہی وہ ایک نیا قرض اپنے سر چڑھا کر دوڑا چلا آتا۔ کچھ عرصہ ان کا علاج چلتا رہا مگر کچھ خاص افاقہ نہ ہوا اوربی بی جی کو مرگی کے دورے اب تواتر کے ساتھ پڑنے لگے۔ ایک روز فون پر بات کرتے ہوئے اس نے بی بی جی کی آواز میں غیر معمولی نقاہت بھانپتے ہوئے اپنی تشویش ان کے ساتھ بانٹی تو وہ بے اختیاررو پڑیں اور محض اتنا ہی کہہ سکیں۔
’’تم آ نہیں سکتے؟۔میں تمہیں بہت یاد کرتی ہوں بیٹے! ‘‘
ان کی بات سن کر بی بی جی کے بیٹے نے فوراً فون ان کے ہاتھ سے لے لیا اور ان کے سوال کوموسمی نزلہ زکام اور اداسی کی وجوہات میں لپیٹ کر گول کر دیا مگر ایک گہری تشویش نے بی بی جی کے پوتے کے دل میں ڈیرے ڈال لیے۔اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور بیوی بچوں سمیت چھٹی لے کر پاکستان آن پہنچا۔ پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ ایئر پورٹ پر بی بی جی اس کے استقبال کو موجود نہیں تھیں سواس کی پریشانی دو چند ہو گئی۔جب وہ گھر پہنچا تو اسی صبح بی بی جی پر مرگی کا ایک اور شدید دورہ پڑا تھا اور وہ اپنے بستر پر نیم بے ہوشی کی حالت میں پڑی تھیں۔ پہلی بار بی بی جی کواپنے پیارے پوتے کے آنے کی نہ تو خبر ہو سکی اور نہ ہی وہ اس کا ہمیشہ کا طرح شاندار استقبال کر سکیں۔وہ جب تک ہوش میں نہیں آ گئیں ان کا پوتااپنی بی بی جی کا ہاتھ تھامے پتھرائی آنکھوں سے ان کا بجھا ہواچہرہ دیکھتا رہا۔یہ وہ چہرہ نہیں تھا جہاں اسے زندگی، امان اور چھاؤں کے معنی و مفہوم سمجھ میں آیا کرتے تھے۔بیماری کے باعث ان کا وجود ان چند مہینوں میں سمٹ کر پہلے سے بھی آدھا رہ گیا تھا۔وہ آنکھوں سے رواں آنسو بھری آنکھیں لیے تب تک ان کے سرہانے بیٹھا رہا جب تک انہوں نے آنکھیں نہیں کھولیں۔جونہی بی بی جی نے اپنے پوتے کو اپنے سرہانے بیٹھے دیکھا توحیرت اور خوشی کے زیادتی سے انہوں نے اٹھنے کی کوشش کی جسے ان کے پوتے نے ناکام بنا دیا۔
’’نہیں بی بی جی۔آپ اپنی جگہ سے ایک انچ نہیں ہلیں گی ۔میں آ گیا ہوں اب آپ کی طبیعت بالکل ٹھیک ہو جائے گی۔خبردار جو آپ نے کوئی گڑبڑ کی ورنہ میں آپ سے ناراض ہو جاؤں گا! ‘‘
بی بی جی کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکل سکا اور اپنے پوتے کے تھامے ہوئے ہاتھ پر ان کی گرفت مضبوط ہو گئی۔ایک پل کے لیے ان کے زرد چہرے پر خوشی کی سرخی کسی قوسِ قزح کی مانند ابھری اور اپنے ساتھ آنکھوں سے نکلے ایک باغی آنسو کو اپنے ہمراہ لے کرآن کی آن میں گم ہو گئی۔ایک ہفتہ اس نے اپنی بی بی جی کی خوب خدمت کی۔ وہ ہر وقت ان کے سرہانے بیٹھا رہتا اور ان کے منہ میں کبھی شہد، کبھی جوس اور کبھی دودھ کے چمچ ڈالتا رہتا۔ وہ بہت کم بول پاتیں اور زیادہ ترلبوں پر ہلکی مسکراہٹ سجائے اپنے پوتے کا چہرہ تکتی رہتیں اور اس کی زیادہ تر جلد ٹھیک ہونے والی دھمکیوں اورسوالوں کے جواب محض سر ہلا کر ہی دے پاتیں۔
’’اپنی بی بی جی کے گھر کے لیے آدھے سے زیادہ پیسے میں نے اکھٹے کر لئے ہیں۔.اگلے سال گھر کی تعمیر شروع کر دوں گا۔بس جلدی جلدی آپ ٹھیک ہو جائیں کیونکہ اس گھر کا فیتہ صرف آپ نے کاٹنا ہے اورجانتی ہیں اس گھر کے باہرآویزاں تختی پرسنہری رنگ کے ساتھ اس گھر کے مالک کاکیا نام لکھا ہوگا۔بی بی جی کا گھر! ‘‘
صرف اللہ کی ذات جانتی تھی یا پھر بی بی جی کا پوتا کہ اس کی ایک ایک بات جھوٹ تھی اور وہ ابھی تک بال بال قرضے میں جکڑا ہوا تھا!
ہر ہفتے جب بی بی جی کو ڈاکٹر کے پاس طبی معائنے کے لیے لے جانا ہوتا تو ان کا پوتا انہیں اپنی گود میں اٹھا کر کار کی پچھلی سیٹ پربٹھا تا ۔تین بار تو بی بی جی خاموش رہیں لیکن چوتھی بار انہیں لے جاتے ہوئے بی بی جی کے منہ سے بے اختیارنکل گیا۔
’’کب تک مجھے یوں اٹھا اٹھا کر پھرتے رہو گے۔کوئی فائدہ نہیں ہو گا! ‘‘
’’خبردار جو آپ نے اس طرح کی بات کی۔ساری عمر آپ مجھے گودمیں اٹھا اٹھا کر چلتی رہی ہیں۔کہاں سے چلتی تھیں اور کہاں پہنچتی تھیں۔ اب میری باری آئی تو ایسی بات کر رہی ہیں؟ ‘‘
اس روز ڈاکٹر نے جب الگ لے جا کر اسے اور ان کے بیٹے کو بتایا کہ ان کا جگر مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور وہ چند دنوں کی مہمان ہیں توان کے پوتے کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کا عزم اور امیدمسلسل بارش سے ہار کر گرنے والی غریب کی کسی چھت کی طرح اس کے اوپر آن گرے ہوں۔ وہ لڑکھڑاتا ہوا جب بی بی جی کے سٹریچر کے پاس آیا تو وہ چھت کو خالی خالی نظروں سے گھور رہی تھیں۔ اس کا جی چاہا کہ وہ چیخ چیخ کر روئے ،اتنا روئے کہ اس کے آنسوؤں کے سیلاب میں وقت ،عمر اور ناپائدار کے تمام بے رحم اصول بہہ جائیں جو کسی محبت اوررشتے کو نہیں مانتے۔وہ کمال ضبط کے ساتھ بی بی جی کے پاس آیا اور ان کو بالوں میں اپنا کانپتا ہاتھ پھیرتے ہوئے سوچنے لگا۔
’’میری بی بی جی کا یہ مہربان اور شفیق چہرہ اور یہ ناتواں بدن منوں مٹی کا بوجھ کیسے اٹھائے گا۔جو ساری عمر کسی پر بوجھ نہیں بنیں وہ اتنا بھاری بوجھ کیسے اٹھائیں گی۔.اور وہ میرا جھوٹا وعدہ۔اس کا کیا ہو گا۔میری بی بی جی اپنے گھر کی خواہش اپنے دل میں لے کر اس دنیا سے بے گھر چلی جائیں گی۔اور میں زندگی کے کسی دور میں اپنے گھر میں پہلا قدم کس منہ کے ساتھ رکھوں گا۔اپنی بی بی جی کو قیامت کے روز کیا منہ دکھاؤں گا۔. اپنی ذات سے جڑی خواہشوں اور ارادوں کی بنیادیں مضبوط کرنے میں جت گیا اور اپنی بی بی جی کے گھر کی بنیاد کی ایک اینٹ بھی نہ رکھ سکا۔میںآپ سے شرمندہ ہوں بی بی جی۔آپ کا پوتا دنیا کا جھوٹا ترین شخص ہے۔جو آپ کے حلق میں جھوٹی امید کا زہر اور آنکھوں میں جھوٹے وعدوں کا کڑوا دھواں جھونکتا رہا۔مجھے معاف کر دیں ۔آپ نے مجھے کیا دیا اور بدلے میں میں نے آپ کو کیا دیا!!! ‘‘
’’سامنے والی کھڑکی کھول دو! ‘‘
اس رات وہ آخری لفظ تھے جو بی بی جی نے اپنے پوتے کی گود میں سر رکھے ہوئے بالکل اسی طرح ادا کیے جس طرح کسی سالانہ امتحان کی تیاری کرتے ہوئے وہ جب کبھی اس کی کمرے میں آتیں تو اسے کہاکرتیں۔
’’سامنے والی کھڑکی کھول کر پڑھا کرو۔تازہ ہوا آتی ہے تو دماغ بھی تر و تازہ ہو جاتا ہے اور یاد بھی جلدی ہوتا ہے۔گھروں میں کھڑکیاں اور روشندان روشنی اور تازہ ہوا کے لیے رکھے جاتے ہیں! ‘‘
مگر آج بی بی جی کی اس بات کا مطلب کچھ اور تھا۔ایک گہرے سرخ رنگ کا محلول ان کے منہ سے نکلا ،ایک لمبا اور اس دنیا میں اپناآخری سانس لیا،ان کا جسم دھیرے سے پھڑپھڑایا ، عمر سے ہاری ہوئی آنکھ سے آخری آنسو اپنا گھر خالی کر کے ایک عظیم وجود کو سلامی دیتے ہوئے نکلا اور بی بی جی کی آخری نظر اپنے پوتے کے چہرے پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ٹھہر گئی!!!
صبح بیریوں کی الجھی نوکیلی شاخوں سے لہولہان تھی اور اس کی طرح بی بی جی کا پوتا بھی اپنی پوریں زخمی کر کے روتے ہوئے ان کے مقدس اور پاکیزہ جسدِ خاکی کو غسل دینے کے لیے بیری کے پتے توڑ رہا تھا ۔ اپنی وعدہ خلافی کا کرب زہر بن کر دھیرے دھیرے اس کے وجود میں پھیلتا چلا جا رہا تھا اور اس کے اندر جمع ندامت کا مَیلاسیلاب اس کی آنکھوں کے راستے مسلسل اس کے عارض گیلے کر رہا تھا۔جیسے دریا کا پشتہ ٹوٹ گیا تھا اور کناروں سے بُھربھری مٹی ٹوٹ ٹوٹ کر دریا میں گر رہی تھی!
وقت آج بھی بغیر پیچھے مڑ کر دیکھے گزرتاچلا جا رہا تھا اور بی بی جی کے آخری سفرکا لمحہ پاس چلا آ رہا تھا۔ سب کی دھاڑوں، آہوں اور سسکیوں میں جب بی بی جی اپنے آخری پڑاؤ کی طرف روانہ ہوئیں تو وہ سوچنے لگا کہ وہ کس منہ سے اپنی بی بی جی کے جنازے کو کاندھا دے گا۔یہ وہی کاندھا تھا جس پر انہوں نے بڑی امید کے ساتھ ہاتھ رکھتے ہوئے اس سے ایک امید باندھی تھی ۔اسی جھوٹے کاندھے پروہ بی بی جی کے وجود کو کیسے اٹھائے گا۔یہی وجہ تھی کہ قبرستان پہنچنے تک اسے اپنی بی بی جی کے جنازے کو کاندھا دینے کی ہمت نہیں ہوئی!
بوجھ تھا کہ بڑھتا چلا جا رہا تھا!
اب کچھ ہی لمحے باقی بچے تھے اور پھر ندامت اور وعدہ خلافی کی ایک بھاری سِل ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کی زندگی اور سینے کا لازمی حصہ بننے والی تھی!
بی بی جی کی قبر کے لیے جو جگہ ملی اس کے اوپر گھنی چھاؤں والی ایک نِیم کا پرانادرخت تھا ۔بی بی جی کا جنازہ قبرستان پہنچ گیا مگر اتفاقاً ابھی تک قبر تیار نہیں ہوئی تھی اور گورکن کدال کے ساتھ دو گز کا گڑھا کھودنے میں تا حال مصروف تھا۔ وہ بی بی جی کی چارپائی کے ساتھ بیٹھا ان کے سفید کفن کو گھورے جا رہا تھااور ابھی تک اپنے ضمیر اور غم کے بوجھ سے لڑنے میں مصروف تھا!
اور پھر نجانے اسے کیا ہوا!
وہ آنسو پونچھتے ہوئے اٹھا اور پاس پڑی ہوئی کدال اٹھا کر اس قبر میں اتر گیااور گورکن کے ہمراہ دیوانہ وارقبر کھودنے لگا!
بی بی جی کے گھرکی تعمیربالآخرشروع ہو گئی تھی !!!