شب کا سناٹا ڈراتا ہے مجھے
شب کا سناٹا ڈراتا ہے مجھے
خواب میں آ کر جگاتا ہے مجھے
وہ مجھے شاید نہیں پہچانتا
میرا ہی قصہ سناتا ہے مجھے
چلچلاتی دھوپ میں جلتا رہا
دن ڈھلے سایہ بلاتا ہے مجھے
بھول جاؤں کس طرح میں دوستو
بیتا موسم یاد آتا ہے مجھے
جو ازل سے تھا مرے قدموں تلے
اب وہ ذرہ آزماتا ہے مجھے
نام سے محفل سجاتا تھا جو کل
بزم سے اپنی اٹھاتا ہے مجھے
آپ کیا جانیں بھلا منصورؔ جی
کون سا غم کھائے جاتا ہے مجھے