فقط اک لفظ ہوں تنہا اگر تفصیل ہو جاؤں سنور جاؤں
فقط اک لفظ ہوں تنہا اگر تفصیل ہو جاؤں سنور جاؤں ابھی تو خاک ہوں میں خاک میں تحلیل ہو جاؤں سنور جاؤں ابھی تک شخصیت ایک نا مکمل خواب جیسی ہے ادھوری ہے کسی دن معجزہ ہو آپ ہی تکمیل ہو جاؤں سنور جاؤں مجھے شب کے اندھیروں میں ابھی کتنا جھلسنا ہے سمجھنا ہے مگر جلتے ہوئے یوں ہی کبھی ...