افسانہ

دھند میں لپٹا ہوا لایعنی وجود

ایک تیز آواز اس کے خوابیدہ دماغ کی جھلیوں میں ارتعاش پیدا کرتی ہوئی گہرائیوں میں جذب ہوگئی۔ ایسی ہی دوسری آواز پر لگا جیسے دبیز جالے پر کسی نے پتھر پھینک دیا ہو۔ تیسری آواز پر وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ باہر یقیناًکوئی تھا جس نے اس کا نام لے کر اسے پکارا تھا اور اب جواب کا منتظر کھڑا ...

مزید پڑھیے

بیاں اک ناقابل بیاں کا

(طربیہ خداوندی جدید ۔۲) میرا دس بائی بارہ فٹ کا کمرہ کہ ایک بے دیوار حجرہ ہائے ہفت بلا ہے خاصے کی چیز ہے۔تم اسے معلوم کائنات کا منی ایچر بھی کہہ سکتے ہو کہ یہاں کیا نہیں جس کی چاہ کی جائے۔کون ایسی سزا ہے جو میری مدارات کو موجود نہیں اور کون ایسامن بھاواں عذاب ہے جو میری دل بستگی ...

مزید پڑھیے

بہت دیر ہو گئی

رقیہ پارٹی سے واپس آکر جلدی جلدی کپڑے بدل کر مسہری پر پڑ گئی۔ وہ رونا چاہتی تھی مگر آنکھوں میں آنسو نہیں آرہے تھے۔ پارٹی کا سماں ایک گڑبڑ خواب کی طرح اس کے سامنے آرہا تھا۔ ہاں سعید، سعید کو دیکھنے، سعید سے ملنے کے لیے ہی وہ ایسے کپڑے پہن کر گئی تھی جو آٹھ برس پہلے اس نے پسند کیے ...

مزید پڑھیے

اوریگان

مدقوق چہرہ لیے علی احمد میرے سامنے بیٹھا ہولے ہولے کھانس رہا تھا۔ اس کی کہنیاں میز پر ٹکی تھیں۔ چہرہ بنجر ہاتھوں میں دھرا تھا اور ہڈیوں کے پیالے میں دو خشک آنکھیں رکھی تھیں۔ اس کے ہونٹوں پر پپڑیوں کی شکل میں چھوٹی چھوٹی قبریں اگ آئی تھیں۔ ان میں اس کا ماضی مدفون تھا۔ صعوبت اور ...

مزید پڑھیے

کلوننگ کی پیداوار

اس کے گھر میں آٹا ختم ہو گیا تھا۔ ماں کے کہنے پر وہ دس روپے کا ایک کلو آٹا خرید لایا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ مہینے کا منیاری کی دکان سے ادھار سودا سلف لاناگھر کے معمولات میں شامل تھا۔ کبھی کبھار اس کے باپ کی دکاندار سے چخ چخ ہو جاتی تو اس کا خون کھولنے لگتا۔ اسے لگتا تھا اس گھر ...

مزید پڑھیے

ڈرائنگ روم اک گزرگاہ ہے

ایک روزشام ڈھلے میں ایک میڈیکل سٹور سے دوائی لے رہا تھا کہ موبائل پر Miss Callنے متوجہ کیا۔ نمبردیکھا تو اجنبی تھا۔ رانگ نمبر معمول ہوں تو توجہ دینا عبث ٹھہرتا ہے۔ وقت کے ضیاع کے سواکچھ ہاتھ نہیں آتا۔ پانچ منٹ بعد اُسی نمبر سے دوبارہ Miss Call آئی۔ تیسری Miss Callآدھ گھنٹے بعد پھر خاموشی ...

مزید پڑھیے

مسافر توگیا

کوئی ہے.....؟ آواز تودو..... بھائی عبدالحمید..... اے بھائی عبدالحمید..... میرے بھائی..... دروازے کا پٹ کھلارہنے دو۔ میرابھائی آرہاہے، دیکھو سامنے شیشم تلے وہ بیٹھا وضوکر رہا ہے۔ میں کہتانہ تھا میراماں جایا ضرورآئے گا۔ حکیم جی، سردی شدیدہے، دروازہ بندکرلینے دیں۔ مؤذن بابا عزیز نے کہا۔ ...

مزید پڑھیے

ہونٹ کنارے

بہت پرانی بات ہے۔ اب تواس کے سر کے بال مکمل سفید ہو چکے ہیں۔ جب وہ گاؤں سے شہر تعلیم حاصل کرنے آیا تھا تو اس کے بال گھنگریالے اور کالے سیاہ تھے۔ وہ اپنی اکلوتی محبت کی یاد بھی ٹرنک میں ساتھ رکھ کے لے آیا تھا۔ مقابلے کے امتحان کے بہت بعد کی بات ہے۔ جب اس کی شادی ہوگئی تو ایک بار کاٹھ ...

مزید پڑھیے

میکینک کہاں گیا

دل پر لگنے والی چوٹ گہری تھی، من میں اترنے والا گھاؤ شدید تھا۔ اس کی آنکھیں جھکی تھیں۔ پاؤں کے انگوٹھے سے وہ زمین کرید رہاتھا۔ آنکھیں اٹھانا اس تربیت کے خلاف تھاجواس کی طبیعت اورمزاج کا بچپن سے حصہ تھی۔ وہ آنکھیں اٹھاکر باپ کے سامنے گستاخی کامرتکب نہیں ہوناچاہتاتھا۔ باپ اسے ...

مزید پڑھیے

گلوبل ولیج

خبر آئی..... ساری بستی کی بینائی جاتی رہی۔ اک کہرام مچ گیا۔ سب ایک دوسرے کو ٹٹولتے، چیختے، دیواروں سے سرپھوڑتے اور پوچھتے تھے یہ کیاہوگیاہے.....؟ رات میں ہم سوئے تواچھے بھلے تھے۔ صبح دم آنکھ کھلی توہرگھرمیں دبادبا شورتھا اورپھر پوری بستی شورکی لپیٹ میں آگئی۔ سب کو اپنے اپنے حصے کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 123 سے 233