مینوپاز
ابل ابل کر دودھ کے سارے تال تلیاں سوکھ گئے ہمک ہمک کر کندن سی لوری کے بول بھی روٹھ گئے پینگیں لیتے لیتے خالی بانہیں تھک کر جھول گئیں کجلوٹی میں سارا کاجل جانے کب کا پگھل گیا کس میلے میں ڈھونڈوں اس کو ملا نہیں اور بچھڑ گیا
ابل ابل کر دودھ کے سارے تال تلیاں سوکھ گئے ہمک ہمک کر کندن سی لوری کے بول بھی روٹھ گئے پینگیں لیتے لیتے خالی بانہیں تھک کر جھول گئیں کجلوٹی میں سارا کاجل جانے کب کا پگھل گیا کس میلے میں ڈھونڈوں اس کو ملا نہیں اور بچھڑ گیا
کئی گرہیں کہ جن کو کھولنے کی ضد میں اپنے ناخنوں کو ہم گنوا بیٹھے کئی باتیں کہ جن کو باندھنے کی کوششوں میں موچ آئی تھی کلائی میں کئی چہرے کہ جن کے خال و خط کو ہم مٹانے کے جتن میں دھوتے رہتے تھے برابر اپنے لوح چشم اب بھی گھیر لیتے ہیں گزرتے وقت نے ہر تجربے کو کہہ کے بچکانہ ہمیں قائل ...
جب وہ اپنے گھروں سے نکلے ان کے سروں پہ کفن بندھا تھا دلوں میں جوش آنکھوں میں بے خوفی قبیلے کی بزرگ ترین ہستی نے پکارنا چاہا اپنی تلواریں لیتے جاؤ لیکن ان کے پتھر ہونے کا ڈر تھا جب وہ اپنی بستیوں سے نکلے ان کے سینوں میں دبی ہوئی آہیں تھیں ہونٹوں پہ لرزشیں ہاتھ دعاؤں کے لیے دراز اس ...
وہ نیند کی ماتی جس کی آنکھیں شام ڈھلے نارنجی ہوتیں آتے جاتے خواب انوکھے پلکیں جس کی چھوتے رہتے جس کی کھڑکی کے پردوں پر چاند کا بھی نہ سایہ پڑتا جس کے کمرے سے بچ بچ کر سورج اپنا رستہ چلتا جس کے آنگن چنچل چڑیاں سرگوشی میں باتیں کرتیں جس کے ذہن میں سوچ کی گرہیں پڑتیں اور کھل جاتی ...
ناری اور شودر کو سمان سمجھنے والے مہا پرش اتہاس کے پنوں میں کھو گئے ہیں ہونٹ آج بھی تھرتھراتے ہیں لفظ میلے نہ ہو جائیں زمین تھی تو پتھریلی لیکن اپنا کنواں کھودا تو پانی میٹھا نکلا پھنکارتے آبھوشن صندوقوں میں بند کر کے چابی بزرگوں کے حوالے کر دی گئی اڑتے ہوئے لفظوں کو مٹھیوں میں ...
آ کہ اس دل میں تیرے لیے ہے بہت سی جگہ یہ تو دونوں کو معلوم ہے آرزوؤں کی کثرت سے تنگی کا مارا ہوا حسرتوں سے پریشان ہے اس کی بوسیدگی کے گواہ محبت وفا دشمنی بغض کینہ حسد یہ جہاں مختصر اور تو عز و جل پھر بھی اتنا یقیں کر ہی سکتا ہے تو یہ وہ گھر ہے کہ جس میں اگر تو براجے یہ تیرا بنے اور تب ...
اس نے اپنے سفید پپوٹے جھپکائے مٹیالی آنکھوں سے پورے آسمان کو تاکا اور سورج کو گود میں بھر کر بولا بڑی آگ ہے تجھ میں چل تجھے قطب شمالی میں دفن کرتے ہیں چھوٹے چھوٹے سیاروں کی بھی اپنی زندگی ہوتی ہے انہیں اپنے اپنے کرے پر گھومنے دے کس میں پانی ہے کس میں ہوا یہ دیکھنا تیرا کام ...
برسوں گزرے کسی جھیل میں پنکھ ڈبوئے ہوئے صدیاں بیتیں سر ساحل بانہہ پسارے ہوئے وہ مان سروور جس میں سحر کی ہلکی میٹھی دھوپ بھی ہے پیڑوں کا گھنیرا سایہ بھی اور قل قل کرتی خاموشی وہ جس کی راہیں درگم سی یہ ہنس اسے پا جائے اگر سب گرد وہیں دھو آئے گا سب درد ڈبو آئے گا وہیں وہ جس کی تمنا ...
ہمارے جیسے عجیب لوگوں کی رنجشوں کا ملال کس کو زمین کرتی ہے بین آنسو فلک بہاتا ہے چپکے چپکے فضا میں سسکی سی تیرتی ہے ہیں سر بہ زانوں تمام منظر کہیں چھنی ہے کسی کی گڑیا کہیں پھٹی ہیں نئی کتابیں کسی کی شہ رگ پہ کوئی جھپٹا کسی کی گلیوں میں خون بکھرا سنا ہے ہم نے کہ اس شجاعت پہ تمغہ ملے ...
برا نہ مانو نمازیں اب بھی یہیں پڑی ہیں پہ سجدہ گاہیں اٹھا کے جانے کدھر چلے تھے وہ صبح تم کو بھی یاد ہوگی الگ تھے گھر اور علیحدہ چولھے تمہارے پرچم کا رنگ الگ تھا وطن تمہارا نیا نیا تھا سبھی تو بانٹا تھا آدھا آدھا مگر پڑی ہیں وہاں پہ اب تک ہماری رادھا کی ایک پائل ہمارے کرشنا کی ایک ...