افسانہ

معزول نسل

جانے وہ کون سا لمحہ تھا جب اس نے طے کر لیا تھا کہ وہ سب سے چھپ کر گاؤں میں داخل ہو گی‘ چپکے سے صحن میں قدم رکھے گی ٗ پنجوں کے بل چلتی ہوئی اپنی ماں جائی صفو کے عقب میں جا کھڑی ہوگی اور ہولے سے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر پوچھے گی: ’’بوجھو تو میں کون ہوں؟‘‘ بالکل ویسے ہی جیسے کئی ...

مزید پڑھیے

دوسرا آدمی

کم آمیزی میرے مزاج کا حصہ بن چکی ہے۔ سفر کے دوران تو میں اور بھی اپنے آپ میں سمٹ جاتا ہوں۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ میلوں سفر کر جاتا ہوں مگر ساتھ بیٹھے مسافر سے رسمی علیک سلیک بھی نہیں ہو پاتی۔ مگر وہ عجب باتونی شخص تھا کہ اس نے زور ا زوری مجھے بھی شریک گفتگو کر لیا تھا۔ ماڈل ٹاؤن ...

مزید پڑھیے

برف کا گھونسلا

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر کے اندر قدم رکھا‘ اُدھر وہ مجھے پر برس بڑی۔ بچیاں جو مجھے دیکھ کرکھِل اُٹھی تھیں اور میری جانب لپکنا ہی چاہتی تھیں‘ اِس متوقع حملے میں عدم مداخلت کے خیال سے‘ جہاں تھیں وہیں ٹھہری رہیں۔ ’’اِس سے بہتر تھا ہم ...

مزید پڑھیے

کہانی اور کرچیاں

واصف تو بس مجھے اپنی نئی کہانی سنانے آیا کرتا تھا۔ مگر اب کے ملا تویوں کہ اس کے ہاتھ میں کسی نئی کہانی کا مسودہ نہیں تھا۔ کہانی لکھ چکنے کے بعد‘ اس کے چہرے پر جو آسودگی ہوتی تھی‘ وہ بھی نہ تھی۔ وہ آیا اور چپ چاپ میرے سامنے بیٹھ گیا۔ میں نے اسے چھیڑتے ہوے کیا: ’’لگتا ہے کہانی ازبر ...

مزید پڑھیے

آدمی کا بکھراؤ

سی سی یو میں کامران سرور کو کئی گھنٹے قبل لایا گیا تھا مگر اَبھی تک اُس کے دِل کی اُکھڑی ہوئی دھڑکنیں واپس اَپنے معمول پر بیٹھ نہ پائی تھیں۔ وہ اَپنے حواس میں نہیں تھا تاہم ڈاکٹر قدرے مطمئن ہو کر یا پھر اُکتا کر دوسرے مریضوں کی جانب متوجہ ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر کے ایک طرف ہو جانے کے ...

مزید پڑھیے

کفن کہانی

ہاں میری معصوم بچی! میں اپنے دل کی گہرائیوں سے چاہتا ہوں کہ کہانی اس کا کفن نہ بن سکی ‘ تو تمہارا کفن ضرور بنے۔ اور اب جب کہ تم زندگی کی سانسیں ہار چکی ہو تو میں تمہاری نعش کے سرہانے کا غذ تھامے اس کہانی کو لفظ دینے کا دکھ سہہ رہا ہوں۔ جب وہ آخری سانسیں لے رہی تھی تو کہانی لکھنے کی ...

مزید پڑھیے

پارہ دوز

(تین پارچے :ایک کہانی) پہلا پارچہ اس روز تو میری آنکھیں باہر کو ابل رہی تھیں۔ بے خوابی کا عارضہ میرے لیے نیا نہ تھا تاہم پہلے میں مسکّن ادویات سے اس پر قابو پا لیا کرتا تھا ‘یوں نہیں ہوتا تھا کہ ادل بدل کر دوائیں لینے سے بھی افاقہ نہ ہو۔مگر اس بار ایسا نہ ہوا تھا ۔ دونوں کنپٹیوں کے ...

مزید پڑھیے

آخری صفحہ کی تحریر

جب پہلا خون ہواتھا تو اس نے لہو کا ذائقہ چکھا تھا؛ بہت کڑوا کسیلا تھا۔ سارا محلہ صحن میں امنڈ آیا تھا ۔ نعش کو کندھوں پر اٹھا کر سارے شہر میں پھرایا گیا تھا۔ جب نعش کی خوب نمائش ہو چکی تو چیرویں قبر کھودی گئی ۔ سفید کفن میں لپیٹ کر نعش کو قبر کے عین درمیان لٹا دیا گیا ۔ پھر پتھروں ...

مزید پڑھیے

بدمعاش

ماں نے میرانام بدرالدین رکھاتھاجو بعدمیں پیارسے بگڑکربدرو ہوگیا۔ویسے میری ماں کے پیاراوربگاڑمیں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔اس کی زندگی میں دو شادیاں اوربے شمارمعاشقے موجودہیں جنہوں نے مجھے ہمیشہ متاثرکیے رکھا۔پہلی شادی اس نے گھرسے بھاگ کرکی اورتین مہینے بعدطلاق لے کرواپس ...

مزید پڑھیے

جادو گرنی

جس عمر میں لڑکیاں گڑیوں سے کھیلا کرتی ہیں وہ مردوں سے کھیلتی تھی۔ اس سے میری پہلی ملاقات چندا کے کوٹھے پر ہوئی تھی۔ میں نے آج تک اس جیسی باکمال لڑکی نہیں دیکھی، اگر وہ مغلیہ دور میں پیدا ہوتی تو یقیناًاکبر کے دربار کا دسواں رتن ہوتی۔ ان دنوں باراز حسن میں بیٹھا یہ رتن خوب اپنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 128 سے 233