افسانہ

زمین زاد

سائنس دان انسان کو مریخ پر اتارنے کا حتمی فیصلہ کر چکے تھے۔ کانفرنس میں پورے کرۂ ارض کے سائنس دانوں اور مذہبی سکالرز کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ کانفرنس کئی ماہ سے جاری تھی اور سائنس دانوں نے ہی حتمی فیصلہ کرنا تھا۔ ترقی یافتہ ممالک نے پہلی با ر ترقی پذیر ممالک کو نمایندگی کا ...

مزید پڑھیے

لوٹایاہواسوال

تسبیح خانے کے سامنے چمکیلی جوتیاں اتارکروہ اندرداخل ہوا۔ ایک لمبا سانس لیا۔ پنکھا تیز کرنے کوکہااورباتھ روم کے چپل پاؤں میں اڑس کرتولیہ کندھے پرڈالا۔ باقی سب مہمان تسبیح خانے میں دوزانو مؤدب بیٹھے تھے۔ ماحول میں تقدس اورپاکیزگی کی خوشبو تھی، بھینی بھینی سی۔ مہمانوں کی جدید ...

مزید پڑھیے

چوب دار

جنبش مکن..... ہوشیار باش..... نگاہ رُوبرو.....! شہنشاہِ معظم تشریف لاتے ہیں.....! اُس نے چاروں اور دیکھا۔ خالی محل بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ دُور تلک غلام گردشوں میں بھی کوئی متنفس نہیں تھا۔ جب کوئی بھی نہیں ہے تو یہ پکار کیسی ہے.....؟ کون ہے جس کی آمد کی اطلاع ویران اور سُونے محل میں گردش ...

مزید پڑھیے

کتنے مہر دین

یہ کہانی پہاڑی رستوں کی طرح کئی موڑ لے گی۔ اس کہانی کا ٹریک اور منظر آپ کاجانا پہچانا اور مانوس ہے۔ یہ کہانی اپنی مٹی سے پھوٹی ہے اورایسی زہرناک کہانیاں پھوٹتی رہتی ہیں۔ سفر کے دوران گردوپیش پر نظر رکھیے گا،منظر بدلنے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے۔ ابھی پہاڑی سفر کے دوران پھولی ہوئی ...

مزید پڑھیے

نقش گر

ماسکوکیTRETYAKOV گیلری میں گھومتے ہوئے وہ ایک پینٹنگ کے سامنے رک گیا۔ TERRACE ON THE SEA SHORE 1828. طویل برآمدے کے ستون کے ساتھ ایستادہ لڑکے کے سر پر سرخ ٹوپی تھی۔ لڑکے کے سامنے ایک معصوم بچہ دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ برآمدے کی چھت پر بیلیں پھیلی تھیں۔ پوری چھت بیلوں سے ڈھکی تھی۔ اطراف میں ...

مزید پڑھیے

مولوی قاسم بہت مصروف ہے

مجھے کئی دن سے اتنی فرصت بھی میسر نہیں ہے کہ میری اپنے آپ سے ایک ادھوری ملاقات ہو جائے۔ مکمل ملاقات کا امکان تو عرصہ ہوا معدوم ہو چکا۔ میں نے اپنی مصروفیات کچھ اس طرح ترتیب دے رکھی ہیں کہ مہینے میں ایک دن کُھل کے رو لینے کے لیے نکال لیتا ہوں لیکن گزشتہ ماہ ایسا زندگی کی بھیڑ میں ...

مزید پڑھیے

پچھلا دروازہ

السّلام علیکم.....! یا اہل القبور..... وہ جب قبرستان کی چاردیواری میں داخل ہوا تو السّلام علیکم..... یا اہل القبور کہنے پراسے جواب میں سلامتی کی دعا ملی توزمین نے اس کے پاؤں پکڑ لیے۔ وہ سوچنے لگا مٹی کی ان ڈھیریوں میں سے وہ کون سی ڈھیری ہے.....؟ جہاں سے اس کے سلام کا جواب دیاگیاہے۔ یہ ...

مزید پڑھیے

ایک اور داؤ

الف انار..... ب بکری..... پ پنکھا۔ طالب علم قاعدے پر جھکے جھوم جھوم کر اپنا سبق دہرا رہے تھے۔ آدھی چھٹی ہوئی تو مٹھو سکول میں موجود تالاب پر بیٹھااپنی تختی پوچ رہا تھا۔ گاچی لگا کر اس نے تختی کلاس روم کی دیوار کے ساتھ دھوپ میں کھڑی کر دی اورخود پیٹو گرم کھیلنے لگا۔ سکول کی گھنٹی بجی ...

مزید پڑھیے

ڈِنگ

بشارت احمد نے بستی خانقاہ سراجیہ کے ایک کھوکھے سے درجن بھرمالٹے خرید کیے۔ مالٹے نارنجی رنگ کے تھے۔ اس نے مونگ پھلی اورچلغوزے خریدنے کا بھی سوچاتھا۔ سیب اورکیلے خریدنے کا بھی اس نے ارادہ کیاتھا۔ لیکن جیسے ہی اس کی نظرمالٹوں پرپڑی اسے اپنی گم شدہ اجڑی بستی کی آخری شام کی وہ ...

مزید پڑھیے

ہے کوئی

کشادہ بازار کے پہلو میں اونگھتی تنگ گلی میں پندرہ بیس دکانیں سانس لے رہی تھیں۔ دکانوں میں مال زیادہ اور گاہک کم تھے۔ بازار سے اس گلی میں داخل ہوتے ہی اچانک ایسے محسوس ہونے لگتاہے جیسے انسان کسی اوردنیامیں آنکلا ہے۔ یہ گلی اپنے وجود کے اعتبار سے ایک مکمل ریاست کی طرح تھی۔ دورویہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 124 سے 233