افسانہ

جھکی جھکی آنکھیں

عذرا ان عورتوں میں سے ہے جن سے وصال میں بھی تکمیل حصول کی آرزو میں بے ساختہ آہ نکل جاتی ہے۔ جو دل خراش حقائق سے دور کسی رنگین دنیا میں رہتی ہیں۔ یوں تو ہر عورت کی دنیا حقائق سے بے نیاز ہے مگر عذرا میں یہ خصوصیات نمایاں ہے۔ عذرا کو بار بار دیکھ کر بھی نہیں کہہ سکتا کہ وہ کس لحاظ سے ...

مزید پڑھیے

کھل بندھنا

مندر کے احاطے سے گزرتے ہوئے سیوا کارن، بانورے کو بڑ کے درخت تلے دیکھ کر رک گئی۔ بولی، ’’ارے تجھے کیا ہوا جو یوں ہانپ رہا ہے تو؟‘‘ بانورے نے ماتھے سے پسینہ پونچھا۔ بولا، ’’سیوا کارن سامان اٹھاتے اٹھاتے ہار گیا۔‘‘ ’’کیسا سامان رے؟‘‘ سیوا کارن نے پوچھا۔ ’’اب پورن ماشی ...

مزید پڑھیے

ماسٹر صاحب

ماسٹر صاحب کی نوکری سے ریٹائرمنٹ میں ابھی کافی سال باقی تھے مگر وہ سنجیدگی سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے کی سوچ رہے تھے۔ اپنی بیٹی فائزہ کی شادی کے لیے انھیں پیسوں کی اشد ضرورت پڑ گئی تھی اور آخری امید ریٹائرمنٹ پر ملنے والی رقم ہی تھی۔ فنون لطیفہ کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے ...

مزید پڑھیے

ماں کہاں رہے گی؟

نامساعد حالات کے باوجود علیم اور سلیم آج اس قابل ہوگئے تھے کہ اب ایک پرسکون اور آرام دہ زندگی گزار سکیں۔ ان کی اس کامیابی کا وسیلہ الله تعالیٰ نے ان کی ماں کو بنایا تھا جس نے انتہائی برے حالات کے باوجود خود تن تنہا محنت کر کے نہ صرف ان کی پرورش کی تھی بلکہ انھیں پڑھایا لکھایا بھی ...

مزید پڑھیے

گھر تک

’’لنگا‘‘ ’’سوامی‘‘ ہم راستہ بھول گیے ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے، ہمارا گاؤں یہاں سے قریب ہی ہے۔ ’’ادھر دیکھیے سوامی۔ سفید لکیر دکھائی دے رہی ہے نا، وہی ہوگی سڑک۔ نہیں وہ تو پانی بہہ رہا ہے۔ ایک چھوٹا سا نالا۔‘‘ ’’ادھر آ، اس ٹیلے پر چڑھ کر دیکھیں۔ شاید کچھ پتہ چلے۔‘‘ ہم ...

مزید پڑھیے

نیا مکان

انسان کو خدا اسی وقت یاد آتا ہے جب اس پر کوئی آفت نازل ہوتی ہے۔ ایوب خاں تعلقہ دار کے پیر اسے کئی برس سے سمجھا رہے تھے، لیکن اس نے اپنی زندگی کاڈھنگ بدلنے کاارادہ اسی وقت کیا جب اس کی جوان لڑکی اور دس برس کا لڑکا ایک ہی ہفتے کے اندر انتقال کرگیے اور اسے اپنی ڈاڑھی میں سفید بال ...

مزید پڑھیے

خاں صاحب

ہمارے محلے میں ایک خاں صاحب رہتے تھے۔ میں نے جب انہیں پہلی مرتبہ دیکھا تو ان کی عمر قریب پینتالیس سال کے تھی، مگر روایات سے معلوم ہوا کہ ان کے بال ہمیشہ سے ایسے ہی سیاہ و سپید کی آمیزش رہےہیں۔ آنکھیں ایسی ہی خونی، مزاج ترش اور ٹوپی میلی، بواسیر کی شکایت بھی ان کی ہستی سے وابستہ ...

مزید پڑھیے

برباد

سردیوں کی تنہا رات تھی۔ آج تو چاند بھی لگتا تھا تھک کر سو گیا تھا۔برف کا عکس آسمان پر پڑ رہا تھا اسی لیے حدنظر تک سفیدی نظر آرہی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے زمین نے بیوگی کی سفید چادر اوڑھ لی تھی۔رشنا نایاب آتشدان میں جلتی لکڑیوں کو خالی خالی نظروں سے تک رہی تھی،لکڑیاں جل جل کر سرخ ...

مزید پڑھیے

نرتکی

اس نے آئینے میں تیار ہوکر اپنا جائزہ لیا، وہ اپنا عکس آئینے میں دیکھ کر ٹھٹھک گیا، بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے بہہ چکا تھا، یہ عکس تو اجنبی تھا، یہ تو وہ مہر نیاز خان نہیں تھا،جس کی وجاہت کا ہر طرف شہرہ تھا ۔یہ چہرہ جھریوں زدہ ،تو کسی اور کا تھا، اس نے اپنے چہرے پر بے تابی سے ہاتھ ...

مزید پڑھیے

خوشۂ امید کا سفر

فیکے ! فیکے ! کتے،سور! تجھے سونے کے لیے میں نے رکھا ہے۔ ٹھیکیدار غصے سے پاگل ہورہا تھا،اس کے منہ سے کف نکل رہی تھی ۔پورے بھٹے کے مزدور ہراساں تھے،مزدور عورتوں نے ایک دوسرے سے اشاروں سے پوچھا کہ بچے کی ماں کہاں ہے؟۔ دور مٹی گوندھتی مگن رحیماں کو اللہ وسائی نے پکارا۔ نی رحیماں ! ...

مزید پڑھیے
صفحہ 109 سے 233