قومی زبان

اگر یہ روشنی قلب و نظر سے آئی ہے

اگر یہ روشنی قلب و نظر سے آئی ہے تو پھر شبیہ ستم گر کدھر سے آئی ہے مہک رہا ہے بدن مانگ میں ستارے ہیں شب فراق بتا کس کے گھر سے آئی ہے گلوں میں رنگ تو خون جگر سے آیا ہے مگر یہ تازگی اس چشم تر سے آئی ہے روش روش پہ کچھ ایسے ٹہل رہی ہے صبا کہ جیسے ہو کے تری رہ گزر سے آئی ہے اسے تو گوشۂ ...

مزید پڑھیے

مثال سنگ تپیدہ جڑے ہوئے ہیں کہیں

مثال سنگ تپیدہ جڑے ہوئے ہیں کہیں ہمارے خواب یہیں پر پڑے ہوئے ہیں کہیں الجھ رہی ہے نئی ڈور نرم ہاتھوں سے پتنگ شاخ شجر پر اڑے ہوئے ہیں کہیں جنہیں اگایا گیا برگدوں کی چھاؤں میں بھلا وہ پیڑ چمن میں بڑے ہوئے ہیں کہیں گزر گیا وہ قیامت کی چال چلتے ہوئے جو منتظر تھے وہیں پر کھڑے ہوئے ...

مزید پڑھیے

یہ ہم کون ہیں

یہ ہم کون ہیں وقت کی شاہراہوں پہ ننگے قدم تیز تیز دھوپ میں بے ردا بے اماں راستے میں کوئی میل پتھر نہیں اور ہوائے مسافت گزرتے ہوئے رک کے کہتی ہے یہ کوئی منزل تمہارا مقدر نہیں یہ ہم کون ہیں بے یقینی کے ساحل پہ تنہا کھڑے آنکھ کی کشتیاں پانیوں کے سفر پر روانہ ہوئیں دور تک نیلگوں سبز ...

مزید پڑھیے

ہجرت کی نظم

پلک کے جھپکتے کئی سال بیتے میں واپس جو لوٹی تو میں نے یہ دیکھا مرے گھر کی ہر چھت ٹپکنے لگی تھی در و بام کا رنگ مدھم پڑا تھا وہ آنگن کہ جس میں مہکتی تھی چمپا اس آنگن کا ہر پھول مرجھا گیا تھا فقط ایک برگد کہ تنہا کھڑا تھا وہ تنہا تھا اور جانے کیا سوچتا تھا خزاؤں نے ہر سو بسیرا کیا ...

مزید پڑھیے

اگنی پریکشا

کھلی ہوا اور گھٹن کے وقفے طویل تر تھے تو پھر بھی اتنے گراں نہیں تھے مگر گزشتہ کئی دنوں سے یہ وقفے گویا سمٹ چکے ہیں ابھی میں جی بھر کے لے نہ پاتی ہوں چند سانسیں حسیں فضا میں کہ پھر اسی وقفۂ گھٹن کی ثقیل دستک سماعتوں کو فگار کرتی پیام لاتی ہے موسم حبس اور گھٹن کے میں اس تسلسل سے تھک ...

مزید پڑھیے

تذبذب

مفاہمت کی حدوں سے آگے مہیب اندھیروں کے قافلے ہیں طویل وحشت کے سلسلے ہیں جو معرکہ دل نے سر کیا گر تو تیرگی دائمی مقدر خرد نے جیتا تو قطرہ قطرہ یہ زہر خود میں اتارنا ہے کہ تیسری کوئی رہ نہیں ہے سو منتظر ہوں کہ آگے قسمت میں کیا لکھا ہے مہیب اندھیرے کہ زہر خوانی

مزید پڑھیے

مجبوری

سمجھنا چاہیے مجبوریاں اہل چمن کو سبز بیلوں کی نمو محتاج ہے جن کی ہمیشہ اک سہارے کی درختوں کے تنے دیوار پھاٹک یا منڈیریں ہوں پنپتی ہیں سہاروں پر تو یہ سرسبز رہتی ہیں سہارے چھوٹ جائیں گر تو پھر جینے کی مجبوری کسی نعم البدل کو ڈھونڈ لیتی ہے وگرنہ ان کی شادابی خزاں کی نذر ہوتی ...

مزید پڑھیے

عقل و دل کو ملا جلا رکھیے

عقل و دل کو ملا جلا رکھیے ضابطے میں بھی رابطہ رکھیے دوسرا شہر دوسرے ساتھی دل بھی سینے میں دوسرا رکھیے بند کر لیجے در سب آنکھوں کے ذہن اپنا مگر کھلا رکھیے اتنے پتھر نہ پھینکیے صاحب واپسی کا تو راستہ رکھیے کچھ بھی جینے کی آرزو ہے اگر جان دینے کا حوصلہ رکھیے دن سدا ایک سے نہیں ...

مزید پڑھیے

کبھی قلم کبھی نیزوں پہ سر اچھلتے ہیں

کبھی قلم کبھی نیزوں پہ سر اچھلتے ہیں اب اس فصیل سے سورج کہاں نکلتے ہیں گھروں سے بے سبب اپنے کہاں نکلتے ہیں ضرورتوں کے اشاروں پہ لوگ چلتے ہیں اندھیرا ان کے گھروں کا بہت بھیانک ہے تمام شہر میں جن کے چراغ جلتے ہیں ہوا کے جھونکے ہیں تیرے پیامبر لیکن ہوا کے جھونکے ہی چہروں پہ خاک ...

مزید پڑھیے

مزدور

اسے کیا فرق پڑتا ہے دسمبر بیت جانے سے یکم تاریخ آنے سے کسی بھی سال نو کے خیر مقدم پر خوشی کے شادیانے سے سرور و کیف و مستی میں محبت کے ترانے سے کلب اور ہوٹلوں میں وحشیانہ رقص پر سودائیوں کے تھرتھرانے سے اسے کیا فرق پڑتا ہے اسے تو ہر گزرتا سال اک جیسا ہی لگتا ہے وہ اک مزدور ہے جس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 984 سے 6203