قومی زبان

قفس میں پھیلائے گا یہ پر تو خلا میں دست طلب بنے گا

قفس میں پھیلائے گا یہ پر تو خلا میں دست طلب بنے گا اور ایک دن پھر یہی پرندہ رہائیوں کا سبب بنے گا سیاہ کاغذ پہ روشنی کے کچھ استعارے تلاش کرنا پھر اس اجالے میں دیکھ لینا ہمارا نام و نسب بنے گا جو خط لفافے میں تھا اچانک ہی اس کے ہاتھوں میں آ گیا ہے تمام لفظوں کے آئینے میں ہمارا ...

مزید پڑھیے

حق بیانی کے چراغوں کو جلا کر آ گیا

حق بیانی کے چراغوں کو جلا کر آ گیا اس کے دل کو روشنی کا گھر بنا کر آ گیا ایک دیوانہ جسے پیاسا سمجھتے تھے سبھی وہ جھلستی ریت پہ دریا بہا کر آ گیا تھا سکوں درکار مجھ کو خامشی کے شہر میں اس لئے آواز مٹی میں دبا کر آ گیا شرط تھی غرقاب ہونا ہاں مگر تیری رضا پھر سمندر پر کوئی رستہ بنا ...

مزید پڑھیے

اپنے جیسے دیوانوں کی تھوڑی تو امداد کروں

اپنے جیسے دیوانوں کی تھوڑی تو امداد کروں سوچ رہا ہوں ہشیاری سے پاگل پن ایجاد کروں ضرب لگا کر ایسا چیخوں سناٹے بھی ڈر جائیں لیکن پہلے آوازیں تو پنجرے سے آزاد کروں پتھر کھانے سے اچھا ہے پتھر کو ہی توڑا جائے عشق اجازت دے تو خود کو مجنوں سے فرہاد کروں تو بادل میں پانی بھر کے رکھ ...

مزید پڑھیے

جو تم پہ یوں ہی لٹائی میں نے اب اس کی قیمت تو چاہیے نا

جو تم پہ یوں ہی لٹائی میں نے اب اس کی قیمت تو چاہیے نا تمہاری نظروں میں ہے محبت اگر تجارت تو چاہیے نا جو مجھ سے ملنے کی خواہشیں ہوں تو ایک لمحہ طویل کر لو مسافتوں کو سمیٹنا ہے ذرا سی مدت تو چاہیے نا تمہارے لہجے میں طنز ہے پر سنو کچھ اس میں مزہ نہیں ہے تم اس کو تھوڑا سا تلخ کر لو ...

مزید پڑھیے

تیری پرچھائی کو اب دھوپ دکھانی ہے مجھے

تیری پرچھائی کو اب دھوپ دکھانی ہے مجھے اس لیے خواب کی دیوار گرانی ہے مجھے حسرتوں کا ابھی لوبان سلگ جائے ذرا پھر دھوئیں پر تیری تصویر بنانی ہے مجھے دھیمے لہجے میں بہت چیخ لیا ہے میں نے اب تو آواز کی رفتار بڑھانی ہے مجھے جو مقدر میں لکھا ہے وہ میسر ہے مگر آخری بار وہ زنجیر ہلانی ...

مزید پڑھیے

پایا نہیں وہ جو کھو رہا ہوں

پایا نہیں وہ جو کھو رہا ہوں تقدیر کو اپنی رو رہا ہوں اس سوچ میں زندگی بتا دی جاگا ہوا ہوں کہ سو رہا ہوں پھر کس سے اٹھے گا بوجھ میرا اس فکر میں خود کو ڈھو رہا ہوں کانٹوں کو پلا کے خون اپنا راہوں میں گلاب بو رہا ہوں جھرنا ہو ندی ہو یا سمندر کوزے میں سب سمو رہا ہوں ہر رنگ گنوا چکا ...

مزید پڑھیے

غم کا خزانہ تیرا بھی ہے میرا بھی

غم کا خزانہ تیرا بھی ہے میرا بھی یہ نذرانہ تیرا بھی ہے میرا بھی اپنے غم کو گیت بنا کر گا لینا راگ پرانا تیرا بھی ہے میرا بھی کون ہے اپنا کون پرایا کیا سوچیں چھوڑ زمانہ تیرا بھی ہے میرا بھی شہر میں گلیوں گلیوں جس کا چرچا ہے وہ افسانہ تیرا بھی ہے میرا بھی تو مجھ کو اور میں تجھ کو ...

مزید پڑھیے

ہر آئنہ میں بدن اپنا بے لباس ہوا

ہر آئنہ میں بدن اپنا بے لباس ہوا میں اپنے زخم دکھا کر بہت اداس ہوا جو رنگ بھر دو اسی رنگ میں نظر آئے یہ زندگی نہ ہوئی کانچ کا گلاس ہوا میں کوہسار پہ بہتا ہوا وہ جھرنا ہوں جو آج تک نہ کسی کے لبوں کی پیاس ہوا قریب ہم ہی نہ جب ہو سکے تو کیا حاصل مکان دونوں کا ہر چند پاس پاس ہوا کچھ ...

مزید پڑھیے

تم سے ملتے ہی بچھڑنے کے وسیلے ہو گئے

تم سے ملتے ہی بچھڑنے کے وسیلے ہو گئے دل ملے تو جان کے دشمن قبیلے ہو گئے آج ہم بچھڑے ہیں تو کتنے رنگیلے ہو گئے میری آنکھیں سرخ تیرے ہاتھ پیلے ہو گئے اب تری یادوں کے نشتر بھی ہوئے جاتے ہیں کند ہم کو کتنے روز اپنے زخم چھیلے ہو گئے کب کی پتھر ہو چکی تھیں منتظر آنکھیں مگر چھو کے جب ...

مزید پڑھیے

کیا فرض ہے یہ جسم کے زنداں میں سزا دے

کیا فرض ہے یہ جسم کے زنداں میں سزا دے میں خاک اگر ہوں تو ہواؤں میں اڑا دے اک عمر سے محسوس کیے جاتا ہوں خود کو کوئی مجھے چھوکر مرے ہونے کا پتا دے میں جنبش انگشت میں محفوظ رہوں گا ہر چند مجھے ریت پہ تو لکھ کے مٹا دے اجڑا ہوا یہ پیڑ بھی دے جائے گا منظر سوکھی ہوئی شاخوں میں کوئی چاند ...

مزید پڑھیے
صفحہ 975 سے 6203