قومی زبان

ماں ترے جانے کے بعد

بجھ گیا روشن سویرا ماں ترے جانے کے بعد چھا گیا ہر سو اندھیرا ماں ترے جانے کے بعد غم کا بادل ہے گھنیرا ماں ترے جانے کے بعد دم گھٹا جاتا ہے میرا ماں ترے جانے کے بعد کس کے چہرے میں تلاشوں تیرے چہرے کی جھلک کس کے آنچل میں ملے گی تیری ممتا کی مہک کس کی باتوں میں سنوں گی تیرے لہجے کی ...

مزید پڑھیے

مڈرز ڈے پر

اسم اعظم بہت اچھا ہوا تھا ماں نے مری سکھلا دیے تھے اسم سارے مجھ کو بچپن میں تمام آیات قرآنی وظیفے اور مناجاتیں کہ جن کے ورد سے ساری بلائیں دور رہتی ہیں حصار ان کا ہر آفت اور مصیبت سے بچاتا ہے انہی کے حفظ سے ہوتی رہی مشکل کشائی اور مسیحائی مگر جب وجود اس کا مجسم اجنبی بن کر گریزاں ...

مزید پڑھیے

تمہاری وجہ سے

اگرچہ یہ سچ ہے کئی بار دل میرا بے حد دکھا ہے تمہاری وجہ سے کئی بار پلکوں پہ آئے ہیں آنسو تمہاری وجہ سے کئی بار سہنی پڑی سخت لہجے کی تیزی و تندی تمہاری وجہ سے کئی مرتبہ نا مناسب رویہ بھی جھیلا ہے میں نے تمہاری وجہ سے کئی بار بے بات غصہ کی زد پر بھی آنا پڑا ہے تمہاری وجہ سے کئی مرتبہ ...

مزید پڑھیے

سرحدیں

کوئی تو ہو اس جہاں میں ایسا کہ جس کے بس میں ہو ساری دنیا کی سرحدوں کی سبھی لکیریں جہاں کے نقشے سے ایک پل میں کسی جتن سے مٹا کے رکھ دے یہ آہنی خار دار تاریں زمین کے ساتھ دل کے رشتے بھی بانٹتی ہیں کئی دلوں میں طویل عرصے سے چبھ رہی ہیں کوئی تو ان کو اکھاڑ پھینکے کوئی تو ہو جو تمام ...

مزید پڑھیے

بہانہ

سنو تم کیوں نہیں کہتے مرے آنسو تمہیں تکلیف دیتے ہیں مرے دکھ سن کے تم بھی بے بسی محسوس کرتے ہو میری آواز کی لرزش تمہیں بھی خوں رلاتی ہے میرے لہجے کی نمناکی تمہیں بے چین رکھتی ہے مجھے معلوم ہے لیکن یہ سب تم کہہ نہیں سکتے اسی لمحہ تمہیں یاد آنے لگتے ہیں کئی بے حد ضروری کام اور پھر ...

مزید پڑھیے

کبھی غمی کے نام پر کبھی خوشی کی آڑ میں

کبھی غمی کے نام پر کبھی خوشی کی آڑ میں تباہ کر گیا مجھے وہ دوستی کی آڑ میں وہ جب چلا گیا یہاں سے پھر مجھے خبر ہوئی کہ موت پالتا رہا ہوں زندگی کی آڑ میں وہ شخص بھی عجیب تھا عجیب اس کے شوق تھے خدا تراشتا رہا صنم گری کی آڑ میں میں قربتوں کی چاہ میں قریب اس کے ہو گیا وہ دور مجھ سے ہو ...

مزید پڑھیے

اپنے ہم راہ محبت کے حوالے رکھنا

اپنے ہم راہ محبت کے حوالے رکھنا کتنا دشوار ہے اک روگ کو پالے رکھنا اتنا آسان نہیں بند گلی میں رہنا شہر تاریک میں یادوں کے اجالے رکھنا ہم زیادہ کے طلب گار نہیں ہیں لیکن وقت کچھ بہر ملاقات نکالے رکھنا بات کر لیں گے جدائی پہ کہیں بعد میں ہم اپنے ہونٹوں پہ سر بزم تو تالے ...

مزید پڑھیے

ہم دونوں نے نام لکھا تھا ساحل پر

ہم دونوں نے نام لکھا تھا ساحل پر اور دل کا پیغام لکھا تھا ساحل پر تنہائی تھی اور سنہری لہریں تھیں سورج نے جب شام لکھا تھا ساحل پر گھر میں تو ہر سو تھا وحشت کا سایہ قسمت میں آرام لکھا تھا ساحل پر اک سادھو نے راکھ ملی تھی چہرے پر اور پوروں سے رام لکھا تھا ساحل پر کود گئے سب رند ...

مزید پڑھیے

کج ادائی کا لگ گیا دھڑکا

کج ادائی کا لگ گیا دھڑکا نارسائی کا لگ گیا دھڑکا تب جنوں تھا کسی کو پانے کا اب جدائی کا لگ گیا دھڑکا ضبط اب آخری حدوں پر ہے لب کشائی کا لگ گیا دھڑکا بات پھیلی ہے مسکرانے سے جگ ہنسائی کا لگ گیا دھڑکا وہ تغیر پسند ہے شازیؔ بے وفائی کا لگ گیا دھڑکا

مزید پڑھیے

آسرا حرف دعا غم سے مفر ہونے تک

آسرا حرف دعا غم سے مفر ہونے تک صبر بھی چاہیے اب اس میں اثر ہونے تک گر بقا کی ہے تمنا تو فنا کر خود کو بیج سہتا ہے ستم کتنے شجر ہونے تک رب کی تخلیق پہ انگشت بدنداں ہیں ملک مرحلے دیکھ لے مٹی سے بشر ہونے تک بخیہ گر چاک گریباں کی ہو تدبیر کوئی ہوں تری دست نگر اپنا ہنر ہونے تک عشق میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 985 سے 6203