بیاں اک ناقابل بیاں کا

(طربیہ خداوندی جدید ۔۲)


میرا دس بائی بارہ فٹ کا کمرہ کہ ایک بے دیوار حجرہ ہائے ہفت بلا ہے خاصے کی چیز ہے۔تم اسے معلوم کائنات کا منی ایچر بھی کہہ سکتے ہو کہ یہاں کیا نہیں جس کی چاہ کی جائے۔کون ایسی سزا ہے جو میری مدارات کو موجود نہیں اور کون ایسامن بھاواں عذاب ہے جو میری دل بستگی کو پیش از خدمت نہیں۔
میری اس منی ایچر کائنات میں ایک تحت الثریٰ بھی ہے جسے یونانی صنمیات میں ہیڈز کا نام دیاگیا ہے ۔یہی وہ مقام موعود ہے جس کے بے انت پھیلاؤ میں وہ جہنم زار بھی ہے جس کے نوع بنوع عذابوں کو کارڈینلوں اور پاپاؤں کے کفش بردار بھائی دانتے الیگری نے ڈیوائنا کامیڈیا میں لہک لہک کر بیان فرمایا ہے۔مقصد یہ کہ ارض فنا نصیب کے گناہ گاروں کے دلوں میں کلیسائی دہشت بٹھاکر انہیں آمادہ اطاعت کیا جائے۔ اور یہیں اس جہنم کے ایک خاص اہمیت کے حامل ایک گوشے میں وہ قدیم و معروف خودکشوں کا جنگل بھی اپنی کمال و تمام بھیانکتا کے ساتھ موجود ہے جہاں میں مدت سے درختایا ہوا قیام پذیر رہاہوں۔خود کشوں کا جنگل جو ڈیوائنا کامیڈیا کے تیرہویں کانتو کا موضوع ہے اور مقام خاص ہے ان مقہورین کیلئے جو ارض فنا نصیب میں اعصاب شکن عذابوں کے تسلسل سے گھبرا کر خودکشی کا ارتکاب کربیٹھتے ہیں۔ تم جانو کہ جن پیشواؤں نے خدا کو اپنے پچھواڑے قید کررکھا ہے اور جو اس کی مخلوق کو اپنے ارادے کے تابع تصور کرتے ہیں وہ کیونکر برداشت کریں کہ دھکتے کوئلوں پر چلنے والے کم نصیب اپنے جینے یا نہ جینے کا فیصلہ ان سے چھین کر اپنے ہاتھ لے لیں۔کارڈینلوں اور پاپاؤں کی کفش برداری پر نازاں بھائی دانتے الیگری نے ڈیوائنا کامیڈیا کے تیرہویں کانتو میں جب خودکشوں کا جنگل تخلیق کیا تو اس کی تصویر کشی کرتے ہوئے اپنی معروف لاف زنی کو بام عروج پر پہنچا دیا۔
سو بیان ہے خودکشوں کے جنگل کا جو میرے دس بائی بارہ فٹ کی مائیکرو کائنات کا بھیانک ترین گوشہ ہے اور جہاں میں دھکتے کوئلوں پر چلنے سے انکاری یکے از مقہورینِ ارضی ان دنوں فروکش ہوں۔
ساوے پتوں اورخشک کڑکڑاتے جھاڑ جھنکار سے اٹے اس جنگل میں تاحد امکان پھیلازرد رودرختوں کا ایک سلسلہ ہے جو مضبوط پروں والی نیم زن ہارپیوں اور جنے کس کس نسل کے اساطیری درندوں کی ہما ہمی سے آباد ہے۔سیاہ خون روتے اور بے صدا سسکیاں چیختے ان درختوں میں سے ہر ایک کو لاوقت کے کسی طے شدہ دورانئے تک اپنی سزا بھگتنی ہے۔
خود کشوں کا یہ جنگل سدا بہار ہے ۔یوں کہ جو یہاں والا بھگتان بھگت چکا وہ کچھ اور بھگتنے کو کہیں اور دھکیل دیا جاتا ہے اورتازہ واردان میں سے کوئی اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ تم جو جیون پھیر سے از خود نجات پانے کی کوئی ترکیب کرپاؤ تو یہاں آکر دیکھنا۔یہ درخت نہیں اداس و نامراد روحیں ہیں جنہوں نے گئے وقتوں کسی شہر ناپرساں میں اپنی حوالگی کے دوران جینا چاہا لیکن جی نہ پائیں۔وہ اداس و نامراد روحیں وہاں بے ارادہ جنمی اورجی نہ پائیں سو ایک ارادہ کیا۔
اب جانو مقدس کتابوں اور دساتیر کے اندر اس دربند وادی میں کہ جسے پیار دلار میں سبز سیارہ کہا جاوے ہے ، دھکیلے گئے لوگوں کا ارادے کی مختاری حاصل کرنا ایک گھنا جرم ٹھہرایا گیا ہے(کیا ٹھٹھے کی بات کہی ہے۔۔۔اخے ارادے کی خود مختاری !؟ابے چریے!گھاس چرگیا ہے؟مذاخ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ، سالاچھوڑو کہیں کا)۔خیر، تو جب جب وہ گروہِ نامراداں خود کو جینے کے حق سے محروم کرتاہے تو یہاں پہنچتے ہی سزا کے طور پران میں سے ایک ایک کو درختادیا جاتا ہے اور خوبرو ہارپیوں کو مقرر کردیا جاتا ہے کہ وہ انہیں ٹھونگے ماریں، نوچیں کھسوٹیں اور کوہ اولمپس کی ترائیوں میں سیکھی ہوئی ایذا رسانی کی ایک سے ایک تراکیب آزمائیں۔
القط ، یہ بات ہے تب کی جب خود کشوں کے جنگل میں اپنے حصے کے عذاب کاٹ چکنے کے بعد مجھے یہاں سے فارغ خطی مل چکی تھی اور میں ایک عبوری وقفے میں سیاہ پوش فرشتوں کے انتظار میں تھا کہ آئیں اور مجھے گھسیٹتے ہوئے نئے عذاب کاٹنے کو کسی نامعلوم کی طرف لے جائیں۔تب ایک روز میں یونہی فارغ بیٹھا جنگل کے سیاہ منظر نامے میں نیم مردہ سورج کی دم توڑتی چاندنی ایسی نیم سیاہ دھوپ میں بیٹھاجہنم زاد بچھوؤں کے ڈنک سے سرشار ہورہا تھا کہ میرے نتھنے چوکنا ہوئے اور ایک نامانوس باس کی آمد کا پتا دینے لگے۔
یوں تھا کہ اس سرد جہنم کی قدیم برفیلی سیٹنگ میں جہاں اور طرح کی بلائیں اودھم مچائے رکھتیں وہاں نوع بہ نوع بوؤں کا ایک بے مہار طائفہ بھی تھا جو یہاں سے وہاں دندنائے پھرا کرتا تھا۔پہلے تومیں نے اسے بھی کچھ یونہی سا جانا مگر نہیں یہ باس کچھ جدا تھی جیسے کوئی اور دنیا اس سردابے کوکسی طرح کا کوئی سگنل بھیج رہی ہو۔
ہوگی کوئی یونہی سی آوارہ بو،میں نے شانے اچکا کر ایک طرح دار بچھو کے نشہ آور ڈنک کو اپنے دائیں شانے کا تل پیش کرنا چاہا ہی تھا کہ تبھی میرے نتھنے بے طرح سے پھڑپھڑائے۔یوں لگا جیسے کسی گاؤدی نے پاتال کے کسی سڑاند مارے متروک مذبح کا پھاٹک کھلا چھوڑ دیا ہو۔
نامعلوم کیمیائی کمپوزیشن کی حامل اس باس میں دم گھونٹ دینے والی بات تھی۔ بولا دینے والی اوردماغ کو چڑھ جانے والی تیزی تو نہیں البتہ اس میں نحوست کی ناگواری سے گلے ملتی جمائیاں لیتی کاہلی ضرور تھی ۔ایسی کہ ایک بیمار رفتار سے آپ کی اور بڑھتی اورہولے ہولے، ہالہ در ہالہ آپ کو اپنی گرفت میں لیتی چلی جائے یہاں تک کہ جوہر حیات میں تحلیل ہوتے ہوئے اس کی کیمیائی ساخت تک کو گڑبڑادے۔
اس کافور کا تڑکا کھائی مرگ آسا باس کاتجربہ اس سے پہلے شاید ان ہلاکت نصیب اسیروں کو رہا ہو جو تھرڈ رائخ میں عالی نسب فیوہرر کے ذوق تماشا کی تسکین کیلئے بطور خاص تیار کردہ زہریلی گیسوں والے حماموں میں تازہ دم ہونے کیلئے دھکیلے گئے تھے اور جن کی بدولت منڈیوں میں انسانی ہڈیوں سے بنائے گئے فاسفورس کا بھاؤ گرگیا تھا۔
یا وحشت!بندہ کہیں تو چین لے پائے۔معاملے کی نوعیت کوسمجھنا چاہا تو یہی سمجھ آئی کہ اداس و نامراد روحوں کے اس اوورلی پاپولیٹڈ جنگل میں کسی الگ سی بھیانکتا کے حامل سیاہ پوش فرشتے کسی نئے اداس و نامرادکو گھسیٹ لائے ہیں اورکسی کے سفاک اشارے پر اسے کسی نو ایجاد عذاب میں مبتلا کرنے کے درپے ہیں، بدبو کا عذاب۔چلو، لیکن یہ کون تُک کا عذاب ہوا کہ خود کشوں کے اس قدیم و آباد جنگل میں قدیم سے موجود مانوس ٹھہراؤ کو تہہ و بالا کردیا جائے؟
پتا کرایا تو معلوم پڑاکہ عذاب دینے پر مامور کاہل و غبی سیاہ پوش فرشتے تو اس ایک روز کیلئے رخصت اتفاقی پر ہیں ۔وہ بھی نہیں ہیں تو پھر یہ کیا تماشا ہے؟
تو بھائی جی!ہوتے ہوتے سڑاند جیسی باس کی تندی اتنی بڑھی کہ میرے سنگی بچھو اپنی دمیں سمیٹ خاموشی سے سٹک لیے۔کچھ دیر بعدنظر گھما دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔سب ہم نفس و بے نفس میدان خالی کرگئے تھے۔میں نے ان سات طرح کی بلاؤں کو بھی غائب پایا جو میری دوسراتھ کو ہمہ وقت موجود رہا کرتی تھیں۔ ا ب ایک بیچارہ میں اور ایک میرا ڈھنڈارحجرہ ہائے ہفت بلا۔
اس پوٹینشل قاتل سڑاند کے پھیلاؤ نے جنگل کو گھیرے میں لینا شروع کیاتومیں نے نامقدس انجماد کے تحرک کو چٹختے ہوئے اور جال در جال دراڑوں میں بٹتے ہوئے پایا۔ کوئی اضطراب سا اضطراب تھا، کوئی بے چینی سی بے چینی تھی۔
اساطیری درندے بھی کہ خود کشوں کے جنگل میں کسی بے چین روح کے امکانی فرار کو روکنے پر مامور تھے اور مایوس و محزون درختائے ہوو ں پر موقع بے موقع دانت نکوسنے سے حذر نہ کرتے، دم بہ بدم بڑھتی باس سے بولائے گئے۔انہیں اور کچھ نہ سوجھا تو زرد رو درختوں کو نوچنے اور ان سے رستا سیاہ خون چوسنے لگے۔بیچارے درخت آدمیوں کی چیخیں تھیں کہ سنی نہ جاتی تھیں۔اس منحوس باس سے گھبرا کر ان مادر زاد بے وقوف درندوں نے گڑبڑا کر وہ فیل مچایا کہ الامان!
اور پھر یہ ہوا کہ کوئی دیر نہ گذری تھی کہ درختائی گئی روحوں کو نوچ کھانے میں مگن ہارپیوں کے ایک غول نے کہ ان نیم عورت بلاؤں کی نازک مزاجی ضرب المثل ہے، باس کی ایک آوارہ بھبک پرناگواری سے اپنے پنجے سمیٹ پروں کو پھڑپھڑایا اور احتجاجی کرلاہٹ چیختی وہاں سے پھرارہ بھرگئیں۔
ا س منحوس باس کے پھیلاؤ کو روکا جانا ضروری تھا کہ یہاں کا قدیمی ٹھہراؤ لوٹ آئے۔کیا کیا جائے؟
سیاہ پوش فرشتوں سے کسی نیکی کی توقع عبث تھی کہ جانو سدا کے کاہل اورحکم کے غلام تھے۔بن اشارہ وہ کیا کرتے مجھے ہی کچھ کرنا تھا۔تب میں نکلا کہ کھوج لگاؤں اور اگر بن پائے تو اس نحوست ماری باس کو ہلاک کرنے کی کوئی تدبیر کروں۔مجھے بہر حال اپنے جنگل میں اداس و نامراد خود ہلاک شدگان کو کسی نئی طرح کے عذاب سے بچانا تھا۔تب میں خود عائد کردہ ذمہ داری کا بار اٹھائے اپنے حجرہ ہائے ہفت بلا کی عافیت کو تج کر نکلا اور شش جہات کے سفر پر روانہ ہوا۔


میں خلائے بسیط میں یہاں سے وہاں دوڑا کیا ۔کوئی سورس، کوئی منبع کچھ نہ پایا۔اور یہ باس تھی کہ جہنم زدوں اور جہنم زادوں کو ہلاک کیے دے رہی تھی۔خود میرے ایتھریکل وجود کی لطافت اس واہیات باس کی کثافت سے نکو نک بھر چکی تھی۔تبھی ایک ضیق النفس کھانسی نے ہلہ بولا اور میں ادھ موا سا ہوگیا۔کچھ سنبھلا تو جانا کہ مجھے ضیق کے آئندہ حملے سے بچنے کیلئے فوری تازہ آکسیجن کی ضرورت ہے۔
آکسیجن؟ اچانک ایک جھماکا سا ہوا اور مجھے اپنی گم گشتہ دنیا یاد آگئی جسے میں یوں بھلائے ہوئے تھاجیسے اس ناہنجارکے ساتھ میرا کبھی واسطہ نہ رہا ہو۔آکسیجن نامی شے کا تعلق اسی دنیا سے تھا۔یقین کہ اس منحوس باس کا منبع وہیں کہیں رہا ہوگا کہ وہی ایسی جگہ ہے جہاں ہر ناروا کو روائی میسر ہے۔تب میں نے ایک قاتلانہ عزم کے ساتھ اپنے وجود کی لطافت کو حائل واسطوں میں تحلیل کیا اور یوں آر پار ہوگیا جیسے مچھلی پانی کی دھار سے صاف گذر جائے۔


اوراب میں اس دنیا میں تھا جس سے میں بھلے زمانوں بذریعہ خود کشی نجات پانے میں کامیا ب ہوا تھا۔معلوم ومانوس وقت کی گرفت میں سسکتے ہوئے وہی بے ڈھب گلی کوچے، وہی اک دوجے سے لاتعلق مکانوں کے سلسلے اور وہی گھروں گلیوں میں جمائیاں لیتی بیکار کی دہشت۔سب کچھ ویسے کا ویسا تھا جیسا کہ میں مدتوں پہلے اپنی دس بائی بارہ فٹ کی مائیکرو کائنات کے ہول میں داخل ہوتے سمے چھوڑ گیا تھا۔ اس دوران جنموں کےجانے کتنے چکرآئے اور کتنے گئے لیکن وقت کے ٹھہراؤ کا یہ عالم کہ مانو ابھی میں ممدو قصائی کی دکان سے پاؤ بھر گوشت خرید کر ماں کو دینے گھر داخل ہوا تھا اور ابھی سنگیوں کے بے تاب بلاوے پر گلی میں لوٹ آیا ہوں۔
لوٹ آنے پر میں نے دیکھا کہ میں اس مکان کے سامنے کھڑا تھا جہاں میری ماں، مجھے جنم دینے والی اداس و نامراد ہستی اپنے حصے کی سفاک زندگی کو جھیلا
کرتی تھی۔
مجھے دھندلا سا یاد ہے کہ تب میں بچہ سا تھا جب اماوس کی ایک رات کے پچھلے پہرکسی نے زوروں سے دروازہ کھٹکھٹایااور پھر طیش کھائی ہوئی جھنجھلاہٹ کے ساتھ کھٹکھٹاتا چلا گیا۔
میر ا باغی باپ کہ ہمیش ایسی ہی کسی دستک پر کان لگائے رکھتا تھا، ایک رسان سے اپنی بیوی کے پہلو سے اٹھا کہ دروازہ کھول دے لیکن وہ نیک بخت کہ دہشت اس کی آنکھوں میں اتر آئی تھی اپنے شوہر کے سامنے دیواربن گئی۔وہ اس کی منتیں کررہی تھی اور کہیں چھپ جانے کو کہہ رہی تھی۔میرا باپ، ایک دم بدم بوڑھا ہوتا بلوچ اپنے چہرے پر شانتی اوڑھے اس کا حوصلہ بڑھا رہا تھا اور راستے سے ہٹ جانے کو کہہ رہا تھا۔
(آہ! میرا باپ، وہ مسنگ پرسن کہ جس کا کوئی نام لیوا ہی نہیں بچا۔شنید ہے کہ مسنگ پرسنز کی فہرست میں موجود اس کانام کسی ایجنسیوں کی کارندہ دیمک کے جہنمی معدے کی رزق ہوچکا ہے۔ یوں سوؤ موٹو کی دانتا کل کل ہو یا الیکڑونک میڈیا کی تماشی بینی، کوئی اس کا ذکر تک نہیں کرتا۔)
سومیاں بیوی کے درمیان ابھی کشمکش جاری تھی کہ بھاری بوٹوں کی متواتر ضربوں سے دیمک کھائی لکڑی کا دروازہ قبضوں سمیت نیچے آرہا۔
یہاں واضح کرتا چلوں کہ موخر الذکرمک شب زادمسنگ پرسنز کی فہرست چاٹنے والی حرافہ کی خلیری پھپھیری ہو توہو لیکن فی الاصل یہ کوئی اور تھی اور مدت پہلے دراندازوں کے ساتھ کسی خاموش معاہدے کے تحت سازشی دہلیزوں ، دروازوں کو چاٹنے کی اسائنمنٹ پر تھی ۔
تو بھاری بوٹوں کی نپی تلی دو ضربیں رسید کیا ہوئیں کہ کواڑ کا ایک پٹ آڑا آڑا دھم زمین پر آرہا۔
میں نے کچے میں ٹوٹ جانے والی نیند کے خمار میں دیکھا کہ وہ لوگ گنتی میں بہت تھے۔ایک جیسی وردیاں پہنے ہوئے اور اپنے ایک سے مسخائے ہوئے چہروں پر نفرت کی سیاہی تھوپے ہوئے تھے۔
اب ان میں سے کوئی میرے سامنے آئے تو میں پہچان بھی نہ پاؤں کہ تب میری روتی ہوئی آنکھوں کے سامنے نمکین پانیوں کی چادر تنی تھی اور پھر یہ کہ سب چہروں کے مسخ شدہ نقوش سے چھلکتی خباثت مجھے ایک سی لگے ہے۔اب کون ایسا باریک بین کہ ایک خباثت کے ٹیکسچر کو دوسری سے جدا کرکے دیکھ پائے۔
میرے باپ کو روشنی اور ہوا کی دنیا سے دور لے جائے جانے کا منظر مجھے اس لیے بھی یاد رہے گا کہ جونہی سازشی کواڑ نے وردی ڈانٹے دراندازوں کو اندر داخل ہونے کیلئے راستہ دیا کچھ ایسا ہوا کہ میں بالی عمریا کی نندیا میں بھی چکراگیا۔ یہ ایک باس تھی جو میرے نتھنوں کو بھردینے کے بعد دماغ کے پیچیدہ چیمبروں میں گھسی چلی آرہی تھی۔
یہ نحوست ماری باس کچھ ایسی تھی جیسے باطن کے کسی گہرے چیمبر کے موت ایسے سرد اور تاریک ماحول میں ایک ٹھنڈی ٹھار سائنسی سنجیدگی سے بغلوں اور پیڑو کے پسینے کی بے تحاشابساند میں ہائیڈروجن سائنائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ کا ذرا سا آمیزہ ملادیا جائے اور پھراس آمیزے کو اک نفاست سے کافور کی لاٹ کا تڑکا لگاکر اس کاقدیمی انسانی خباثت کے ساتھ کیمیائی تعامل کردیاجائے۔یہ مکروہ باس ان دراندازوں کے جسموں کی گہرائی سے پھوٹتی اور ان کی وردیوں سے رستی ہوئی کمرے میں موجود ہوا میں شامل ہورہی تھی۔
معلوم نہیں میری قوت شامہ کا غیر معمولی پن تھا یا باس کی فریکوئنسی یا ویو لینتھ ایسی تھی کہ میرے سوا اس سے کوئی دوسرا پریشان نہیں تھا۔صرف ایک میں تھا جو اس باس سے بچنے کو تکیے پر سر پٹک رہا تھا اور چاہ رہا تھا کہ اس بدبودار غول بیابانی نے جو کرنا ہے کرگذرے اور ترنت اپنی شکلیں گم کرے۔
تو وہاں،میرا غصیلا اور کھڑکھڑائی ہوئی مٹی سے بنا اڑیل باپ کمرے کے وسط میں پورے قد سے تن کر کھڑا تھا اور اس سے چمٹی ہوئی میری ماں کا نحیف جثہ آنے والے لمحوں کی دہشت سے کپکپا رہا تھا۔تب وہ غول بیابانی بڑھا اور میرے باپ نے نفرت سے تھوک دیا۔تس پے انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھ ٹھٹھا کیا اور ایک ہی جھپٹ میں اس کی پگڑی کو نوچ کر اپنے بوٹوں تلے مسل دیا۔ پھر انہوں نے اس کی گدی پرجیو جسٹو کا ہاتھ مار ایک گُڈے کی طرح اٹھایا اور ڈنڈا ڈولی کرتے ہوئے اسے ایک ہی جھونک میں تاریک رات کی سیاہ گود میں جا پھینکا۔
اور پھر جانے کے سال آئے اور گئے کہ میں اپنی ماں کی انگلی تھامے مسنگ پرسنز کی بازیابی کیلئے بنے احتجاجی کیمپوں، پریس کلبوں اور شیشے سے بنی سڑکوں پر خوبصورت گنبدوں والی عدالتوں میں مارا مارا پھرا کیا۔ان جگہوں ایک ہجوم ہوا کرتا تھا۔ اپنی اپنی بغل میں اپنی اپنی کہانی دبائے،ایسی ہی عورتوں اور ایسے ہی بچوں کا۔یہ میرے لیے مزے کی ایکٹویٹی ہوتی اگر ان تمام جگہوں میں میرے نتھنوں کو اسی نحوست ماری باس کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔وہاں یہ باس ان کیمروں اور مائیک والوں کی بغلوں اور پیڑوؤں سے پھوٹتی محسوس ہوتی جوچسکے دار فوٹیج اور رلادینے والی کہانیاں حاصل کرنے کیلئے کیمپ میں موجود عورتوں اور بچوں کو اپنے تئیں رلانے کی جاں توڑ کوشش کیا کرتے تھے۔
میرا باپ اور میرے جیسے بہت سے بچوں کے باپ کیوں غائب کردئیے جاتے ہیں اور پھر ان کےساتھ کیا روا رکھاجاتا ہے، ایک بہت جانی بوجھی بات ہے لیکن مدت تک میرے لیے معمہ بنی رہی ۔ماں جب سلائی مشین چلاتے چلاتے تھک جاتی یا جب وہ بہت سا پیاز کاٹنے اور بہت سا روچکنے کے بعد اپنی سرخ
آنکھیں پونچھ لیتی تو مجھے گود میں بٹھلا کر میرے بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کیاکرتی اور کہانیاں سناتی ان غریب شہزادوں کی جوخوبرو شہزادیوں کو چھڑاتے چھڑاتے دیو کی قید میں چلے جاتے اور پھر اگر ملتے بھی تو کسی بنجر پہاڑی ویرانے میں جہاں ہیلی کاپٹرسے گرائی گئی ان کی مسخ شدہ لاشیں کتوں اور چیلوں کوئوں سے بچ رہنے کی صورت میں محض اتفاق سے دریافت ہوجاتی ہیں۔
تو بھرا جی!اپنی اوڈیسی کے اس موڑ پر یعنی سیارگانِ ہفت افلاک کے پرشہوت اور پرشباب خیالوں کو کھولاتی اس سبز پری ایسی زمین پر واپسی سمے میں دکھ کے ساگر میں ڈوبااپنے گھر کے سامنے کھڑا تھا ۔میں نے دیکھا کہ دیمک کھائے دروازے کا بھاری بوٹوں کی ضربوں سے زمین بوس ہونے والا سازشی پٹ اسی طریوں دہلیز پر پڑا تھا۔میں نے چاہا کہ ایک نظر اندر جھانک کر دیکھ لوں کہ کیا پتا ماں اب تلک صحن میں بچھی قدیمی چوکی پر بیٹھی ہو اورسلائی مشین پر ہاتھ چلاتے چلاتے زندگی بہلانے کے جتن میں ہویا شاید میرے باپ کو تاریک رات کی سیاہ گود نے اگل دیاہواور اندر کمرے میں اس کی بیوی اس کی زخم زخم پشت پر مرہم لگا رہی ہو۔لیکن وہاں میرے لیے مکمل مایوسی کے سوا کچھ نہ تھا۔
جہنم زادمکڑیوں نے دروازے کے خلا کو تہہ در تہہ جالے بن کر بھر دیا تھا۔اس جالے کی دبازت اس قدر بھرپور تھی کہ میرا ایتھیرکل وجود جہاں تہاں رک گیا۔دہلیز پار کی گم گشتہ دنیا کہ میری اپنی دنیا تھی اب میرے لیے نو گو ایریا بن چکی تھی۔تبھی اس نحوست ماری باس کی ایک آوارہ بھبک نے گلی کا موڑکاٹ کر میری اور بڑھنا چاہا اورمیں دہلیز پر جمی گرد کو چوم دکھ ساگر کی پنہائیوں سے باہر نکل آیا۔


جب میں اپنے مسترد شدہ دیس کے گلی کوچوں کی پیچیدہ جیومیٹری میں گم ہوا تو وہاں ملگجے اندھیرے کا راج تھا۔آسمان پر کوئی کوئی تارہ تھا، ٹاواں ٹاواں، کھویا کھویا اور بوڑھا چاند اپنی چاندنی میں لپٹا لپٹایا بیمار پڑا ہونک رہا تھا۔میں ایک سیاہ مسکان مسکایا۔میری کھوج کی سمت درست نکلی۔وہ مستائی ہوئی منحوس باس دیواروں سے اپنی کمر کھجلاتی صاف یہاں موجود تھی، پرے باندھے ہوئے مرغولہ در مرغولہ۔تب میں نے بغل سے انسانی وجود بمع لباس نکالا، اعصاب کانقشہ درست کیا اور زپ بند ہونے کی پرطمانیت آواز کے ساتھ زندہ انسان کی کثیف جون میں لوٹ آیا۔
جنم پھیر کے ایک اور چکرمیں آتے ہی میں نے اپنے نئے پھیپھڑوں میں گہرا سانس بھرا اور کراہت کے ایک گہرے ناروا احساس کے ساتھ جانا کہ یہ کوئی سڑاند ہے جیسے کسی جاندار کے کئی دن پرانے ہلاک شدہ وجود پر کافور چھڑک کر اسے آگ پر بھوناگیا ہو۔ شاید یہ میرے کام چور دماغ کا تراشا ہوا اولین تاثر ہو تو ہووگرنہ اس باس کی نوعیت کو سمجھنا زیادہ ادق تھا۔یوں تھا کہ باطن کے گہرے چیمبروں میں تیار کردہ ، بغلوں اور پیڑو سے رستے پسینے کی بساند میں ہائیڈروجن سائنائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ کا ذرا سا آمیزہ ملی اور کمال مہارت سے کافور کا تڑکا لگی اور پھرقدیمی انسانی خباثت کے ساتھ کیمیائی تعامل کرتی باس سے میری آشنائی تو قدیم سے تھی لیکن یہ؟۔۔۔شاید یہ اسی کی نیکسٹ جنریشن ہو یا جو بھی ہو ،ٹھیک ایسی بو پہلے کبھی میرے نتھنوں میں نہ گھسی تھی۔شاید تب بھی نہیں جب میں یہاں زندگی کیا کرتا تھا (آہ! کیا چوتیا زندگی تھی وہ بھی)۔
ملگجے اندھیرے میں اونگھتی گلیوں کی اجاڑ ویرانی میرے سیکنڈ تھاٹ کی تصدیق کررہی تھی کہ اس سم قاتل نے کہاں کسی کو جیتا چھوڑا ہوگا۔میں نے تو سوچا تھا کہ چلو اس یاترا کے بہانے کسی یار سنگی کا منہ دیکھنا بھی نصیب ہوجائے گا۔مگرآہ! حسرت ان غنچوں پر۔۔۔ میں نے چاہا کہ اک لحظہ گریہ کنائی کی رسم ادا کروں اور واپس ہولوں۔لیکن تبھی ایک پورے قد کا سایہ تاریکی کی کوکھ سے جنما اور میرے برابر سے ہوکر نکلتا چلا گیا۔میں خوش ہوا کہ چلو کوئی تو ذی نفس ملا۔تبھی میں نے اسے متوجہ کرنے کو کھنگورا مارا تووہ رکا اور پلٹ کر دیکھا۔
’’ایکس کیوز می بھائی صاحب!‘‘واپسی کے بعد پہلی مرتبہ کسی ہم نفس سے تخاطب کی سرخوشی سے میری آواز شاید کچھ زیادہ ہی اونچی ہوگئی تھی کہ اس نے ناپسندیدگی سے سر جھٹکا اور پھنکار ایسی گہری سانس لی۔
’’اف ! یہ سڑاند۔۔۔‘‘ایک تیز بھبک نے مجھے چکرا کر رکھ دیا۔یہ سڑاند صاف اس کی بغلوں اور پیڑو سے نکل رہی تھی۔
عجیب شخص تھا وہ کہ کچھ بولا نہ چالا، ٹک میری طرف دیکھتا رہا اور پھر بڑھا کہ میری ناک سے ناک بھڑادے۔اس کی نظروں میں سات جہنموں کی آگ پلائی ہوئی سمورائی تلوار جیسی کاٹ تھی کہ میں اندر تک کٹتا چلا گیا۔سفیدی سے محروم گہری بھوری آنکھیں جن کے مقدر کی سیاہی سے سیاہ تر قرنیہ کے بیچ ویلڈنگ ٹارچ جیسا شعلہ فروزاں تھا۔یہ انسانی آنکھیں ہر گز نہ تھیں۔اگر میں جنم بھر پہلے حائل واسطوں کی قید سے نہ چھوٹا ہوتا اور ایں جنم پورے بالاعصاب وجود کے ساتھ موجود ہوتا تو واللہ! ان نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے میں روح تک ہلاک ہوگیا ہوتا۔
میں اس کے دیکھنے کی تاب نہ لاتے ہوئے نظریں چراگیا تو اس نے اپنی طرف سے میری بات کا جواب دیا۔یہ جواب ایک مدہم اور مسلسل غراہٹ کی صورت میں تھا۔بھیڑئیے کی غراہٹ۔میں اک لحظہ چکرایا اور غور کیا کہ اس کے کان نوکیلے اور اوپر کو اٹھے ہوئے تھے۔خدایا! میں بھول میں ایک گرگ مانس (She-wolf)سے ٹکرا گیا تھا۔
خود کشوں کے جنگل میں مجھے بارہا بھیڑیا آدمیوں سے پالا پڑا تھا۔جب کبھی کوئی ہارپی مجھے نوچتے ہوئے کس طرح کی بدتہذیبی کا مظاہرہ کرتی تو میں عزت نفس کا مارا ری ایکٹ کرتا۔جونہی یہ ہوتا قریب ہی کہیں کوئی نگران گرگ مانس تھوتھنی سکیڑے مجھ پر جھپٹ پڑتا اور میرے درخت وجود میں اپنے قاتل دانت گاڑ دیتا۔شاید یہاں بھی کچھ اسی نوع کی سیٹنگ تشکیل پارہی تھی۔
رات کے جانے کون پہر ایک ہارر مووی کی پرفیکٹ سیٹنگ کے بیچوں بیچ میں بدحواسا سا کھڑا پورے وجود سے کپکپایا ۔تب وہ منہ کھول کر غراتی ہنسی ہنسا اور میں نے دیکھا کہ تیز دھار دندانِ گرگ اندھیرے اور اجالے کی Blurred سرحد سے پھوٹتی ملگجاہٹ میں بھی صاف چمک رہے تھے۔وہ میرے وجودمیں نظریں گاڑے تھا اور اس کے نقوش دھیرے دھیرے مسخ ہورہے تھے۔ وہ احمق مجھے انسان جان کر شاید کوئی وقوعہ کرنے کے موڈ میں تھا کہ صد شکر اس ہارر سین کی شوٹنگ پیک ہوئی۔اس کی نصف بہترجو تھوتھنی ایسے ہونٹوں کو لال لپ سٹک سے لتھیڑے چپکے سے ہمارے پیچھے آن کھڑی ہوئی تھی آگے بڑھی اور اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر ایک رسیلی غراہٹ غرائی۔شاید وہ ڈیٹ مارنے کے موڈ میں نکلی تھی کہ لگ رہا تھا کہ وہ اپنی گرمی کسی بیکار کی اڑچن کے حوالے کرنے سے گریزاں تھی۔میرے مقابل کھڑے گرگ مانس نے ایک گہرا سانس لیا اورمجھے اپنی نظروں کی گرفت سے آزاد کردیا۔وہ اس نیک بی بی کی جانب ایڑھیوں کے بل گھوما اورایک ترسے ہوئے نر کی سی وحشت میں اسے خودسے لپٹا اس کی گردن میں دانت گاڑ دئیے۔ شی وولف نے مارے لذت کے سسکاری بھری اور اس کے گریبان کو چاک کرتے ہوئے گھنیرے بالوں میں چھپے سینے میں جوابی دانت گاڑ دئیے۔ذرا دیر شاد کام ہونے پر وہ بے حجاب جوڑا لال زبانیں نکال ہونٹوں کو چاٹتاایک دوجے کے بدن سے بدن چمٹائے اندھیرے میں تحلیل ہوگیا۔
’’ڈر گئے؟‘‘
ایک استہزائی لہجے سے میں تربک کر مڑا۔وہ میرے سامنے کھڑا تھا۔اس نے اپنے گرد کس کر ایک کالی چادر اوڑھ رکھی تھی یوں کہ صرف آنکھیں اور ناک دکھائی دے جائیں۔تب اس نے چادر سرکا کر چہرہ نمائی کی۔اس کی آنکھیں ایتھنز کے ٹورسٹ ریزارٹس پرٹکے ٹنڈبکتے پلاسٹر آف پیرس سے بنے قدیم یونانی فلسفیوں ایسی بے نور تھیں۔شاید خلائے چشم میں زندہ آنکھوں کی جگہ کاہل مجسمہ ساز نے پتھر بھردیا تھا۔میری نگاہ اس کے کشادہ ماتھے سے سرکتی ہوئی اس کے گالوں کی ڈھلوانوں پر پھسلی اور اس کی مضبوط ٹھوڑی کے گڑھے میں ڈوب گئی ۔اور ہاں اس کی رومن سورماؤں ایسی کھڑی ناک ۔۔۔!اس کی ناک کے نتھنے مضبوط اور پرسکون ڈھلوانیں بناتے چہرے کے گہرے خطوط میں ڈوب رہے تھے اور آنکھوں میں چاندنی گھلے پانیوں کی مدھرتا تھی۔میں نے دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کی پوروں میں ایک جگنو چمک رہا تھا۔
’’عادی ہوجاؤ گے، یہاں بہتیرے ایسے لفنگے گھومتے پھرتے مل جائیں گے۔‘‘
ادھے پچدھے سگریٹ سے لطف لینے کیلئے اس نے ہونٹوں کو چادر کی گرفت سے تھوڑا آزاد کیا اور آنکھیں موند کر ایک گہرا کش لیا۔ادھر اس کے منہ سے دھواں نکلا ادھر ایک غصیلی کھانسی اس کے پیچھے لپکی اور دھوئیں کے مرغولے کی کمپوزیشن کو بری طرح بکھیر کر رکھ دیا۔کھانسی کے زور سے وہ جھکتا چلا گیا۔ذرا دیر بعد سیدھا ہوا تو اطمینان بھری سانس سے اپنے پھیپھڑوں کو تازہ دم کیا۔
’’کیا کاٹ دار کھنگ تھی۔سواد آگیا۔‘‘
یہ بھی کوئی کم دلچسپ کردار نہ تھا۔
’’کون ہو تم؟‘‘
’’تم پہچان میں اب بھی ٹھوکرکھا جاتے ہو،ایں؟ ‘‘
تھوڑی استہزائی ہو ہوکے بعد ایک اور کش اور کاٹ دار کھانسی کا ایک اور حملہ۔
میں نے سر کھجایا تو وہ رسان سے بولا۔’’خود کو ٹٹولو، اپنا نام یاد کرو۔اور اگر نہیں تومجھے غور سے دیکھو اورجانو کہ میں وہی ہوں تمہارا جنم جنم کا سنگی کہ سمر نام کی ایک دیوی میری نکاحی بیوی ہوا کرتی ہے۔‘‘
’’اوہ! یو بڈی سامر*!؟۔۔۔تم ابھی تک زندہ ہو؟؟۔۔۔
اس نے میری امریکی سٹائل کی بے تکلفی کو ایک فیلسوف کی سی سنجیدگی سے نظر انداز کیا اور ایک بے موقع شعر ارشاد کیا’’آہ!بھگتوں کے بھگت اور داسوں کے داس کبیر نے کیا خوب کہا ہے ۔۔۔ نینن کی کر کوٹھری پُتلی پلنگ بچھائے۔پلکوں کی چق ڈار کے پی کو لیا رجھائے‘‘۔ایک شریفانہ سی کھانسی کھانس کر اس نے بات جاری رکھی۔’’کیا سمجھے بھگوڑے؟ تم مجھے چھوڑ گئے لیکن میں تم ایسا نہیں۔جس نے مجھے جنما ہے اور جو میری بی بی ہے میں اسے چھوڑ کر کہاں جاؤں گا، ایں؟‘‘اس نے بڑے سٹائل سے پور پر پور جما کر سگریٹ کے جگنو کو اندھیرے میں اچھالا۔’’خیر چھوڑو ، پیرول پر ہو؟‘‘
’’یہ باس کیسی ہے؟‘‘
’’اس تعفن کی بات کررہے ہو ؟مجھے پتا تھا کہ تم پوچھے بنا نہیں رہو گے‘‘۔اس نے ایک گہرا سانس لے کر تعفن ایسی باس کو اپنی رگوں میں اتارا اور سادیت پسند ی کے تاثرات اوڑھ کر مسکرایا۔’’آؤ کہیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔میرے تن میں ست کم ہوتا جارہا ہے۔زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ سکتا۔‘‘
ہم وہیں بھویں پر بیٹھ گئے۔ٹھیک اسی سمے مشٹنڈوں کی ایک ٹولی وہاں سے گذری۔رات کے اس پہر شاید وہ کسی چوری چکاری کی واردات پر جارہے تھے۔ایک ایک نے جھک کر ہمیں تمسخر انہ بے باکی سے دیکھا۔
تبھی کسی نے کوئی واہیات سی جگت اچھالی جس پر وہ رانوں کو پیٹ پیٹ قہقہے لگاتے نظروں سے اوجھل ہوگئے۔میں نے بعد میں نوٹس کیا کہ ان میں سے کسی نے منہ کو ماسک وغیرہ سے نہیں ڈھانپ رکھا تھا۔شاید ان کی سونگھنے کی حس مرچکی تھی۔
’’تو تم پوچھ رہے تھے اس بو باس کے بارے میں۔‘‘اس نے اپنا سر گھٹنوں میں چھپالیا۔’’یہ کوئی ایسا بھید نہیں جسے تم پا نہ سکو۔رسان سے کام لو کچھ دن میں سب معلوم پڑجائے گا۔‘‘
’’اوروہ کون تھے۔وہ جوڑا جو سب سے پہلے مجھ سے ٹکرایا تھا؟۔‘‘
’’وہ گرگ مانس؟‘‘ اس نے سر کھجایا اور پھر جیب سے ایک اور سگریٹ نکال کر سلگایا۔وہی ہوا، پہلے کش پر ہی ضیق النفس کھانسی نے اسے ادھ موا کردیا۔
’’سگریٹ چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟‘‘
اس نے سرت بحال ہونے پر اپنی آنکھوں سے بہتے پانی کو پونچھا۔’’اسی بہانے آنکھیں نم ہوجاتی ہیں ورنہ تو خاک اڑا کرتی ہے اندر باہر۔
’’وہ کون تھے؟‘‘ میں اسے دوبارہ ٹریک پر لانے پر مصر ہوا۔
’’بھلے لوگ تھے ،انہیں دن کی روشنی میں دیکھنا۔اپنے گھروں، دکانوں اور کارگاہوں میں بہت نارمل بی ہیو کریں گے۔ من موہ لیں گے اپنے حسن اخلاق سے۔‘‘ایک اور کش کے بعد اس نے سنبھالا لیا۔
’’تم کہنا یہ چاہ رہے ہو کہ دن کی روشنی میں یہ انسان کی جون میں لوٹ آتے ہیں؟‘‘
’’پوچھ ایسے رہے ہو جیسے تم اس دنیا کے انسان لوگوں کے بارے میں کچھ جانتے ہی نہیں۔‘‘
’’خیر، بہت دور کی سہی کچھ نسبت تو میری بھی ہے اس دنیا کے ساتھ۔لیکن یہ نحوست زدہ باس، یہ بقول تمہارے نارمل بی ہیو کرنے والے گرگ مانس ، یہ سب بکواس۔پہلے بھی یہ سب تھا لیکن اس قدر نہ تھا۔‘‘
وہ کھانسی کے سینہ شگاف وقفوں میں دیر تک ایک تمسخرانہ ہنسی ہنسا کیا اور پھر گھٹنے بجاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔’’میری کہانی دیوی، میری سمر بی بی کہیں کھوگئی ہے۔رات کے ہول میں میں اسی کی تلاش میں تو نکلا تھا۔تم نے راہ کھوٹی کردی۔اب چلتا ہوں۔‘‘
میں نے بے تابی سے اس کی چادر کا پلو کھینچ لیا۔’’ذرا رکو، تم نہیں بولو گے تو کون بولے گا؟کچھ تو بتاؤ۔‘‘
’’تمہیں یہاں سے گئے کے دیر ہوئی ہوگی؟‘‘
اس سوال نے مجھے گڑبڑا دیا۔میں نے یونہی اٹکل میں وقت اورلاوقت کا حساب کرنا چاہا ۔چند یہاں اور وہاں کے عذابوں کا ذوالعضاف اقل نکالا،حاصل کو لاحاصل سے منہا کیا اور یونہی کچھ دیر تک الجھا کیا۔
وہ ایک ہونک میں میری گڑبڑاہٹ سے لطف اندوز ہوتا رہا اور پھر اس نے بازو پھیلا لیے۔’’چھوڑو،آؤ کہ میرا سینہ کب سے خالی پڑا ہے۔آؤ میری ’میں ‘سے اپنی ’ میں ‘ کو ملاؤ اور آؤکہ ہم اپنی بی بی کو تلاش کریں۔وہ ملے توبات کا کچھ سراغ ملے۔
میں نے اس کی جانب قدم بڑھایا اور پھر میں اپنی میں کو کھو کر سامر کے قالب میں ڈھل گیا۔ اب میں سامر تھا اور مجھے اپنی بی بی سمر کو ڈھونڈنا تھا کہ کسی طور اس منحوس باس کو قتل کرنے کی کوئی راہ نکلے ۔سو میں نے اپنی دوسراتھ میں چادر کی بکل کو درست کیا اور اندھیرے کی دبازت میں تحلیل ہوگیا۔


* سمر اور سامر بمعنی کہانی اور کہانی کار۔مرحوم اسلم سراج الدین کی کہانیوں کے مجموعے ’’سمر سامر‘‘ سے اخذ کردہ۔