قومی زبان

فقط اک لفظ ہوں تنہا اگر تفصیل ہو جاؤں سنور جاؤں

فقط اک لفظ ہوں تنہا اگر تفصیل ہو جاؤں سنور جاؤں ابھی تو خاک ہوں میں خاک میں تحلیل ہو جاؤں سنور جاؤں ابھی تک شخصیت ایک نا مکمل خواب جیسی ہے ادھوری ہے کسی دن معجزہ ہو آپ ہی تکمیل ہو جاؤں سنور جاؤں مجھے شب کے اندھیروں میں ابھی کتنا جھلسنا ہے سمجھنا ہے مگر جلتے ہوئے یوں ہی کبھی ...

مزید پڑھیے

نیند سے آنکھ کھلی ہے ابھی دیکھا کیا ہے

نیند سے آنکھ کھلی ہے ابھی دیکھا کیا ہے دیکھ لینا ابھی کچھ دیر میں دنیا کیا ہے باندھ رکھا ہے کسی سوچ نے گھر سے ہم کو ورنہ اپنا در و دیوار سے رشتہ کیا ہے ریت کی اینٹ کی پتھر کی ہو یا مٹی کی کسی دیوار کے سائے کا بھروسا کیا ہے گھیر کر مجھ کو بھی لٹکا دیا مصلوب کے ساتھ میں نے لوگوں سے ...

مزید پڑھیے

کچھ دیر کالی رات کے پہلو میں لیٹ کے

کچھ دیر کالی رات کے پہلو میں لیٹ کے لایا ہوں اپنے ہاتھوں میں جگنو سمیٹ کے دو چار داؤں کھیل کے وہ سرد پڑ گیا اب کیا کرو گے تاش کے پتوں کو پھیٹ کے اس سانولے سے جسم کو دیکھا ہی تھا کہ بس گھلنے لگے زباں پہ مزے چاکلیٹ کے جیسے کوئی لباس نہ ہو اس کے جسم پر یوں راستہ چلے ہے بدن کو سمیٹ ...

مزید پڑھیے

ٹھکراؤ اب کہ پیار کرو میں نشے میں ہوں

ٹھکراؤ اب کہ پیار کرو میں نشے میں ہوں جو چاہو میرے یار کرو میں نشے میں ہوں اب بھی دلا رہا ہوں یقین وفا مگر میرا نہ اعتبار کرو میں نشے میں ہوں اب تم کو اختیار ہے اے اہل کارواں جو راہ اختیار کرو میں نشے میں ہوں گرنے دو تم مجھے مرا ساغر سنبھال لو اتنا تو میرے یار کرو میں نشے میں ...

مزید پڑھیے

ریت کی لہروں سے دریا کی روانی مانگے

ریت کی لہروں سے دریا کی روانی مانگے میں وہ پیاسا ہوں جو صحراؤں سے پانی مانگے تو وہ خود سر کہ الجھ جاتا ہے آئینوں سے میں وہ سرکش کہ جو تجھ سے ترا ثانی مانگے وہ بھی دھرتی پہ اتاری ہوئی مخلوق ہی ہے جس کا کاٹا ہوا انسان نہ پانی مانگے ابر تو ابر شجر بھی ہیں ہوا کی زد میں کس سے دم بھر ...

مزید پڑھیے

اندر کا سکوت کہہ رہا ہے

اندر کا سکوت کہہ رہا ہے مٹی کا مکان بہہ رہا ہے شبنم کے عمل سے گل تھا لرزاں سورج کا عتاب سہہ رہا ہے بستر میں کھلا کہ تھا اکہرا وہ جسم جو تہہ بہ تہہ رہا ہے پتھر کو نچوڑنے سے حاصل ہر چند ندی میں رہ رہا ہے آئینہ پگھل چکا ہے شاہدؔ ساکت ہوں میں عکس بہہ رہا ہے

مزید پڑھیے

کرب چہرے سے مہ و سال کا دھویا جائے

کرب چہرے سے مہ و سال کا دھویا جائے آج فرصت سے کہیں بیٹھ کے رویا جائے پھر کسی نظم کی تمہید اٹھائی جائے پھر کسی جسم کو لفظوں میں سمویا جائے کچھ تو ہو رات کی سرحد میں اترنے کی سزا گرم سورج کو سمندر میں ڈبویا جائے بج گئے رات کے دو اب تو وہ آنے سے رہے آج اپنا ہی بدن اوڑھ کے سویا ...

مزید پڑھیے

زمیں پہ چل نہ سکا آسمان سے بھی گیا

زمیں پہ چل نہ سکا آسمان سے بھی گیا کٹا کے پر کو پرندہ اڑان سے بھی گیا کسی کے ہاتھ سے نکلا ہوا وہ تیر ہوں جو ہدف کو چھو نہ سکا اور کمان سے بھی گیا بھلا دیا تو بھلانے کی انتہا کر دی وہ شخص اب مرے وہم و گمان سے بھی گیا تباہ کر گئی پکے مکان کی خواہش میں اپنے گاؤں کے کچے مکان سے بھی ...

مزید پڑھیے

روح کو قید کیے جسم کے ہالوں میں رہے

روح کو قید کیے جسم کے ہالوں میں رہے لوگ مکڑی کی طرح اپنے ہی جالوں میں رہے جسم کو آئنہ دکھلاتے ہیں سائے ورنہ آدمی کے لیے اچھا تھا اجالوں میں رہے وقت سے پہلے ہو کیوں ذہن پہ خورشید کا بوجھ رات باقی ہے ابھی چاند پیالوں میں رہے پھر تو رہنا ہی ہے گھورے کا مقدر ہو کر پھول تازہ ہے ابھی ...

مزید پڑھیے

بے سبب بات بڑھانے کی ضرورت کیا ہے

بے سبب بات بڑھانے کی ضرورت کیا ہے ہم خفا کب تھے منانے کی ضرورت کیا ہے آپ کے دم سے تو دنیا کا بھرم ہے قائم آپ جب ہیں تو زمانے کی ضرورت کیا ہے تیرا کوچہ ترا در تیری گلی کافی ہے بے ٹھکانوں کو ٹھکانے کی ضرورت کیا ہے دل سے ملنے کی تمنا ہی نہیں جب دل میں ہاتھ سے ہاتھ ملانے کی ضرورت کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 976 سے 6203