قفس میں پھیلائے گا یہ پر تو خلا میں دست طلب بنے گا
قفس میں پھیلائے گا یہ پر تو خلا میں دست طلب بنے گا اور ایک دن پھر یہی پرندہ رہائیوں کا سبب بنے گا سیاہ کاغذ پہ روشنی کے کچھ استعارے تلاش کرنا پھر اس اجالے میں دیکھ لینا ہمارا نام و نسب بنے گا جو خط لفافے میں تھا اچانک ہی اس کے ہاتھوں میں آ گیا ہے تمام لفظوں کے آئینے میں ہمارا ...