منصور عمر کے تمام مواد

13 غزل (Ghazal)

    خدایا ذرا ان پہ احسان کر دے

    خدایا ذرا ان پہ احسان کر دے جو ہیں آدمی ان کو انسان کر دے رہیں یاد کے وہ گھروندے سلامت مگر دل کے آنگن کو ویران کر دے کبھی اپنے ہی روبرو جب کھڑا ہو تو آئینہ اس کو بھی حیران کر دے زمیں تا فلک ہو مرا نام روشن کچھ ایسا ہی جینے کا سامان کر دے بہت ناز ہے جن کو اپنی انا پر کبھی میرے گھر ...

    مزید پڑھیے

    کون ہے تنہا اکیلا میں کہ تو

    کون ہے تنہا اکیلا میں کہ تو اور سارے جگ میں رسوا میں کہ تو پھیرنے والا سیاہی چاند پر اور پھر باہر سے اجلا میں کہ تو یہ جہاں تیری عطا مانا مگر کون ہے دل دادہ اس کا میں کہ تو موت کی چاہت میں دیوانہ ہے کون زندگی کو کرکے رسوا میں کہ تو بن کے طوفاں ساحلوں کے درمیاں پھر رہا تھا دریا ...

    مزید پڑھیے

    پھیلا کے خود کو دیکھ ذرا اشتہار دے

    پھیلا کے خود کو دیکھ ذرا اشتہار دے جب تک نہ در کھلے تو صدا بار بار دے آنگن میں آفتاب اتارے گا پھر کبھی پہلے ہمارے گھر میں اک آنگن اتار دے مسجد سے لاالہ کی صدا آئے بار بار گنبد کے ساتھ ہی کوئی اونچا منار دے درد انا کی خاک میں لپٹے ہوئے ہیں لوگ آنکھوں کو آئنہ دے نظر کو حصار ...

    مزید پڑھیے

    آیا تھا ساتھ لے کے میں سوغات خیر و شر

    آیا تھا ساتھ لے کے میں سوغات خیر و شر پیچھے لگی رہیں مگر آیات خیر و شر جھوٹی انا کے زعم میں گھر سے نکل پڑا اے کاش بھول جاؤں وہ لمحات خیر و شر بچوں کو درس دینے کا نسخہ بدل گیا دیتے ہیں مولوی نہ ہدایات خیر و شر سمتوں کا کچھ خیال نہ اوقات ہی کا علم اللہ رے جستجوئے مقامات خیر و ...

    مزید پڑھیے

    وقت کے آذر بتا یہ سانحہ کیونکر ہوا

    وقت کے آذر بتا یہ سانحہ کیونکر ہوا ہم نے جس کو خود بنایا وہ خدا کیونکر ہوا شور ہے ہر سمت اور اک بھیڑ ہے چاروں طرف پوچھتے ہو پھر بھی وہ ہم سے جدا کیونکر ہوا کرتا تھا دعویٰ خدائی کا اسی سے پوچھ لو درمیان آب‌ و آتش راستہ کیونکر ہوا وہ نیا کہہ کر جسے دہرا رہا ہے بار بار دنیا ہے ...

    مزید پڑھیے

تمام