بہت دیر ہو گئی

رقیہ پارٹی سے واپس آکر جلدی جلدی کپڑے بدل کر مسہری پر پڑ گئی۔ وہ رونا چاہتی تھی مگر آنکھوں میں آنسو نہیں آرہے تھے۔ پارٹی کا سماں ایک گڑبڑ خواب کی طرح اس کے سامنے آرہا تھا۔ ہاں سعید، سعید کو دیکھنے، سعید سے ملنے کے لیے ہی وہ ایسے کپڑے پہن کر گئی تھی جو آٹھ برس پہلے اس نے پسند کیے تھے۔ آٹھ سال پہلے ایسی ہی ایک پارٹی میں سعید نے سب سے الگ ہو کر اس سے کہا تھا، تمہارے کپڑے یہاں سب سے اچھے لگ رہے ہیں۔ تم سب سے زیادہ جچ رہی ہو۔ اس نے کہا تھا، ’’بہت شکریہ۔‘‘ ہلکے سرخ رنگ کے پھولوں والی قمیض، سفید شلوار، دکان میں یاقوت کے بندے، پیر میں سرخ چپل، چہرہ گلابی پوڈر اور ہونٹوں پر سرخ لپ اسٹک یونہی وہ آج بھی سج کر گئی تھی۔ مگر آٹھ برس میں سعید کیسا بدل گیا تھا۔ سب کے سامنے کہنے لگا، ’’ارے رقیہ، تم کس قدر بدل گئیں۔ کیا ہوا گالوں میں گڑھے کیسے پڑ گئے اور چہرہ پر یہ نشان کیسے جو پوڈر سے بھی نہیں چھپتے۔‘‘ وہ یہ کیا کہہ رہا تھا۔ معلوم ہوا کہ اس نے تمام جذبات پر پانی، ٹھنڈا برف کا پانی ڈال دیا۔ آٹھ برس سے وہ اس کے خیال میں محو تھی۔ وہ تعلیم حاصل کرنے انگلینڈ اور پھر امریکہ گیا تھا۔ دل کہا کرتا کہ واپس آکر وہ اسی کو پسند کرے گا۔ نسیمہ کو وہ جو بھی خط لکھتا اس میں رقیہ کو ضرور پوچھتا شاید وہ بھی اسے اتنا ہی چاہنے لگا تھا۔ کیا سچ مچ پوچھا کرتا تھا یا نسیمہ محض مروت میں کہہ دیتی تھی، ’’بھیا کا خط آیا ہے تم کو پوچھا ہے۔‘‘ آخر وہ براہ راست بھی اسے خط لکھ سکتا تھا۔ مگر کبھی کوئی پرزہ بھی نہیں لکھا اور اب آکر تو اس نے اسے اجنبی کی طرح پہچانتے ہوئے گالوں میں گڑھے، چہرہ پر نشان ہی دکھائی دیے۔ وہ بھی کچھ زیادہ تگڑا اور بڑا نظر آیا تیس سے اوپر نکل گیا ہے۔ رقیہ کو پہلے سے زیادہ اچھا لگا۔۔۔ مگر اچھا لگنے سے کیا ہوتا ہے۔ وہ تو اسے اچھی نہیں لگی۔ وہ ریحانہ، پروین، رعنا سب سے کھلکھلا کھلکھلا کر ہنستا رہا۔ رقیہ کی طرف جب بھی رخ کیا تو خاموش ہو گیا اور پھر سب کے سامنے اس کے چہرہ پر تنقید کرنے لگا۔


اس نے اپنا رخ کپڑوں کی الماری کی طرف کیا، جس میں قد آدم شیشہ لگا تھا۔ اس کے چہرے پر جو چھائیاں پڑ گئی تھیں صاف دکھائی دیں۔ یہ کم بخت کسی طرح نہیں جاتیں کیسی کیسی دوائیں کیسی کیسی کریمیں لگائیں اور یہ گڑھے شمیم تو انہیں کی تعریف کرتا تھا، ’’ہائے نزاکت‘‘ کہہ کر تڑپ جاتا تھا۔ مگر وہ اسے بالکل نہ بھایا۔ اس کے دل میں سعید گھسا ہوا تھا۔ یہ سعید جو ایک دفعہ آگ لگا کر بالکل الگ ہو گیا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اس نے کبھی کہیں دور سے اسے دیکھا تھا۔ اب اک دم سے دیکھ کر یاد کیا۔ انگلینڈ اور امریکہ میں نہ معلوم کتنی لڑکیوں سے ملا ہوگا۔ وہاں کی لڑکیاں تو خود مردوں کا پیچھا کرتی ہیں اور پاکستانی انہیں خاص طور پر بھاتے ہیں۔ اور اب یہاں کوئی انہی کی طرح کی ڈھونڈ لے گا۔ اتنا کوالیفائیڈ ہو کر آیا ہے اونچی جگہ ملے گی اور نہ جانے کتنے رئیسوں کی لڑکیاں اس کے پیچھے دوڑیں گی۔ پارٹی سے جاتے وقت بھی کئی اس کے ساتھ موٹر میں گئیں۔ رقیہ کو کوئی اشارہ بھی نہیں کیا۔ شمیم کس قدر لٹو تھا مگر رقیہ نے اسے لفٹ ہی نہیں دی۔ آخر کو اس نے شکیلہ سے شادی کر لی۔ رقیہ نے کہا تھا، ’’پیچھا چھوٹا، دو برس تک اس نے ہلکان کیا۔ اس سے سعید کتنا اچھا تھا۔‘‘


پھر کلیم سے ملاقات ہوئی۔ اس نے رقیہ کے پیچھے کئی ہزار خرچ کر دیے ہوں گے۔ پرزنٹ، سنیما، ہر تفریح میں ساتھ، مگر رقیہ نے اس کی طرف بھی رخ نہیں کیا۔


آٹھ برس بڑا لمبا وقت ہوتا ہے۔ وہ انٹر میں تھی سعید بھی اس کے ساتھ تھا۔ بی ایس سی میں ساتھ رہا۔ اور اس کے بعد انگلینڈ چلا گیا۔ آٹھ برس، دو برس ایم اے کے، ایک بی ٹی کا اور پانچ برس کی ملازمت، تین برس پہلے تک ہر طرف سے پیغام آتے رہے۔ اماں، ابا، بھائی سب نے رشتہ لگانا چاہا اور آخر میں رومانہ کے والد۔ اس کمبخت اطہر نے کہا تھا، ’’یہ ایسی نارنگی ہے جو پیڑ پر لگے لگے سوکھ گئی۔‘‘ کیا وہ سچ تھا۔ ’’اب کوئی جوان تو پھنستا نہیں کوئی دوجا جو کرلے تو کرلے۔‘‘ قمر کی اماں نے کہا تھا۔


’’عورت بیسی اور کھیسی اور تو اب تیس کو ہونے کو آئی، اب شادی ہو چکی۔‘‘


’’ادھر لڑکی نے نوکری کی اور ادھر شادی کے دروازے اس کے لیے بند ہوگئے۔‘‘


’’ارے نوکری سے عورت سوکھنے لگتی ہے اور اگر موٹی ہو تو ڈھل جاتی ہے۔‘‘


’’لڑکیاں بی اے میں آتی ہیں تو بچوں کی طرح کھلی ہوئی اور بی اے کرتے کرتے مرجھانے لگتی ہیں اور ایم اے کے بعد تو بالکل کھپٹا 58ہو جاتی ہیں۔ چہرہ پر خون بھی نہیں رہ جاتا۔‘‘


’’جوبن تیرے ڈھل گئے اک آن خالی رہ گئی، سرمایہ تیرا بک گیا دکان خالی رہ گئی۔‘‘ بڑا پست شعر مگر قاسم بات بات میں یہ سنا دیتا تھا۔


’’تم سمجھتی ہو کہ جو جو وقت جارہا ہے وہ تمہاری لڑکی کی قیمت بڑھ رہی ہے۔‘‘ خالہ جان نے اماں سے کہا۔


’’اے بہن کیا کروں کوئی جڑتا ہی نہیں۔‘‘


’’آج کل کے زمانے میں گھر بیٹھے کوئی نہیں آتا۔ لڑکی ادھر ادھر لے جاؤ۔ فیشن کرنے دو۔ اور لڑکیوں کے ساتھ پھرنے دو۔ کوئی نہ کوئی پسند کرلے گا۔ آخر تسنیم کی اسی طرح شادی ہوئی تھی۔ یہ پڑھانے جانا، چلے آنا کافی نہیں ہے۔‘‘ خالہ نے مشورہ دیا تھا۔


مگر اس وقت بھی کافی دیر ہوگئی تھی۔ اس کے دل میں سعید کیا بیٹھا تھا، نہ لینا ایک اور نہ دینا دو۔ یہ دل میں کون کہتا تھا، ’’آئے گا آنے والا آئے گا آنے والا۔‘‘ وہ آنے والا آگیا۔ مگر کس تیور سے آیا تھا۔ ’’تمہارے چہرے پر دھبے، تم بدل گئیں۔‘‘ دل کو کاٹ کر رکھ دیا۔ اب اگر رخ کرے تو ٹھوکر مار دے۔ مگر اب اس کے رخ کرنے کی کوئی امید نہ تھی۔ آٹھ برس سے پلتی ہوئی امید سے اس کی عادت پڑ گئی تھی۔ ایک اسٹروک میں ختم ہوگئی۔ اب اس کے دل سے ایک آہ نکلی اور آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔


ہائی اسکول کے سرٹیفکیٹ کے حساب سے بھی وہ اب تیس کی تھی حالانکہ وہ اپنے کو ۲۲ سے ۲۴ تک کا بتاتی تھی۔ سب کہتے رہنے کے باوجود اسے یہ احساس نہ تھا کہ اس کا حسن ڈھل گیا ہے۔ آج سعید نے اس کے آنکھوں کے سامنے کے سب پردے اک دم ہٹا دیے تھے۔ وہ بلک بلک کر رونے لگی۔ تکیہ گیلا ہوگیا۔ اس نے والدہ سے کہہ دیا تھا آج کھانا نہیں کھاؤں گی پارٹی میں بہت کھا لیاہے۔ اب اسے رات بھر روتے رہنے یا روتے روتے سو جانے کے سوا اور کچھ کام نہیں تھا۔


گھنٹے بھرسے زیادہ رونے دھونے اور کروٹیں بدلنے کے بعد کچھ طبیعت ہلکی ہوئی اور اب اسے اس کی شاگردہ رومانہ کے والد نعیم صاحب سی ایس پی ریٹائرڈ یا د آئے۔ وہ اپنی لڑکی کو روز کالج پہچانے اور لے جانے موٹر پر آتے تھے۔


’’ڈیڈی یہ ہماری مس ہیں پروفیسر رقیہ۔‘‘


’’آپ کہاں رہتی ہیں آیے آپ کو آپ کے گھر اتار دوں گا۔‘‘


اور پھر وہ روز ہی اسے اس کے گھر سے لیتے اور گھر پہنچا دیتے۔ کیسی آنکھیں گڑو گڑو کر وہ رقیہ کو دیکھتے تھے۔ معلوم ہوتا تھا کہ نظر جسم کے آر پار ہو جائے گی۔


’’مس آپ ہمارے گھر ہوتی چلیں۔‘‘ رومانہ نے کہا تھا۔


اور اس کا گھر کیسا بڑا، کیسا عمدہ، لان، گھاس، پھولوں کی کیاریاں، ایک طرف نیم کا درخت، دوہزار گز کا پلاٹ، چار بڑے بڑے حصے، دو منزلے، دوہزار کا کرایہ اور آٹھ سو پنشن جس حصے میں رہتے تھے، دو بڑے بڑے بیڈروم، ایک ہال، بڑا سیٹ صوفے کا اور کھانے کی میز، چائے پر کیا کیا سامان تھا۔


’’رومانہ کی شادی میرے بھائی کے لڑکے سے ٹھہری ہے۔ وہ جلدی کر رہے ہیں۔ میں کہتا ہوں بی اے پاس کرلے تو شادی ہو۔ اس کی ماں کو مرے ہوئے چار برس ہو گئے۔ اس کی شادی ہوگئی تومیں اکیلا رہ جاؤں گا۔ میرے تین لڑکے ملازم ہیں۔ سب کی شادیاں ہو گئیں۔ دو لڑکیاں بھی بیاہ گئیں۔ اب یہ رہ گئی ہے۔‘‘


’’سب بھائی ڈیڈی سے کہتے ہیں کہ آپ ایک اور شادی کر لیجئے۔ ابھی آپ ساٹھ کے نہیں ہے۔‘‘ رومانہ نے کہا تھا۔


نعیم صاحب کچھ نہیں بولے۔ بڑی حسرت سے رقیہ کو دیکھتے رہے تھے۔ اب تو روز ہی وہ رقیہ کو اپنے گھر لے آتے۔


’’آپ رومانہ کو گھر پر پڑھا دیا کیجئے۔ آپ جو ٹیوشن فیس کہیں گی میں دوں گا۔ موٹر پرگھر سے لے آیا کروں گا۔ موٹر پر پہنچا آیا کروں گا۔‘‘


’’وقت کہاں ہے۔‘‘ رقیہ نے کہا تھا۔


’’آپ کالج سے یہاں آتی ہیں، چائے پی کر تھوڑی دیر آرام کریں، ہمارے یہاں مہمانوں کے لیے ایک بیڈروم خالی ہے اس میں آپ آرام کریں اور پھر لان پر سے دھوپ چلی جانے کے بعد میں لان پر بیٹھ کر آپ سے پڑھوں گی اگر دیر ہوجائے تو رات کا کھانا بھی ہمارے ساتھ کھالیا کیجئے گا۔ آخری ڈیڈی گاڑی پر آ پ کو پہنچا ہی آیا کریں گے۔‘‘


نعیم صاحب رومانہ کو لیے ہوئے اس کے گھر بھی آئے تھے اور اس کے والد سے اجازت لے لی تھی۔ پہلے مہینہ کے دوسو روپیہ والد کے ہاتھ میں رکھ دیے تھے۔ ’’آپ اتنے باوقار اور ذمہ دار آدمی ہیں اگر رقیہ آپ کے یہاں رہ بھی جائے تو ہم کو کوئی اعتراض نہ ہوگا۔‘‘ والد نے کہا تھا۔


اور پڑھانا تو نام کا تھا، نعیم صاحب سیرکراتے تھے، ریستورانوں میں لے جاتے تھے۔ کھانے کے بعد گھر چھوڑ جاتے تھے۔ کتنا خلوص، کتنی محبت، کتناآرام۔


’’ہاں یہ بڈھے لوگ بہت چاہتے ہیں، اچھا ہے شادی کرلے۔ ابھی دس بیس برس تو چل جائے گا۔‘‘ خالہ جان نے کہا تھا۔ اور رومانہ کی شادی ہوئی نعیم صاحب کے سب لڑکے لڑکیاں، بہوئیں، داماد آئے گھر بھر گیا۔ کرایہ والے حصوں میں بھی کمرے مانگ لیے گئے۔ نعیم صاحب نے سب کے سامنے کھانے کی میز پر کہا، ’’یہ پروفیسر رقیہ، رومانہ کی استانی ہیں۔ شادی کی سب باتوں میں ان کی رائے اہم رہے گی۔‘‘


رومانے کے بیاہ جانے کے بعد بھی نعیم صاحب موٹر لے کر آتے رقیہ کو کالج پہنچاتے اور پھر واپس بھی لے آتے۔ دوسال میں وہ ان سے بے باک ہو گئی تھی۔ وہ اس سے ’’تم‘‘ سے بات کرنے لگے تھے۔ اسے عمدہ پارکر کا فاؤنٹین پین اور اومیگا گھڑی لے دی تھی۔


پھر ایک دن خط اس کے ہاتھ میں دیا اور بوکھلاہٹ میں موٹر چلا کر غائب ہو گئے تھے۔


’’رقیہ تم نے میری زندگی کے ۳۵ برس کم کر دیے جب میں نے تمہیں پہلے دن دیکھا تھا تو مجھے محسوس ہوا کہ جب میں بیس برس کا تھا تو میرے سامنے ایک لڑکی آئی تھی وہی اب پھر آگئی۔ میری اس سے شادی نہیں ہو سکی تھی۔ اور وہ مر گئی تھی۔ گھر والوں نے رومانہ کی ماں سے شادی کردی تھی مگر میں تمام زندگی اسی شکل کو تلاش کرتا رہا جو تمہاری ایسی تھی۔ اب تم مل گئی ہو۔۔۔ آگے کچھ نہیں کہتا۔ تم خود سمجھ لو۔‘‘


وہ بڑے شر میلے آدمی تھے۔ یہ خط دینے کے بعد کئی دن وہ غائب رہے۔ پھر رقیہ کو کالج لینے پہنچے۔ وہ ان کی موٹر میں بیٹھ تو گئی مگر سخت نگاہ سے انہیں دیکھتی رہی انہوں نے اپنا ورد جاری رکھا مگر کھل کر بات نہیں کی۔ رقیہ نے ان کے گھر جانے یا ان کے ساتھ سیر کرنے سے انکار کیا۔


انہوں نے رقیہ کے والد سے سب حال بیان کر کے کہا، ’’آپ کی اجازت ہو تو میں رقیہ سے شادی کا پروپوزل کروں۔‘‘


والد نے اجازت دی۔ اماں نے بھی کہا، ’’کیا برا ہے اتنا مالدار ہے۔ اسکول میں روز کی گھس گھس سے تو اچھا ہے اور پھر ایک لاکھ کی جائیداد مہرمیں رکھنے کو بھی کہا ہے۔ میں تو کردوں گی۔ وہ تم سے کہے گا تم انکار نہ کرنا۔‘‘


اب رقیہ بے قرار ہو کر اٹھ بیٹھی اور چیخ کر رونے لگی۔ ہائے وہ اس سے کیوں تن گئی تھی۔ اس سعید کے مارے یہ کیسا اس کے دل میں بیٹھ گیا تھا۔


پھر روتے روتے سو گئی اور نہ معلوم کیسے کیسے خواب دیکھتی رہی۔ بار بار آنکھ کھل جاتی اور وہ کہتی، ’’ایسا محبت دار آدمی۔ اف۔ اف۔ امی سے کیسے کہا گیا تھا کہ اب سے آپ میرے گھر نہ آیے گا۔‘‘ اور پھر نعیم صاحب اس کے گھر نہ آئے تھے۔ کئی مہینے ہوئے تھے۔ ایک، دو، تین، چار، پانچ، چھ، سات مہینے سے وہ نہیں آئے تھے۔ اٹھتے ہوئے اس نے طے کیا کہ وہ خود نعیم صاحب کے یہاں جائے گی۔


وہ کالج کے وقت سے ایک گھنٹہ پیشتر گھر روانہ ہوئی۔ رکشہ پر بیٹھ کر نعیم صاحب کے گھرکی طرف چلی۔ گھر جوں جوں قریب آتا گیا وہ اس کا دل دبدباتا گیا۔ رکشہ گھر سے آگے نکل گئی اور وہ رکوانا بھول گئی۔ پھرا س نے رکشہ والے سے کہا، ’’واپس لے چلو۔‘‘ مگر گھر کے پاس پہنچ کر قریب کی گلی میں مڑوائی کافی دور جا کر پھر کہا، ’’واپس لے چلو۔‘‘ کئی دفعہ ایسا کرنے کے بعد رکشہ والا بولا، ’’کہاں تک چکر کھلایے گا؟‘‘ اس نے جواب دیا، ’’تم کو اپنے کرائے سے مطلب ہے کہ چکر سے۔ میں دن بھر چکر لگواؤں گی۔ تمہارے میٹر سے جو کرایہ بنے لے لینا۔‘‘ رکشہ والا خاموش ہوگیااور چکر لگاتا رہا۔


پانچویں چکر میں نعیم صاحب کے گھر سے چار گھر آگے ایک گھر سے ایک لڑکی نکلتی دکھائی دی۔ جس نے اس کو سلام کیا۔ اس نے رکشا والے سے کہا، ’’یہاں روک دو۔‘‘ لڑکی اس کے پاس آگئی۔ اس نے کرایہ دیا اور لڑکی کی طرف رخ کر لیا۔


’’کیا مس آپ کوئی مکان ڈھونڈ رہی ہیں؟‘‘


’’تم میری شاگرد رہی ہو مجھے یاد آیا۔ کیا نام ہے تمہارا یہ یاد نہیں رہا۔‘‘


’’میں رومانہ کے ساتھ پڑھتی تھی۔ اس کی شادی میں بھی شریک تھی۔ پھر یونیورسٹی میں گئی۔ اب ایم اے فائنل میں ہوں۔ رومانہ کے والد نعیم صاحب مجھے یونیورسٹی پہنچا دیتے ہیں۔ آج دیر ہوگئی۔ قریب ہی تو گھر ہے دیکھنے جارہی ہوں کہ کیا ہوگیا۔ میرا نام فہمیدہ ہے۔ آپ کو یاد نہیں۔‘‘


’’اچھا تم جاؤ۔ مجھے ادھر جانا ہے ‘‘؂


’’آپ نے رکشا تو چھوڑ دی۔ ساتھ چلیے نعیم صاحب کی موٹر میں بیٹھ کر چلی جائیے گا۔ آپ کے کالج کا وقت قریب ہے۔ کیا آج کالج نہیں جائیے گا۔‘‘


رقیہ سٹپٹائی مگر اسکے دل کو اس لڑکی کی وجہ سے ڈھارس ہوئی اور اس کے منہ سے نکل گیا، ’’اچھا چلو۔‘‘


دونوں دس قدم ہی گئی ہوں گی کہ نعیم صاحب موٹر پر آتے دکھائی دیے۔ موٹرروک کر بولے، ’’ارے آج دیر ہوگئی۔ اچھ چلو۔‘‘ اب انہوں نے رقیہ کو بھی دیکھا اور بولے، ’’آپ ادھر کہاں آگئیں، آپ بھی بیٹھ جائیے کالج اتار دوں گا آپ کے۔‘‘


فہمیدہ نعیم صاحب کے پاس بیٹھی اور رقیہ پیچھے بیٹھی۔ اسے اس کے کالج پراتار کر نعیم صاحب چلے گئے۔


جھوٹا، مکار کہتا تھا کہ تمہاری ایسی صورت کی تلاش میں میں تیس پینتیس برس سے تھا اور اب مجھے دیکھا بھی نہیں۔ سات مہینے کے اندر ہی اس صور ت کو جس کو اتنے برسوں سے تلاش تھی بھول گیا۔ یہ جوان بھرے بھرے جسم کی تھرکتی ہوئی فہمیدہ کو دیکھ کر لٹو ہے ساٹھ برس کا مرد اپنی لڑکی کی برابر۔ سب سے چھوٹی لڑکی کی برابر کی لڑکی سے اٹک رہا ہے۔ اور لڑکی بھی پھیلی جارہی ہے۔ ہاں ایک لاکھ کا مہر، موٹر، کوٹھی کون دے گا۔ رقیہ کو خریدنے چلا تھا۔ وہ نہیں بکی تو اب اس سے زیادہ جوان خرید رہا ہے۔ اچھاہوا تھا کہ رقیہ نے اس سے انکار کر دیا تھا۔ اب کبھی اس کی طرف رخ نہ کرے گی۔۔۔


اس سے درجے بھی نہ پڑھائے گئے۔ ہر درجہ کو ٹال ٹال دیا۔ ٹیچر زروم میں آکر سب سے الگ بیٹھی۔ ایک کتاب کھول کر سامنے رکھی اور سر اس پر جھکایا اور سوچتی رہی۔


’’اے آج کیا ہے رقیہ چپ چپ گم صم ہو؟‘‘ کئی ساتھنوں نے پوچھا۔


’’میرے سر میں درد ہے۔ شاید بخار آنے والا ہے۔‘‘ اس نے سب کو ٹال ٹال دیا۔


چھٹی کے وقت جب وہ کالج سے باہر آئی تو دیکھا نعیم صاحب موٹر لیے کھڑے ہیں۔ وہ موٹر کی طرف پیٹھ پھیر کر آگے بڑھ رہی تھی تووہ لپکتے ہوئے پاس آئے اور بولے، ’’رقیہ میں تمہیں گھر پہنچانے آیا ہوں چلو میرے ساتھ موٹر میں۔‘‘


وہ ہچکچائی مگر ساتھ ہولی۔


موٹر بڑھاتے ہوئے نعیم صاحب بولے، ’’آج کیا تھا جو تمہیں یاد ہماری آئی؟‘‘


رقیہ خاموش رہی۔


’’آج تم میرے پاس آئیں تھیں مگرمیرے گھر میں آنے کی ہمت نہ پڑی۔ میں نے دیکھا کہ کئی بار تمہاری رکشہ میرے گھر کے سامنے سے گزری میں نے تیس برس مجسٹریٹی کی ہے۔ ہزاروں قسم کے لوگ دیکھے ہیں۔ میں انتظار کرتا رہا کہ تم شاید اترکر آؤ۔ اسی میں فہمیدہ کے پاس پہنچنے میں دیر ہوگئی۔ اب تمہیں کیا کہنا ہے بتاؤ۔‘‘


’’آپ نے یہ سب فرض کر لیا ہے۔ سب غلط۔ سات مہینے ہوئے ہیں آپ سے پرجھاڑ کر الگ ہوگئی تھی۔ مجھے آپ سے ملنے کا کوئی شوق نہیں آپ ہی میرے پیچھے دوڑے آئے۔‘‘


’’خیر یہ سب جانے دو۔ تم کو دیکھ کر مجھے محسوس ہوا تھا کہ وہ صورت جو میرے ذہن میں تیس برس سے تھی سامنے آگئی جب تم سے باربار ملا تو یہ بھی محسوس ہوتا رہا کہ تم اس کے مقابلہ میں بالکل بے جان اور بے حس ہو۔ وہ کھلی ہوئی تھی تم مرجھائی ہوئی۔ صورت تو ضرور ہے اسی کی سی مگر اس کا بھوت اور پھر جب تم نے انکار کردیا تو میرا دھیان اس سے مشابہت سے زیادہ تمہارے سوکھے پن تمہاری بے حسی پر جانے لگا۔ فہمیدہ کے ماں باپ نہیں ہیں۔ چچا کے یہاں پل رہی ہے۔ رومانہ کی شادی کے بعد سے برابر میری دلجوئی میں لگی ہے۔ اس کے چچا چچی اور چچا زاد بھائی بہن اس سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں۔ وہ ایم اے پر یویس کر چکی تھی۔ میں بھی کہتا ہوں ایم اے کر لے دو مہینے اور ہیں۔ کسی دن بھی ہم دنوں نکا ح کر لیں گے۔


’’جب یہ سب ہے تو پھر آپ کیوں میرے پیچھے لگنے کو آتے۔۔۔ اور اور میرے گھر کی سڑک تو پیچھے رہ گئی یہ آپ مجھے کہاں لے جارہے ہیں۔‘‘


’’ابھی میری بات ختم نہیں ہوئی۔ اگر تم کہو تو اپنے گھر چلوں اور بات پوری کرلوں۔‘‘


’’نہیں نہیں آپ مجھے یہیں اتار دیجئے میں گھر چلی جاؤں گی اور اب کبھی میری طرف رخ نہ کیجئے گا۔ فہمیدہ میں مگن رہیے۔‘‘


’’خیر میں تمہیں تمہارے گھر پہنچائے دیتا ہوں۔ بات صرف یہ کہنا ہے کہ میں نے تمہارے رخ میں صاف تبدیلی دیکھی۔ اور مجھے پھر وہی صورت یاد آگئی۔ جس کا تم ہلکا سا چربہ ہو۔ فہمیدہ کو اتارکرمیں گھر جاتا مگر لاشعوری طور پر تمہارے کالج پہنچ گیا۔ آگے کچھ نہیں۔ اب بہت دیر ہوگئی۔ یو ہیو کم ٹو لیٹ۔ ٹولیٹ، ٹولیٹ۔‘‘


نعیم صاحب نے اسے اس کے گھر پر اتارتے وقت کہا، ’’بہت دیر ہوگئی‘‘ اور موٹر لیے ہوئے چلے گئے۔


رقیہ گھر میں داخل ہوئی تو کچھ غصہ کے عالم میں تھی۔ اپنے کمرے میں جا کر کپڑے اتارے نچنت ہو کر والدہ اور والد کے ساتھ چائے پینے آئی۔ بات بات میں وہ نمایاں طور پر گم ہو جاتی۔ ماں نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دیکھا۔ نبض دیکھی اور کہا، ’’کوئی ایسی بات نہیں ہے۔ آج شاید کام بہت تھا تھک گئی ہو۔‘‘


’’جی ہاں تھک گئی ہوں اب جا کر لیٹوں گی۔‘‘


بہت دیر ہوگئی، بہت دیر ہو گئی۔ آخر وہ کس خواب خرگوش میں تھی؟ نسیمہ نے دھوکے میں رکھا۔ نہیں وہ خود دھوکے میں تھی۔ سعید نے بس ایک دفعہ الگ لے جاکر کہا تھا، ’’تم آج بہت جچ رہی ہو‘‘ آج۔ آج اور وہ اس آج کو دوام سمجھ گئی۔ آٹھ برس تک انتظار۔ خواہ مخواہ وہ آیا تو یہ کہتا ہوا، ’’ارے تمہارے چہرہ پر یہ داغ کیسے ہیں۔‘‘ جیسے وہ کوئی جانور تھی۔ جس کو خریدنے سے انکار کرتے ہوئے وہ کہہ رہا تھا۔ کیا وہ نسیمہ کے پاس جائے۔ اور اس سے پوچھے؟ کیا پوچھے؟ وہ اور بھی ہنسے گی۔ شاید یہ تاڑ کر کہ بھائی سعید پر ریجھی ہیں کبھی اس نے کوئی بات کرلی ہوگی یہ سمجھ گئیں کہ مر رہا ہے۔ ’’ذرا اپنی اوقات میں رہیں، ذرا اپنا منہ آئینہ میں دیکھیں۔ اور اب تو سوکھ کر امچور ہو گئی ہیں۔ کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ یہی کہتی ہوگی سب سے اور بھائی کے آنے پر رقیہ کو بلایا پارٹی میں کہ وہ اپنے خوابوں کی تعبیر دیکھ لے۔ اچھا اس نے یہ ٹرک کیا اور اس کا میاں ضمیر اسے کہتا سنا گیا، ’’بالکل معمولی بلکہ معمولی سے بھی گری ہوئی اور بنو اب اس کے آٹھ بچے ہو گئے۔‘‘ کیا کہنے لگی۔ تم نے نعیم صاحب سے انکار کر دیا۔ غضب کیا۔ اب تمہیں کون پوچھے گا۔ اچھا تھا کہ ماں باپ نے ہائی اسکول کے بعد ہی میری شادی کر دی تھی۔ میں نے چار بچے ہونے کے بعد انٹر جوائن کیا۔ تمہارے ساتھ جب ایم اے میں آئی تو چھ بچے ہو چکے تھے۔ اب بوڑھی ہوگئی۔ میرے ساتھ کہ نہ معلوم کتنی بیٹھی ہیں، ’’بہت دیر ہوجائے تو کوئی پوچھتا نہیں۔‘‘، ’’ہاں نعیم صاحب کے سامنے آنے پر بھی بہت دیر ہو چکی تھی۔ وہ قسمت سے ملے تھے۔ آخران میں کیا کمی تھی؟ جائیداد، موٹر، ملازم ہر قسم کا آرام، ایسے لوگ جن کو مل جائیں ان کو قسمت والی کہتے ہیں۔ ہاں صرف سن آگیا ہے۔ ساٹھ کے قریب۔ مگر اس سے کیا ہوتا ہے۔ تاجور کی شادی ساٹھ برس والے سے ہوئی اور وہ اب تک زندہ ہے۔ اب تو دونوں ہم سن معلوم ہوتے ہیں۔ جمیلہ کا میاں اس سے سال بھر چھوٹا تھا۔ مگر دو سال ہی میں مر گیا۔ اب بیوہ بیٹھی ہے ایک لڑکا لیے ہوئے۔ محض وہم ہے سن کے فرق سے کچھ نہیں ہوتا۔ ہاں حیثیت، مال، آرام سب کچھ ہے۔‘‘ فہمیدہ اس سے دس برس چھوٹی ضرور ہوگی۔ مگر اسے نعیم صاحب سے کوئی انکار نہیں۔ اسے تو کوئی برابر کا مل سکتا ہے اگر ذرا انتظار کرلے۔ مگر کیوں انتظار کرے۔ خطرہ مول لے۔ پھر محسوس ہو بڑی دیر ہوگئی۔ مگر اب وہ کیا کرے نعیم صاحب بھی ہاتھ سے نکل گئے، صاف صاف کہہ گئے۔ ٹولیٹ، ٹولیٹ۔ یہی کہے گی کہ مجھے گھریلو زندگی اچھی نہیں لگتی۔ لومڑی کو انگور نہیں ملے تو کھٹے ہیں۔ نو کہنے لگے گی۔ آخر اس کے بابت بات کرنا ہی کیا فرض ہے۔ شادی کی بات ہی نہ کرو۔ کوئی بات کرے تو ٹال دو۔ جب پڑھتی تھی تو اس نے افسانے لکھے تھے۔ اب پھر لکھنے گلے۔ دل بہل جائے گا۔ ہاں کئی ایک ناول لکھے۔ فرزانہ نے اب تک دس ناولیں لکھ ڈالیں۔ وہ بھی یہی کرے۔ پڑھانے میں جی نہیں لگتا۔ ناولوں سے بڑی آمدنی ہوگی۔ موٹر، بنگلہ، سب ہی ہو جائے گا۔ نعیم کے پاس کیا ہے یہی تو ہے اور جب مشہور ہو جائے گی تو بہت سے لڑکے آیا کریں گے۔ کتاب پر تصویر دیکھ کر نہ معلوم کتنے لوگ خط لکھیں گے۔ تصویر میں یہ چہرہ کے داغ بھی نہیں آئیں گے۔ اور اس رخ سے بیٹھ کر تصویر کھنچوائے گی کہ یہ گڑھے نظر نہ آئیں۔ اور ہاں مس خاتون نے اپنے بابت لکھا۔ میں نے پہلا ناول چودہ برس کے سن پر لکھا۔ ایم اے کے بعد لکھا۔ یعنی تیرہ برس کی تھی۔ جب ایم اے پاس کیا۔ خوب چھ برس کے سن میں ہائی اسکول کیا۔ یہ نہ کہو کہ ہائی اسکول کا سرٹیفکیٹ منہ میں تھا جب پیدا ہوئیں مگر یہ سب حساب کون لگاتا ہے۔ وہ بھی مشہور کرادے گی کہ بیس برس کی ہے جوان جوان لڑکے ٹوٹ ٹوٹ کر گریں گے۔ کوئی نہ کوئی پرپوز ضرور کرے گا۔ چھوٹے سے شادی کر لی۔ لونڈا پھانس لیا۔ کیا ہے؟ شاہدہ نے نہیں کر لیا ہے۔ لوگ تو ہر چیز پر اعتراض کرنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہاں مرد کو جب شوق چراتا ہے تو کچھ بھی نہیں دیکھتا۔ بیل کی طرح منہ اٹھائے ہوئے دوڑنے لگتا ہے۔ کوئی دوڑتا آئے گا۔ ضرور آئے گا۔ اب کے جو آئے گا اسے نہ جانے دے گی۔ ضرور پھانس لے گی۔ مگر آئے گا بھی۔ ان جوانوں کا ٹھیکہ نہیں۔ دوڑتے ہیں اور پھر بھاگ لیتے ہیں۔ دیر ہوگئی، کیا سچ مچ دیر ہو گئی۔۔۔؟