افسانہ

بھٹیارن کا عشق

آج آفس میں دن ہی کچھ عجیب تھا ،سب کام میری توقعات کے خلاف ہوئے تھے ،میرا پارہ آسمان کو چھو رہا تھا ، میری زبان کی دھار سے سب آفس اسٹنٹ گھبرائے پھر رہے تھے ،سب سے آخر میں میرا نزلہ عابدی صاحب پر گرا ،جو پچھلے بیس سال سے ہماری فرم میں ملازم تھے ،انھوں نے بیٹی کی شادی کے لئے آفس سے ...

مزید پڑھیے

کوہ ندا کی پکار

میں اپنی جاب ختم کر کے نکلی، کیلگری کی سردی عروج پر تھی، میں نے ایک سرد آہ بھری ،پردیس کو دیس بناتے بناتے ہاتھ شل ہوچکے تھے،آنکھوں میں کئی ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیاں تھیں، میں نے آہ بھر کر سوچا : کیا میرے بچے اس قیمت کا اندازہ لگا سکیں گے جو ہم نے پردیس کو دیس بنانے کے لئے ادا کی ...

مزید پڑھیے

پگلی

پاک محلہ کوئی عام محلہ تھوڑی تھا ،پاکیزہ اور حسبی نسبی لوگوں کی رہائش گاہ تھا ،سارے محلہ میں ایک سے بڑھ کر ایک شاندار گھر تھا، بیشتر گھروں پر خیرو برکت کے لیے قرآنی آیات لکھی نظر آتیں، محلے کی ایک نکڑ پر سبز گنبدوں اور اونچے میناروں والی مسجد واقع تھی ،جس میں سے پانچ وقت اذان کی ...

مزید پڑھیے

برسو رام دھڑاکے سے

پچھلے دنوں ہندوستان میں میرے مختصر سے قیام کے دوران اچانک ٹھنڈی رام سے ملاقات ہوئی۔ برسوں بعد غیر متوقع جب وہ مجھے ملا تو میں اس سے لپٹ گیا۔ اس نے بھی مجھے بھینچ لیا، بڑی دیر تک ہم ایک دوسرے سے گتھے رہے، ویسے اگر آپ اس وقت ہم دونوں کو دیکھتے تو یہی کہتے کہ یہ بھرت ملاپ چند لمحوں ...

مزید پڑھیے

ناستک

سوامی جی کے چہرے سے جلال ٹپک رہا تھا۔ ان کی شانت لیکن تیز نظریں، سامنے بیٹھے ہوئے شخص کے وجود کو چیرتے ہوئے، دور افق پار تک پہنچ جاتی تھیں اور نہ معلوم ماضی و حال کی کتنی صدیوں کا احاطہ کرنے کے بعد لوٹتی تھیں۔ اسی لیے کسی پر ایک نظر ڈالنے کے بعد وہ آنکھیں موند لیتے تھے اور کچھ ...

مزید پڑھیے

تعبیر

یوں تو شام جب ہوتی ہے، اکیلے دھرم پور میں نہیں ہوتی اور چوپال بھی ایک دھرم پور ہی میں نہیں ، لیکن شام کے وقت دھرم پور کی چوپال پر جمع لوگوں کے چہروں سے ٹپکتی بشاست اور آنکھوں سے چھلکتا سکون، صاف کہہ دیتا ہے کہ چاہے یہ لوگ منہ سے نہ کہیں ، اندر ہی اندر سب یہی سمجھتے ہیں کہ روز دوپہر ...

مزید پڑھیے

نجات

اُس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اِس گاؤں کو چھوڑ دے گا۔ کسی اور گاؤں کی طرف ہجرت کرے گا تاکہ عمر کے اِن آخری دِنوں میں ہی سہی اُسے اُس سوال کا جواب مل جائے جِس کی تلاش اس کے لیے زندگی سے عبارت ہو کر رہ گئی تھی! اس کے لیے یہ گاؤں پرایا نہیں تھا اور نہ ہی یہاں کے لوگ اب اس کے لیے اجنبی تھے۔ ...

مزید پڑھیے

رِنگ ماسٹر

اس کے بدن پر لرزہ طاری تھا۔ اس کی کپکپاہٹ اور تھر تھراہٹ کمرے کی فضا میں بھی ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جب سے اس پر لرزہ طاری تھا کمرے کی ہوا سائیں سائیں کر رہی تھی۔ اس کی نظر بھی کانپ رہی تھی اور اسی لیے اسے پورا کمرہ لڑکھڑاتا ہوا معلوم ہو رہا تھا۔ اس کے علاوہ ایک ...

مزید پڑھیے

گیت گھاٹ اور گرجا گھر

اس نے سب سے سن رکھا تھا کہ وہ بڑی خوبصورت ہے ۔ اس کی خوبصورتی بے مثال ہے۔ پوری بستی میں اُس کے حسن کا جواب نہیں ۔ لیکن وہ سمجھ نہیں پاتی تھی کہ سب کہہ کیا رہے ہیں ۔ وہ سوچتی تھی میں حسین کو کیونکر ہو گئی؟ اور بھی تو لڑکیاں ہیں ۔ ان کے بھی تو سب کچھ ویسا ہی ہے۔ جیسے ...

مزید پڑھیے

بھول بھلیاں

گلی میں کھیل رہے بچوں کے شور اور از خود ورق الٹنے والے البم کی موسیقی نے آپس میں مل کر بابو کھوجی رام پر ایک عجیب کیفیت طاری کر دی تھی۔ ان کی بوڑھی آنکھوں میں یادوں کے جگنو چمک رہے تھے۔ ان جگنوؤں کی جلتی بجھتی روشنی میں وہ ٹھہر ٹھہر کر ،ماضی کے اندھیرے میں ٹٹولتے ہوئے کافی دور تک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 110 سے 233