افسانہ

نئی الیکٹرا

وہ کہتی ہے، وہ یوری پیڈیرز کی الیکڑا جیسی ہے۔ فر ق ہے تو اِتنا سا کہ پرانے والی الیکٹرا کو اس کی بے وفا ماں اور اس کے بَد طینت عاشق کی وجہ سے سب کچھ چھوڑنا پڑا، جب کہ اسے یعنی نئی الیکٹرا کو، جن لوگوں کی وجہ سے گھر بَد ری پر مجبور ہونا پڑا ان میں ایسے لوگوں کے نام آتے ہیں جن کا وہ ...

مزید پڑھیے

گرفت

ہم دو ہیں اور تیسرا کوئی نہیں۔ اگر ہے بھی تو ہم نے اسے ذہن کی سلیٹ سے رگڑ رگڑ کر مٹا ڈالا ہے۔ وہ میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے اور مجھے یوں لگتا ہے میرابدن اس موم کی طرح ہے جو شعلے کی آنچ سے اس قدر نرم ہو جائے کہ جدھر چاہو موڑ لو۔ یہ شعلہ اس کے اندر بھی ہے اور میرے اندر بھی ۔ مگر ...

مزید پڑھیے

مراجعت کا عذاب

زریاب خان چلتے چلتے تھک گیا تھا۔ ان گنت ستارے اس کے ذہن کے آکاش پر چمکے اور ٹوٹے تھے‘ ہمت بڑھی اور دم توڑ گئی تھی‘ قدم اٹھے اور لڑکھڑائے تھے۔ اس کے مقابل امیدوں کے لاشے صف در صف کفن پہنے لیٹے تھے۔ دفعتاً امید کی ایک نئی مشعل جل اٹھی ۔ اس نے جانا‘ روشنی دھیرے دھیرے بڑھ رہی ہے۔ اس ...

مزید پڑھیے

جنم جہنم-۲

وہ جو زِیست کی نئی شاہ راہ پر نکل کھڑی ہوئی تھی اُس کا دَامن گذر چکے لمحوں کے کانٹوں سے اُلجھا ہی رہا۔ اُس نے اَپنے تئیں دیکھے جانے کی خواہش کا کانٹا دِل سے نکال پھینکا تھا ‘مگر گزر چکے لمحے اُس کے دِل میں ترازو تھے۔ ’’یہ جو گزر چکے لمحے ہوتے ہیں نا! یہ دراصل جو نکوں کی طرح ہوتے ...

مزید پڑھیے

نرمل نیر

ادھر ادھرجل تھا۔ جل ہی جل۔ پوتر جھرجھرگرتا۔ وہ جو مدمتا تھی‘مدماتی‘مدن مد۔ وہ ا سی جل میں اشنان کرتی‘ چھینٹے اڑاتی‘ دوڑتی پھرتی تھی۔ ا س جل کے بیچوں بیچ وہ جتنا آگے جاتی اتنا ہی جل اور بڑھ جاتا۔ وہ تھی۔ بس وہ۔ اورجل۔ ایک بگھی اس کے واسطے تھی‘ رنس سے بنی ہوئی‘ جگرجگر کرتی۔ جس ...

مزید پڑھیے

پارینہ لمحے کا نزول

سولہ برس سات ماہ پانچ دن دو گھنٹے اکیس منٹ اور تیرہ سیکنڈ ہو چلے تھے اپنے لیے اس کے ہونٹوں سے پہلی بار وہ جملہ سنے جو سماعتوں میں جلترنگ بجا گیا تھا مگر دِل کے عین بیچ یقین کا شائبہ تک نہ اتار سکا تھا۔ ایسے جملوں پر فوری یقین کے لیے کچی عمر کی جو نرم گرم زمین چاہیے ہوتی ہے وہ دائرہ ...

مزید پڑھیے

ماخوذ تاثر کی کہانی

وہ کہانیاں لکھتا رہتا ہے‘ نئی نئی کہانیاں۔ مگر میں اس کی کہانیاں نہیں پڑھتی۔ اسے گلہ ہے‘سب لوگ اس کی کہانیوں کو نیا تجربہ قراردیتے ہیں‘ اس کی بہت تعریف کرتے ہیں مگر میں ‘اس کی بیوی ہوتے ہوے بھی اس کی کہانیاں نہیں پڑھتی۔ یہ درست نہیں کہ میں نے اس کی کوئی کہانی نہیں پڑھی۔ شروع ...

مزید پڑھیے

دکھ کیسے مرتا ہے

ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوتے ہی نبیل کا دِل اُلٹنے لگا، زخموں پر لگائی جانے والی مخصوص دواؤں کی تیزبُو نے سانسوں کی ساری اَمی جمی اُکھاڑ دی تھی۔ اُسے میڈیکل وارڈ نمبر تین جانا تھا مگر اس ہسپتال میں خرابی یہ تھی کہ اندر داخل ہوتے ہی پہلے ایمرجنسی وارڈ پڑتا تھا، جس میں کو ئی لمحہ ...

مزید پڑھیے

کیس ہسٹری سے باہر قتل

سب ڈاکٹر ایک دوسرے سے کسی نہ کسی بحث میں جتے ہوے تھے سوائے ڈاکٹر نوشین کے‘ جس کے پورے بَد ن میں دوڑنے والی بے کلی اتنی شدت سے گونج رہی تھی کہ وہ بلانے والوں کو’ ہیلو ہائے‘ سے آگے کچھ نہ کَہ پاتی تھی۔ اس نے قصداًاَپنی اس کیفیت پر قابو پایااور ایک نظر بیضوی میز کو گھیرے اپنے کو ...

مزید پڑھیے

بھرکس کہانیوں کا اندوختہ آدمی

ادھر ‘ یہاں میں ایک ایسے ریٹائرڈ شخص کے بارے میں گمان باندھنا چاہوں جسے اپنے بیوی بچوں سے محبت ہو‘ جسے وہ بھی چاہتے ہوں مگر وہ ان سے اس خیال سے الگ ر ہے کہ یوں زیادہ سہولت سے رہا جاسکتا ہے اور خوش بھی۔ یقین جانیے‘ مجھ سے ایسا گمان باندھنا ممکن نہیں رہتا ۔ جس ماحول میں‘ میں پلا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 127 سے 233