قومی زبان

روز دہرائیں گے جب شام و سحر کی تاریخ

روز دہرائیں گے جب شام و سحر کی تاریخ کیسے بدلے گی بھلا آپ کے گھر کی تاریخ ان فضاؤں میں کوئی بڑھ کے دکھائے تو کمال خود بہ خود ہوگی رقم بازوئے پر کی تاریخ اپنے بچوں کو نہ دیں پائے کبھی کوئی خوشی صرف ہم لکھتے رہے اپنے ہنر کی تاریخ لوٹنے والے کبھی لوٹ نہ پائیں گے مجھے میں بتا دوں گا ...

مزید پڑھیے

گھر ہو یا باہر وہی کڑوی کسیلی گفتگو

گھر ہو یا باہر وہی کڑوی کسیلی گفتگو کب تلک سنتے رہیں ہم ایک جیسی گفتگو چند لمحوں میں بھٹک جائے جو موضوعات سے بے سبب وہ کیوں کیا کرتا ہے علمی گفتگو اس کے لہجے میں تو ہلکی سی ندامت بھی نہیں اک طرف ہم بھول جائیں پچھلی ساری گفتگو پل میں رتی پل میں ماشا پل میں رائی کا پہاڑ پک چکے ہیں ...

مزید پڑھیے

نئے خیالوں سے رابطہ کر نئی زمینوں پہ شاعری کر

نئے خیالوں سے رابطہ کر نئی زمینوں پہ شاعری کر جو عشق کرتی ہیں شاعری سے اب ان حسینوں پہ شاعری کر سیاہ راتیں اداس جگنو اور اس پہ سورج کی بے نیازی اب ایک مصرع تراش ایسے تو آج تینوں پہ شاعری کر سمندروں کے وہ شاہزادے تمام لہروں سے آشنا تھے جنہوں نے دریا کے پاؤں باندھے تھے ان سفینوں ...

مزید پڑھیے

اداس دھوپ سے رشتہ بحال کرنے میں

اداس دھوپ سے رشتہ بحال کرنے میں درخت سوکھ گئے یہ کمال کرنے میں ہر ایک بار غموں کا مزاج بدلا تھا خوشی سے آنکھ ملا کر ملال کرنے میں ہمارا دل بھی رہا ذمے دار مان لیا تمہیں کیوں وقت لگا استعمال کرنے میں بدن کی آنچ سروں پر اٹھانی پڑتی ہے کسی چراغ سے خود کو مشعل کرنے میں ادھوری ...

مزید پڑھیے

چاہتا ہوں کہ ترا ہجر مصیبت نہ لگے

چاہتا ہوں کہ ترا ہجر مصیبت نہ لگے اب کوئی زخم ترے غم کی بدولت نہ لگے اس کی یادوں کا سفر ختم کروں روئے بغیر غیر ممکن ہے کہ اس کام میں حکمت نہ لگے ظرف ٹوٹے ہوئے کشکول سے گر سکتا ہے ایسی امداد سے بچنا جو سخاوت نہ لگے شہر در شہر مجھے خاک اڑانی ہے مگر اس پہ یہ شرط مسافت بھی مسافت نہ ...

مزید پڑھیے

پہاڑ ہونے کا سارا غرور کانپ اٹھا

پہاڑ ہونے کا سارا غرور کانپ اٹھا بس اک ذرا سی تجلی سے طور کانپ اٹھا ہوا نے جیسے ہی تیور دکھائے ہیں اپنے نکل رہا تھا دیئے سے جو نور کانپ اٹھا پڑھی جو جبر و تشدد کی داستان کہیں کبھی شعور کبھی لا شعور کانپ اٹھا لبوں پہ آ نہ سکی اپنے دل کی ایک بھی بات کہ جب بھی پہنچا میں اس کے حضور ...

مزید پڑھیے

یہ دن یہ رات یہ شام و سحر سمیٹ لئے

یہ دن یہ رات یہ شام و سحر سمیٹ لئے غزل کے شوق نے کتنے پہر سمیٹ لئے فضا میں ایسا تعصب کا زہر پھیل گیا نہ جانے کتنے پرندوں نے پر سمیٹ لئے سماج تیری مرمت نہ ہو سکے گی کہیں جو ہم غریبوں نے دست و ہنر سمیٹ لئے یہ سوچ کر کہ اندھیرے نہ زندگی بن جائیں جہاں جہاں ملے شمس و قمر سمیٹ ...

مزید پڑھیے

کہیں کا غصہ کہیں کی گھٹن اتارتے ہیں

کہیں کا غصہ کہیں کی گھٹن اتارتے ہیں غرور یہ ہے کاغذ پہ فن اتارتے ہیں سنی ہے ٹوٹتے پتوں کی ہم نے سرگوشی یہ پیڑ پودے بھی کیا پیرہن اتارتے ہیں سیاسی لوگوں سے امید کیسی خاک وطن وطن کا قرض کہیں راہزن اتارتے ہیں زمیں پہ رکھ دیں اگر آپ اپنی شمشیریں تو ہم بھی اپنے سروں سے کفن اتارتے ...

مزید پڑھیے

کتاب دل کے ورق جو الٹ کے دیکھتا ہے

کتاب دل کے ورق جو الٹ کے دیکھتا ہے وہ کائنات کو اوروں کو ہٹ کے دیکھتا ہے اگر نہیں ہے بچھڑنے کا رنج کچھ بھی اسے وہ بار بار مجھے کیوں پلٹ کے دیکھتا ہے ندی بڑھی ہو کہ سوکھی ہر ایک صورت میں کنارہ اپنے ہی پانی سے ہٹ کے دیکھتا ہے کسی کو تیرگی پاگل نہ کر سکے جب تک کہاں چراغ کی لو سے پلٹ ...

مزید پڑھیے

گیلی لکڑی کو سلگا کر اشکوں سے عرضی لکھوں گا

گیلی لکڑی کو سلگا کر اشکوں سے عرضی لکھوں گا آج دھوئیں کے بادل پر میں بارش کو چٹھی لکھوں گا اس زنداں کے کچھ قیدی ہی میری بات سمجھ پائیں گے جب پتھر کی دیواروں پر مٹی سے مٹی لکھوں گا مجھ جیسے کچھ دیوانے ہی زندہ دل ہوتے ہیں صاحب میں اتنا کمزور نہیں جو پنکھا اور رسی لکھوں گا کب تک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 974 سے 6203