نائلون میں لپٹی لاش
کمرے میں سنہری مہک رچی تھی۔ پیلاہٹ اترنے کا آج آخری دن تھا یا زردی چڑھنے کا پہلا دن۔ کوئی بات آج تک طے نہ ہوئی تھی تو یہ کیسے ہوجاتی۔ وہ یہ سب سوچتی سرجھکائے بیٹھی تھی۔ کوئی لڑکی ریڈیو کُھلا چھوڑ گئی تھی۔گھٹیا بے ہودہ قسم کے گانے سننے کا لڑکیوں کو کتنا شوق ہے اس نے سوچا۔
’’اک بچی جس کی عمر چار سال ہے لال رنگ کی فراک پہنے ہے۔ صرف اپنا نام بتا سکتی ہے۔ گم ہوگئی ہے جن صاحب کو اس کے بارے میں علم ہو۔‘‘
آگے اور جانے کیا کیا تھا۔ وہ کچھ نہ سن سکی۔ ریڈیو سے گانے کے دوران اعلان ہوا اور اسے احساس ہوا کہ اس نے اس دوران گانا کوئی نہیں سنا تھا۔ گانے اس نے پچھلے چار روز سے بھی نہیں سنے تھے جو اس کے قریب ہی ڈھولک پر گائے جارہے تھے اسے یاد آیا کہ اُسے بچپن ہی سے حادثات اور گمشدگی کی خبروں سے دلچسپی رہے ہے۔
’’نائلوں کی ملوں میں آگ لگ جانے سے بیشتر لوگ جاں بحق ہوگئے۔ فائربریگیڈ کے عملے کی غیر زمہ داری سے زرمبادلہ کے اس نازک وسیلے کے ضائع ہوجانے پر ملکی مفاد کو دھچکا پہنچا ہے‘‘۔
کچھ دیر بعد لڑکیاں آگئیں۔ ہنستی بولتی اور زیور کپڑے جیسے لوازمات کے بارے میں سوچتی اور بآواز بلند انہی امور پر بحث کرتی۔
’’ارے تم یہ کیا فضول سی خبریں سن رہی ہو‘‘ حنا نے ریڈیو بند کرتے ہوئے کہا۔
’’بی بنو! تمہارے یہ خبریں سننے کے دن نہیں‘‘ اوروہ صرف اسےدیکھ کر رہ گئی۔
ابٹن، خوشبو،تیل اس کے جسم سے اتارا گیا۔ اسے نئے کپڑے پہنائے گئے، جیسے زخموں کو صاف کرکے ان پر اوپر سے پٹی باندھ کر انہین ٹھیک ہونے چھوڑ دیا جائے اور وہ اندر ہی اندر پکتے جائیں۔ پھر اک روز وہ زخم وہیں اگ جاتے ہیں اور جڑو کی طرح اندر کھوکھلا کرتے جاتے ہیں۔
آوازیں، شور، بارات، نکاح اور جانے کیا کیا۔؟؟
نائیلون کے ریشے جھلس رہے تھے اور ان کے اندر زندگی کراہیں لے رہی تھی لیکن جانے کن ہاتھوں کی غیر ذمہ داری سے اس نازک وسیلے کے ضائع ہوجانے پر کسی مفاد پر کوئی آنچ نہ آئی تھی۔
اور پھر اس کی رخصت کا شور اٹھا۔
اس کے کانوں میں آوازیں گونج رہی تھیَ اس نے آنکھوں کی طرح کان بھی بند کرلئے۔
اک آنسو اس کی پلکوں پر اٹکا۔
آج اک اور لڑکی لال کپڑے پہنے گم ہوگئی ہے اور وہ صرف اپنا نام بتا سکتی ہے۔ اس دن کے بعد سے وہ لڑکی کسی کو نہ ملی وہ جیسے گم ہوگئی۔ اس کی ساس بہت خوش ہوئی تھی۔
’’ارے کیسی اﷲ کی گائے سی بہو ملی ہے مجھے‘‘ وہ ہر آئے گئے سے کہتی۔
’’بھئی تم بڑی اچھی بیوی ہو کیسی سستی سی ,کوئی فرمائش بھی نہیں کرتیں‘‘۔
اس کا شوہر کہتا۔
ہاں ہم لڑکیاں ایسی نہ ہوں تو اتنی ارزاں کیوں بکیں ٹکے ٹکے۔ اور ارزاں چیزوں کی تو ویسے بھی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ وہ گھر میں محض ضرورتاً ہوتی ہیں اور وہ یہ ضرورت مشینی انداز سے جیتے اور نبھاتے گزار رہی تھی ۔ اس کا اندر گہن زدہ ہوتا جاتا تھا اور لوگ کہتے تھے نیتا تو کچھ اور خوبصورت ہوگئی ہے۔ پہلے سے کچھ اور نازک
وہ یہ جملے سن کر ایک لمحے کو تھم سی جاتی۔
وہ کیسا ہوگا۔؟ وہ یہ سب سوچتی۔
’’ارے تو کیسے‘‘ سامنے سے فرح نے اسے آتے دیکھا اور فرط خوشی سے لپٹ گئی اس کی آنکھوں میں آنسو آتے آتے رک گئے۔
دیرینہ دوست بھی تو پرانے زخموں کی طرح ہوتی ہے اور زخم جیسے کھل رہے رھے۔ سارے ٹانکے ادھڑ رہے تھے اس کا چہرہ دیکھ کر نیتا پھر روپڑی اسے لگا جیسے وہ بہت دنوں سے کھوئی ہوئی تھی اور آج شناسا چہرہ دیکھ کر روپڑی۔ ’’وہ ۔ کیسا ہے؟‘‘ اس نے بے تابی سے پوچھا۔
’’چل تیری محبت بھی مفلس کی کٹیا کی طرح رہی‘‘ وہ دونوں بیٹھ چکی تھیں۔
’’ہاں میرا پیار جھگی کا ہی سہی پر اس میں صوفی کی موجودگی نے اسے ایشور کا مندر بنادیا ہے‘‘۔
’’کفر مت بکو، خدا اور ایشور کو ایک ساتھ لاتی ہو، کچھ خوف کرو‘‘ فرح ویسے ہی کٹر خیالات کی تھی۔
’’ایشور کیا ہے؟ خدا لفظوں کا محتاج تو نہیں۔لفظ ہندو اور مسلمان کبھی نہین ہوتے۔ لفظ تو خدا کی طرح ہوتے ہیں۔ پاک، بے عیب، جنہیں دھرتی کی اور مٹی کی کوکھ پیدا نہین کرتی۔ وہ تو آفاقی ہوتے ہیں جیسے آسمان کی نیلاہٹ جیسے سورج کی پھٹتی دھوپ، وہ تو پوتر ہیں۔ فاسد ہم ہیں۔ نیتا کے ذہن میں پھر ایک خیال آیا اور اک اور موتی آنکھ سے ٹوٹ کر زمین پر گر پڑا۔ جیسے محبت کا موتی ارادی نہیں ہوتا۔ دل کے صفحے پر خود ہی چھلک جاتا ہے۔
’’ارے تو رورہی ہے‘‘ فرح نے ہاتھ سے اس کے آنسو پونچھ دیئے۔
دل کے آنسو کون دیکھے؟ جو بلاارادہ گرے اور دل کے صفحے پر نشان چھوڑگئے رات اس نے اپنے دل کی تہیں ٹٹولیں وہ موتی اب بھی یونہی جگمگارہا تھا۔ تمہاری خوشبو، تمہارا عکس، نیتا پھر بے چین ہونے لگی۔ اچانک اس کے شوہر نے کروٹ بدلی اور خوشبو عکس سایا سب جیسے کچے ریشم کی طرح الجھتے گئے۔
میں نے تو صرف اپنا نام سیکھا تھا۔ میں تو سارے اسم کے در خود پر بند کرآئی تھی پر یہ سب کیا جرم، ضمیر، پشیمانی اس کی پیشانی پر یخ قطرے چمکنے لگے اور اندھیرے میں دل کے داغوں کی طرح لو دے گئے۔ دور کہیں سے اذان کی آواز آتی سن کر اس کا دھیان لوٹا کہ رات گذر چکی ہے۔ وضو کرکے اس نے جا نماز بچھائی اور قرآن کے صفحے پر جھکتی گئی۔
’’اور ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں، سو ان کے سر الل رہے ہیں‘‘۔
اک لپکا، اک کوندا پھر ذہن جلاگیا۔ طوق یہ نہیں جو نظر آرہا ہے طوق تو وہ ہے جو کسی کو نظر نہیں آسکتا۔ جو ساری عمر پڑے پڑے جسم کا حصہ بن جاتا ہے۔
آنسوؤں کے کئی قطرے صفحے پر پھیلتے گئے۔ نیتا نے آہستگی سے قرآن بند کر دیا۔ میں یہاں بھی خیانت کرنے لگی۔ اُس نے خود کو ملامت کی۔ پشیمانی کے ڈھیروں قطرے آنسوؤں کی صورت میں آہستہ آہستہ گرتے رہے اور وہ آنکھیں بند کئے بیٹھی رہی۔
اس دن کے بعد سے اس نے جیسے بے نقطہ لفظ بولنے شروع کردیئے تھے کہ جن کی ادائیگی سے پہلے موزونیت دیکھنی پڑتی ہے کہ کہیں کوئی لفظ منقوط ہوکر بھرم نہ کھول دے۔
زندگی کو وہ دو اورد و چاربناتی جارہی تھی اور اسی چار کے حساب نے اُسے سخت بنادیا تھا۔ جیسے ننھے پودے پہاڑی علاقوں میں اُگ آئیں تو کسی پتھر کے نیچے دب کر خود بھی سانس لینا بھول جاتے ہیں اور بہت برس بعد یہ پتھر ہٹانے پر اندر سے ایک اور پودا نما پتھر نکلتا ہے۔ وہ بتھر یوں ہی پودے پر پڑا رہا اور سال اسے یونہی پتھراتے رہے۔
جیسے ایک صوفی کنارے پر تسبیح پڑھ رہا تھا دو گھسیار نیں گھاس بیچ کر شام کو وہاں سے گزریں ۔ راستے مین ایک نے دوسری سے پوچھا
’’اری تو نے آج کتنے کی گھاس بیچی ہے‘‘۔
دوسری بولی ’’چار پیسے کی‘‘
’’اچھا اب تو بتا کہ تو نے اپنی گھاس کتنے کی فروخت کی؟‘‘
پہلی گھسیارن نے بتایا ’’دوپیسے کی‘‘ دوسری نے کہا ’’چل جھوٹی‘‘ گھاس تُو نے بھی چار ہی پیسے کی بیچی ہے لیکن دو پیسے تو نے اپنے محبوب کو دے دیئے‘‘۔
پہلی گھسیارن ہنسی اور کہنے لگی ’’پگلی محبوب کو دینے کا بھی کوئی حساب ہوتا ہے‘‘ یہ سنتے ہی صوفی نے تسبیح ہاتھوں سے کنویں میں اچھال دی اور بے حساب ورد شروع کردیا۔
’’اﷲ اﷲ اﷲ۔ آج جناے کتنے برس بعد اسے لگا کر اس نے بھی عمر کی تسبیح ہاتھوں سے زندگی کی نہر میں ڈال دی تھی کہ شماریات کے دُکھ الگ ہوتے ہیں۔ وہ شاید سارے دُکھوں سے زیادہ تکلیف دیتے ہیں اسے یاد آتا ہے کہ ایک محفل میں پانچ منٹ کی پانچویں ملاقات پر اس نے نیتا سے کہا تھا کہ ’’سال کیا ہوتے ہیں؟ کچھ بھی تو نہیں میرے وہ ساتھی جن کے ساتھ میں پندرہ برس کے رہ رہا ہوں آپ سے آج میں پانچویں مرتبہ ملا ہوں: .اور یہ پانچ ۳ سے ضرب ہوگیا ہے‘‘۔
وہ کچھ بھی تو نہ کہہ سکی تھی۔ ان سالوں کی وہ کیسے Numberingکرلے۔ وہ کیسے حساب چکا دے۔ کیسے سودا بے باق کردے سو اس نے بے حسابی چن لی تھی۔ وہ اُسے کیسے بتاتی کہ آج اتنے ڈھیروں سال اس سے ضرب بھی نہین ہوتے کہ ضرب بھی تو اعداد سے ہوتا ہے اور اعداد اس نے ہوا میں اچھال دیئے تھے۔
اپنا شہر چھوڑے اس بستی میں گمنامی کی زندگی گزار رہی تھی والد کی شدید بیماری کی خبر سن کر وہ بوکھلا کر روانہ ہوئی۔ شادی کے بعد شاید وہ دوسری مرتبہ اپنے گھر جارہی تھی۔ ٹرین ہلکورے لے رہی تھی۔ اس کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔وہ گھر و ہ شہرجہاں اس کی آنکھوں نے خاموش دوپہریں سجائی تھیں جہاں خوابوں نے زندگی سے رس بھی لیا تھا۔ کیف بھی پایا تھا جہاں اس رس میں موہ بھی بھردیا گیا تھا۔
اس نے کافی دیر بعد آنکھیں کھولیں ایک خوبصورت سی عورت اس کی سامنے والی سیٹ پر جانے کب آکر بیٹھ چکی تھی اس کی آنکھیں , اس کا چہرہ, آنسوؤں سے تر تھے ۔ ہونٹ دانتوں میں سختی سے بھیچنے کے باوجود آنکھوں سے موتی ڈھلکے پڑرہے تھے۔
’’کیا ہوا ہے تمہیں‘ ‘نیتا نے جیسے اس کے دل کے رخسار چھوئے ۔
’’میرا شوہر ‘‘یہ کہ کر وہ پھر بے اختیار ہو گئی ۔
’’کیا ہوا تمہارے شوہر کو‘‘۔
’’ان کا انتقال ہو چکا ہے اور اب میں عدت گزارنے میکے جا رہی ہوں‘‘۔
’’اوہ۔‘‘نیتا کے ذہن میں اظہارافسوس کے طور پرکوئی جملہ نہ آیا بس اتنا کہہ سکی ۔
یہ میرے شوہر کی تصویر اس نے ایک چھوٹے سائز کی تصویر نکا ل کر سامنے آئی .تصویر سامنے کیا آئ کہ جیسے پھر دور ہوتی گئی۔
وہ اس طرح ملے گا۔؟ ایسے نظر آئے گا۔؟؟۔نہیں۔نہیں۔نہیں۔اسے کچھ بھی نظرآتا تھا وہ بھی نہیں جو۔لیکن کیسی مجبوری ہے وہ رو بھی نہیں سکتی تھی کہ رونے کا حق بھی تو قانونی اور شرعی ہو تا ہے اور اسے یہ دونوں حق حاصل نہ تھے آنسو اس کی پلکوں کا دامن تھام رہے تھے جیسے بہت سارے لوگوں کے درمیان غیر شرعی بچہ ہمک کر ماں کا دامن تھام لے اور اس نے منہ پھیرکر آنسوؤں کے بڑھے ہاتھ جھٹک دیئے ۔
’’کیا ہو ا بہن تمہیں‘‘ اس عورت نے اپنا غم بھول کر پوچھا ۔
’’کچھ بھی نہی آج تمہارے شوہر کی مو ت پر کچھ یاد آگیا‘‘۔
’’کیا ‘‘؟؟؟.
’’اپنے شوہر کی موت‘‘
’’کب انتقال ہوا تھا ان کا‘‘ اس عورت نے پوچھا۔
’’میری شاد ی والے روز‘‘ نیتا نے آہستہ سے کہا، وہ عورت کچھ نہ سمجھنے والے انداز سے اسے دیکھتی رہی اور دوبارہ سیٹ پر جا بیٹھی ۔
گاڑی آہستہ ہورہی تھی اس کا اسٹیشن بھی قریب آرہا تھا اس نے رسالہ کھول لیا۔ نمایاں حروف میں کوئی واقعہ لکھا تھا۔
سترہویں صدی کا ذکر ہے دکن میں زبردست قحط پڑا۔ ہزاروں لوگ بھوک سے مرگئے۔ گلی کوچے بے گوروکفن لاشوں سے پٹ گئے , بھوکے لوگ صبح ہونے سے پہلے مرنے والوں کی لاشیں کھا جاتے تھے۔ اگر یہ لاشیں بھی ناکافی ہوتیں تو لوگ قبروں سے مردے نکال کر کھا جاتے۔ انہی دنوں ایک عورت سڑکوں پر روتی پھرتی تھی۔ کسی نے اس سے رونے کا سبب پوچھا اس نے کہا ’’لوگو! ظالم میرے بچوں کو کاٹ کر کھا گئے مجھے ذرا سا ٹکڑا بھی نہ دیا‘‘ ۔
گاڑی آہستہ آہستہ اسٹیشن پر پہنچ رہی تھی اسے بس اتنی خبر ہوئی کہ اس کا ذہن ہلکورے لے رہا تھا اور پھر گاڑی رکتے ہی بیسویں صدی کے لوگوں نے دیکھا کہ ایک عورت ذہنی توازن گنوائے چیختی چلاتی اتر رہی ہے اور ایک ایک کا راستہ روک کر کہتی ہے۔
’’لوگو! ظالم میری محبت نوچ کے کھا گئے مجھے ذرا سا ٹکڑ ا بھی نہ دیا‘‘۔