افسانہ

روغنی پتلے

شہر کا الیٹ شاپنگ سنٹر۔۔۔ جس کی دیواریں، شلف، الماریاں بلور کی بنی ہوئی ہیں۔ جس کا بنا سجا فیکیڈ جلتے بجھتے رنگ دار سائز سے مزین ہے۔ جس کے کاؤنٹرز مختلف رنگوں کے گلو کلرز پینٹس کی دھاریوں سے سجے ہوئے ہیں اور شلف دیدہ زیب سامان سے لدے ہیں جس کے کاؤنٹروں پر سمارٹ متبسم لڑکیاں اور ...

مزید پڑھیے

بیگانگی

رشید نے اٹھ کر آنکھیں کھولیں۔ دو ایک انگڑائیاں لیں اور کھوئے ہوئے انداز میں سیڑھیوں کے قریب جا بیٹھا۔ اس نے کوٹھے پر ایک سرسری نگاہ ڈالی۔ تمام چارپائیاں خالی پڑی تھیں۔ سب لوگ نیچے جا چکے تھے۔ جہاں تک نگاہ کام کرتی تھی، سامنے اونچے اونچے مکانوں کا انبار دکھائی دیتا تھا۔ اس کے ...

مزید پڑھیے

چپ

’’چپ!‘‘ جیناں نے چچی کی نظر بچا، ماتھے پر پیاری تیوری چڑھا کر قاسم کو گھورا اور پھر نشے کی شلوار کے اٹھائے ہوئے پائنچے کو مسکرا کر نیچے کھینچ لیا اور از سر نو چچی سے باتوں میں مصروف ہو گئی۔ قاسم چونک کر شرمندہ سا ہو گیا اور پھر معصومانہ انداز سے چارپائی پر پڑے ہوئے رومال پر ...

مزید پڑھیے

سندرتا کا راکشس

شام دبے پاؤں رینگ رہی تھی۔ ٹیلے پر درختوں کے سائے پھیلتے جا رہے تھے لیکن چوٹی کی جھولی سورج کی تھکی ماندی کرنوں سے ابھی تک بھری ہوئی تھی۔ سوامی جی کی کٹیا کا دروازہ صبح سے بند تھا۔ بالکا اور داس دونوں درختوں کی چھاؤں تلے بیٹھے اپنے اپنے کام میں مصروف تھے۔ ہر چند ساعت بعد وہ سر ...

مزید پڑھیے

سمے کا بندھن

آپی کہا کرتی تھی، سنہرے، سمے سمے کی بات ہوتی ہے۔ ہر سمے کا اپنا رنگ ہوتا ہے، اپنا اثر ہوتا ہے۔ اپنے سمے پہچان، سنہرے۔ اپنے سمے سے باہر نہ نکل۔ جو نکلی تو بھٹک جائے گی۔ اب سمجھ میں آئی آپی کی بات۔ جب سمجھ لیتی تو رستے سے نہ بھٹکتی۔ آلنے سے نہ گرتی، سمجھ تو گئی۔ پر کتنی قیمت ...

مزید پڑھیے

پرانی شراب نئی بوتل

بائی کی آواز سن کر نمی نے آنکھیں کھول دیں۔ سامنے ہاتھ میں سیٹو تھو سکوب لٹکائے اس کی سہیلی صفو کھڑی تھی۔ ’’ہائیں اس وقت بستر میں۔‘‘ صفو نے پوچھا۔ ’’بسٹ لیزنگ۔ ان بیڈ۔‘‘ ’’میں تو تجھے لینے آئی ہوں۔‘‘ ’’کہاں؟‘‘ ’’پکچر پر۔‘‘ ’’کیوں؟‘‘ ’’بڑی چارمنگ پکچر لگی ...

مزید پڑھیے

وقار محل کا سایہ

وقار محل کی چھتیں گر چکی ہیں لیکن دیواریں جوں کی توں کھڑی ہیں۔ جنہیں توڑنے کے لیے بیسیوں جوان مزدور کئی ایک سال سے کدال چلانے میں مصروف ہیں۔ وقار محل نیو کالونی کے مرکز میں واقع ہے۔ نیو کالونی کے کسی حصے سے دیکھئے، کھڑکی سے سر نکالیے، روشن دان سے جھانکئے، ٹیرس سے نظر دوڑائیے، ہر ...

مزید پڑھیے

نفرت

عجیب واقعات تو دنیا میں ہوتے ہی رہتے ہیں مگر ایک معمولی سا واقعہ نازلی کی طبیعت کو یک لخت قطعی طور پر بدل دے، یہ میرے لیے بے حد حیران کن بات ہے۔ اس کی یہ تبدیلی میرے لیے معمہ ہے۔ چونکہ اس واقعہ سے پہلے مجھے یقین تھا کہ اس کی طبیعت کو بدلنا قطعی ناممکن ہے۔ اس لیے اب میں یہ محسوس کر ...

مزید پڑھیے

آدھے چہرے

’’میں سمجھتا ہوں کہ آج کی دنیا میں سب سے اہم مسئلہ ایموشنل سٹریس اور سٹرین کا ہے۔‘‘ اسلم نے کہا، ’’اگر ہم ایموشنل سٹریس کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو بہت سی کمپلی کیشنز سے نجات مل سکتی ہے۔‘‘ ’’آپ کا مطلب ہے ٹرانکولائزر قسم کی چیز۔‘‘ رشید نے پوچھا۔ ’’نہیں ...

مزید پڑھیے

دو مونہی

سوچتی ہوں کہ میں تیاگ کلینک میں گئی ہی کیوں؟ کیا فائدہ ہوا بھلا؟ اپنی بیماری دور کرانے کے لیے گئی تھی، ساری مخلوق کو بیمار کر کے آ گئی۔ وہی بات ہوئی نا۔ بڑھیا بڑھیا تیرا کبڑ دور ہو جائے یا ساری دنیا کبڑی ہو جائے۔ لیکن تیاگ بیتی سنانے سے پہلے میں اپنا تعارف تو کرا لوں۔ میں سانوری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 108 سے 233