ہر طرف لو ہے یہاں پروائیوں میں چل کہیں

ہر طرف لو ہے یہاں پروائیوں میں چل کہیں
جل نہ جائے تیرے نازک جسم کا صندل کہیں


منتظر ہیں دھوپ کا تحفہ لئے سب راستے
آؤ چل کر بیٹھ لیں سائے میں پل دو پل کہیں


گیت کچھ مدھم سروں میں گائیں موجوں سے کہو
ہو نہ جائیں صبح تک مانجھی کے بازو شل کہیں


اتنے لمبے ہیں سمندر سے یہاں تک فاصلے
ایسا لگتا ہے کہ تھک کر رک گئے بادل کہیں


یوں نہیں آتے کبھی یہ آندھیوں کے قافلے
رہ گئی ہوگی درختوں میں کوئی کوپل کہیں


آج کی شب مجھ کو سونا ہے ہواؤں سے کہو
لوریاں گاتی رہیں بجتا رہے پیپل کہیں


دیکھیے کاظمؔ ذرا یہ موسموں کی دھوپ چھاؤں
ہیں کہیں پیاسی زمینیں اور ہے جل تھل کہیں