افسانہ

وفا

باپ بیٹے میں آج پھر توتو میں میں ہو گئی تھی۔بیٹے نے کہا ’’آپ ہماری زندگی کو اور جہنم کیوں بنا رہے ہیں ۔ آپ ہم کو اکیلا چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔‘‘باپ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں ،اور بھررائی آواز میں کہا ’’جب سب کی پریشانی کی وجہ میں ہوں تو میں اس گھر میں کر کیا رہا ہوں؟۔بیٹا۔۔۔ میں ...

مزید پڑھیے

خطا

یہ میرے ہاتھ قلم و قرطاس کی جانب کیوں بڑھ رہے ہیں۔ رہ رہ کر چند لکیریں تحریر کرنے کی خواہش میرے باطن میں یوں انگڑائیاں لے رہی ہے جیسے بنا پانی کے مچھلیاں پھڑ پھڑاتی ہو۔ یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے میں نے آج کچھ تخلیق نہ کی تو میرا سینہ پھٹ جائے گا۔ ایک ان دیکھی قوت نے مجھے ڈھکیل کر ...

مزید پڑھیے

انتظار

پریشاں ہو چکا میرا وجود پریشانی کے لق دق صحرامیں چلنے کے لیے مجبور تھا۔ لیکن ہر منزل پر سراب ہی سراب دکھائی دیتاتھا۔میں اذیت سے گھرا گھر کی جانب قدم بڑھائے جا رہا تھا۔زمین کا سینہ چیر کر اس میں سما جانے کو دل چاہ رہا تھا۔ اب تک استقلال کا دامن ہاتھ سے چھوٹا نہیں تھا لیکن اب پائے ...

مزید پڑھیے

گانٹھ

عصبی ریشوں کے وسط میں کچھ اضافی گانٹھیں پڑ گئیں۔ یا پھر شاید ‘ پہلے سے پڑی گرہیں ڈھیلی ہو گئی تھیں کہ اضمحلال اس پر چڑھ دوڑا تھا۔ بدن ٹوٹنے اور دل ڈوبنے کا مستقل احساس ایسا تھا کہ ٹلتا ہی نہ تھا۔ کوئی بھی معالج جب خود ایسی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے‘ تویہی مناسب خیال کرتاہے کہ وہ ...

مزید پڑھیے

منجھلی

اب سوچتا ہوں کہ میں نے اتنا بڑا فیصلہ کیسے کر لیا تھا‘ تو حیرت ہوتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اتنا بڑا فیصلہ میں نے نہیں کیا تھا‘ خود بخود ہو گیا تھا۔ دراصل بھائی اور بھابی دونوں اتنی محبت کرنے والے اور خیال رکھنے والے ہیں کہ ان کے لیے کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔ بیگم نے بھی مخالفت نہ کی ...

مزید پڑھیے

موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ

وہ مر گیا۔ جب نخوت کا مارا‘ امریکا اپنے پالتو اتحادیوں کے ساتھ ساری انسانیت پر چڑھ دوڑا اوراعلا ترین ٹیکنالوجی کے بوتے پر سب کوبدترین اجتماعی موت کی باڑھ پر رکھے ہوے تھا ‘ وہ اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں چپکے سے اکیلا ہی مر گیا ۔ مجھ تک اس کے مرنے کی خبر پہنچی تو میں سٹ پٹا ...

مزید پڑھیے

بَرشَور

’’اْس نے اَپنی بیوی کے نام پر بیٹی کا نام رکھا ۔۔۔۔۔ اور بیٹی کے نام پر مسجد بناڈالی۔۔۔۔ چھی چھی چھی‘‘ جب عبدالباری کاکڑ کی چھی چھی میرے کانوں میں پڑی ‘ میں فضل مراد رودینی کی طرف متوجہ تھا اوریہ جان ہی نہ پایا ‘وہ افسوس کر رہا تھا‘ اس پر نفرین بھیج رہا تھا یا اْس کا تمسخر ...

مزید پڑھیے

ماسٹر پیس

میں جانتا ہوں‘ میرے افسانوں نے ادبی دنیا میں تہلکہ مجائے رکھا ہے۔ افسانوں نے مجھے جو مقام بخشا‘ تنقید اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ اب بھی اگر کسی ادبی مجلے‘ اخباریا رسالے میں مجھ پر کوئی مضمون لکھا جاتا ہے یا میرے متعلق کوئی خبر شائع ہوتی ہے تو میرے نام کے ساتھ ...

مزید پڑھیے

تماش بین

عورت اور خُوشبو ہمیشہ سے میری کمزوری رہے ہیں۔ شاید مجھے یہ کہنا چاہیے تھا کہ عورت اور اس کی خُوشبو میری کمزوری رہے ہیں۔ یہ جو‘ اَب میں عورت کو بہ غور دیکھنے یا نظر سے نظر ملا کر بات کرنے سے کتراتا ہوں تو میں شروع سے ایسا نہیں ہوں۔ ہاں تو میں کَہ رہا تھا‘ عورت اور اُس کی خُوشبو ...

مزید پڑھیے

لوتھ

اُس کی ٹانگیں کولہوں سے بالشت بھر نیچے سے کاٹ دِی گئی تھیں۔ ایک مُدّت سے اُس نے اپنے تلووں کے گھاؤ اپنے ہی بیٹے پرکُھلنے نہ دئیے تھے . . . .ضبط کرتا رہا اور اُونچی نیچی راہوں پرچلتا رہا تھا ......مگر کچھ عرصے سے یہ زخم رِسنے لگے تھے اورچڑھواں درد گھٹنوں کی جکڑن بن گیا تھا .... حتّٰی کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 126 سے 233