رو میں جذبوں کی بہہ گئے ہم لوگ
رو میں جذبوں کی بہہ گئے ہم لوگ
خشک ساحل پہ رہ گئے ہم لوگ
ظلمت و نور کے کنائے میں
بات نازک سی کہہ گئے ہم لوگ
ہر مصاحب بہت خجل پایا
جب کبھی پیش شہہ گئے ہم لوگ
منعکس تھی تری ضیا ہم میں
تو جو ڈوبا تو کہہ گئے ہم لوگ
اس تناسب سے ہم سبک ٹھہرے
جس قدر سوئے مہ گئے ہم لوگ