افسانہ

فالودہ

آپ نے اسد محمد خان کی ٹکڑوں میں کہی کہانی تو ضرور پڑھی ہوگی، مگر میں جو آپ کو سنانے جارہا ہوں، وہ ٹکڑوں میں سنی ہوئی کہانی ہے۔ ہوا یوں کہ گزشتہ چار پانچ سالوں سے معمول کے سفر پر جانے کے لیے میں گھر سے نکلتے ہوئے ایک کہانی کا تانا بانا بن چکا تھا۔ اچھوتا موضوع تھا ، دو ڈھائی گھنٹے ...

مزید پڑھیے

کچرا کنڈی

پھٹے ہوے مڑے تڑے بدرنگ کاغذ، سبزیوں اور پھلوں کے چھلکے، پکی ہوئی چائے کی پتی، چّسی ہوئی ہڈیاں، ڈبل روٹی کے ٹکڑے اور سالنوں کا ڈھیر، جس میں سے اب سڑاند آنے لگی تھی، اور شاید سڑاند تو اب پورے کچرے کے ڈھیر سے آرہی تھی۔ مجھے اس کا اندازہ اس وقت ہوا جب کچھ دیر پہلے کچرے کے اس ڈھیر کے ...

مزید پڑھیے

گونگے بول

جھاڑیوں سے جھانکتے ہوے میں نے اپنے بھوک سے بلکتے بچے کو خود سے قریب کرلیا۔ وہ میرے ساتھ چپک کر چاروں طرف نظریں دوڑانے لگا۔ دوسروں کے بچوں کی طرح اسے میرے دودھ سے زیادہ رغبت نہیں۔ جو کچھ میں کھاتی ہوں یہ بھی وہی کھانا پسند کرتا ہے ۔گو کہ میں اسی سامنے والی عمارت میں رہتی ہوں، لیکن ...

مزید پڑھیے

نادیدہ

صبا نے جوں ہی ہونٹوں کو ہلتے ہوے دیکھا، وہ ڈاکٹر کو بلوانے کے لیے دوڑی۔ ماں کے ہونٹوں کی جنبش سے سمجھی کہ وہ ہوش میں آرہی ہیں۔ وہ ایسا کئی بار سمجھ چکی تھی۔ مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ امی کسی سے باتیں کررہی ہیں۔ وہ یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ سیاہ تارکول والی سپرہائی وے سے کئی سو گز دور ...

مزید پڑھیے

بند گلی کا آخری مکان

پھولوں پر منڈلانے والی خوش رنگ تتلی جانتی ہے کہ بند گلی کے آخری مکان میں دو دن سے سناٹا کیوں چھایا ہوا ہے۔ حتیٰ کہ نفیس اور متین بوڑھے استاد عبدالمجید کی آواز بھی سنائی نہیں دی، جو وہاں اکیلے رہتے ہیں ،اور جن کے پاس بہت سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں آبشار سے گرتے پانی کی بکھری ...

مزید پڑھیے

الٹی کھوپڑی کا آدمی

اظہارِ رائے کی آزادی اور فیصلہ کرنے کے اختیار کے بغیر اسے اپنے کاروباری دوست اور دیگر چھ افراد کے ہمراہ ایک کمرا دے دیا گیا جس کی کھڑکی سے سیاہ پتھریلے پہاڑ کو ہاتھ بڑھا کر چھوا جاسکتا تھا۔ کمرے میں فوم کے گدے اور پولیسٹر کی رضائی والے آٹھ درمیانے سائز کے لوہے کے پلنگ تھوڑے ...

مزید پڑھیے

آدم اور خدا

اس نے پوری طرح آنکھیں نہیں کھولی تھیں، اور نہ ہی اس کے دماغ نے پوری توانائی سے کام شروع کیا تھا، مگر نامانوس اور غیر محسوس طریقے سے اس نے یہ جان لیا کہ وہ کسی نئی جگہ پر قید کردیا گیا ہے۔ ٹیلے سے واپسی پر وہ جان چکاتھا کہ اسے ریاست کا قانون توڑنے والوں میں شامل کردیا گیا ہے۔ اسے ...

مزید پڑھیے

ایک گاؤں کی بیٹی

فضل دین سارے گاؤں میں اکیلا ہی لوہار اور دھار لگانے والا تھا۔ درمیانے قد کا ادھیڑ عمر فضل دین گاؤں کی کچی سڑک کے کنارے بنائی ہوئی چھپروں والی دوکان میں صبح سے شام تک کام کرتا رہتا۔ رات جب تھک ہار کر گھر آتا تو چارپائی پر ڈھیر ہوجاتا۔ اس کی کوئی سماجی زندگی نہیں تھی۔ دنیا میں کیا ...

مزید پڑھیے

کائنات

وہ جب سوئے تو تین تھے، مگر جاگے تو انہوں نے تیسرے کو نہ پایا۔ اس کے رنگوں کا تھیلا اور لکڑی کے تراشیدہ برش بھی دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ اس کی چادر بھی غائب تھی، جسے وہ ہمیشہ اوڑھے رکھتا تھا۔ یہ دونوں اپنی اپنی فطرت میں مختلف تھے۔ جیسے خیر و شر۔ تیسرا جو غائب ہوا، ایک مصور تھا جسے ...

مزید پڑھیے

نوشتۂ پسِ دیوار و در

(انسان کی بے اختیاری) جوں ہی فیصل نے کہا ’اے خدا! میں ٹھیک دس بجے خود کشی کرنے والا ہوں، اگر تو مجھے رو ک سکتا ہے تو روک لے، واقعات کا ایک دراز سلسلہ شروع ہوگیا۔ یکایک دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔ اس نے پر یقین لہجے میں خود سے کہا۔ ’’دروازہ نہیں کھولوں گا‘‘۔ اورپھر رسی کا پھندا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 118 سے 233