افسانہ

مٹی اور سڑک

’’اس بد بخت کونسلر کو اللہ ہدایت دے۔بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہوں تو کشکول لے کر ووٹ مانگنے آ جاتا ہے۔اس کے بعد اس کا کہیں دور دور تک کوئی نشان نہیں ملتا۔ اسے ذرا سا احساس نہیں کہ محلے کی اس سڑک کی کتنی بری حالت ہے۔اس پر توپیدل چلنے والے کی بھی سلامتی محفوظ نہیں!‘‘ چونتیس برس ...

مزید پڑھیے

نور

’’وہ کسی سخن ور نے کیا خوب کہا ہے۔۔۔کنج میں بیٹھے ہیں چپ چاپ طیور۔۔۔برف پگھلے گی تو پَر کھولیں گے!‘‘ میں شہر کے اس پارک میں بینچ پر تنہا بیٹھا نجانے سوچ کی کس بند گلی میں بھٹک رہا تھا کہ اچانک ایک اجنبی آواز اورحیران کن طرزِ تخاطب نے مجھے چونکا دیا۔ میں نے سر اٹھا کر اس اجنبی کی ...

مزید پڑھیے

محبت کا جوگ

میں کوئی ادیب نہیں ہوں، نہ میری علمی استعداد بہت زیادہ ہے اور نہ میں کسی خاص طرز انشا کا مالک ہوں۔ یہ عمر میں پہلی بار ہے کہ عوام کے سامنے اپنےحالات اور اپنی تحریر پیش کر رہا ہوں، مجھے واقعات کو ترتیب وار بیان کرنا بھی نہیں آتا اور پھر ایسے واقعات جو خود میرے ذہن میں کسی خاص ...

مزید پڑھیے

سبز پری

شاہدشاعر تھا، ادیب تھا، نقاد تھا، فلسفی تھا، غرض کہ بہت کچھ تھا لیکن آج تک وہ اپنے کو منظر عام پرنہیں لایا، دنیا کو نہیں معلوم ہوسکا کہ کسی گوشہ میں کوئی شاہد بھی ہے؟ جو میر و درد کے انداز کے شعر کہتا ہے، جو انگریزی، اردو، فارسی اور ہندی کے شعرا پر بالکل انوکھی تنقیدیں کیا کرتا ...

مزید پڑھیے

جشن عروسی

بڈھا جعفر پاشا اپنے دیوان میں خاموش و متفکر بیٹھا ہوا ہے۔ خدام ادب زرکار ملبوس میں حلقہ باندھے ہوئے حکم کے منتظر کھڑے ہیں۔ جعفر اگرچہ عموماً اپنے بشرہ سے اپنے تفکرات و ترددات کو ظاہر ہونے نہیں دیتا۔ لیکن آج اس کے ماتھے کے بل اس کے اندرونی ہیجان کا کافی پتہ دے رہے ہیں۔ اس کی ...

مزید پڑھیے

محبت کا دم واپسیں

مریم کی تعلیم و تربیت ہی کچھ ایسے ماحول میں اور ایسے اصول پر ہوئی تھی، جو انسان کو بھولا بناکر رکھ دیتے ہیں وہ ضلع بارہ بنکی کے ایک خاندانی زمیندار کی لڑکی تھی جو نہ صرف دولت و ثروت میں صاحب حیثیت تھا بلکہ علم و فضیلت میں بھی ایک خاص مرتبہ کا مالک تھا۔ قاضی عبدالرؤف کے گھر کا ایک ...

مزید پڑھیے

تم میرے ہو

میں جو واقعات بیان کرنا چاہتا ہوں وہ الٰہ آباد کی اس عمارت سے متعلق ہے جو لب جمنا واقع ہے اور ’’احسان منزل‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ واقعات ایسے ہیں جو آسانی سے سب کی سمجھ میں آسکتے ہیں اور میں سمجھانے کی فضول کوشش بھی نہیں کروں گا، کیونکہ دنیا میں بہیتری باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کی ...

مزید پڑھیے

پگڈنڈی

سنتے ہو جون کی دوپہر میں ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ ایسے میں ایک ہلکی، نرم و نازک پگڈنڈی نے نسبتاً بڑی،موٹی مگر مضبوط پگڈنڈی کو ہلایا ہمار لاڈلا سڑک بنے کا چاہت ہے ای کا بکت ہے؟ اْو موا کہت ہے کی اْو سہر جاکر بڑی سڑک بنے کا چاہت ہے نازک پگڈنڈی بولی۔ اری توسمجھایا کاہے ناہی اْس بْڑبک ...

مزید پڑھیے

ابابیل

اس کا نام تو رحیم خاں تھا مگر اس جیسا ظالم بھی شاید ہی کوئی ہو۔ گاؤں بھر اس کے نام سے کانپتا تھا ۔نہ آدمی پر ترس کھائے نہ جانور پر۔ ایک دن رامو لہار کے بچے نے اس کے بیل کی دم میں کانٹے باندھ دیئے تھے تو مارتے مارتے اس کو ادھ موا کر دیا۔ اگلے دن ذیلدار کی گھوڑی اس کے کھیت میں گھس آئی ...

مزید پڑھیے

ٹڈی

(ملک کے مختلف حصوں سے خبریں آرہی ہیں کہ کاشتکار ڈٹ کر ٹڈی دل کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ہوائی جہازوں سے ٹڈی کے دلوں پر زہریلی گیس کا حملہ کیا جارہا ہے۔ اپنی اپنی کھیتیوں کو اس دشمن سے بچانے کے لیے کاشتکار ہر ممکن تدبیر کر رہے ہیں۔ ڈھول بجاکر ٹین کے کنستروں کو پیٹ پیٹ کر ٹڈی دل کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 143 سے 233