قومی زبان

جہل

کسے کیا کہوں مرے لفظ ترسیل سے منحرف ہیں مری سوچ اپنی ہی پیچاک پہ گھومتی جا رہی ہے سنہرے روپہلے ہرے کاسنی کوزہ در کوزہ رنگوں میں لپٹے ہوئے میرے جذبات جن کو پروسوں تو سوچوں بہت تلخ ہے ذائقہ کون سمجھے محبت کی جادوگری کون پرکھے عداوت کی پاکیزگی کس کو سمجھاؤں ہجرت کی آوارگی کس کو ...

مزید پڑھیے

حسینؓ! تومی کوتھائے

کھنڈر سا شہر گھپ تاریک راتوں میں حسین ابن علیؓ کی یاد میں ماتم کناں رو رو کے کہتا ہے حسینؓ! تومی کوتھائے؟ مہابت جنگ کی یہ سرزمیں مرشد کی یہ بستی ترستی ہے سراج الدولہ کو ہر پل مساجد میں نمازی چڑیاں پابندی سے آتی ہیں شکستہ ہیں بھی تو ایماں کا محرابوں سے کیا مطلب عقیدوں کو ہے منبر ...

مزید پڑھیے

نشاۃ الثانیہ

یہ مانا کہ سارے مظاہر ہیں فطری مگر کوئی پوچھے ہواؤں سے بے مہر کیوں لاتی ہے پتے ہری ڈالیوں سے زمیں کروٹیں کیوں بدلتی ہے لاوے اگلتی ہے کیوں بستیاں راکھ ہوتی ہیں بہہ جاتے ہیں گاؤں کے گاؤں جب طیش میں دوڑتا ہے سمندر حدیں بھول کر بجلیاں ٹوٹ پڑتی ہیں کیوں خرمنوں پر گہن چاند سورج پہ ...

مزید پڑھیے

نئے یگ کا خواب

بد خوابی سے بچنے کے تھے کیسے کیسے نسخے بسم اللہ پھر پہلا کلمہ دوسرا کلمہ چاروں قل اور داہنی کروٹ سونا نیند تو اب آتی ہے کم کم اور اگر آ بھی جائے تو خواب کہاں اچھے آتے ہیں گہرا دریا ڈوبتی ناؤ ٹوٹے پل کے اکھڑے تختے روشندان پہ کالے شیشے دیواروں پر خون کے چھینٹے آگ دھواں بے چین ...

مزید پڑھیے

وہ کیوں آیا

صبا کے سبز خطے سے سنہرے موسموں کی آرزو لے کر دیار جاں میں کیوں آیا وہ جس کی آنکھ چمکیلے دنوں کا کھوج دیتی ہے جہاں رنگوں کی دھن میں آشنا منظر تحیر کے کھلی خواہش کے پانی میں ابھرتے تیرتے ہیں ڈوب جاتے ہیں وہ مجھ سے پوچھتا ہے سینکڑوں اسرار جینے اور مرنے کے نظر کا روشنی سے رابطہ کیا ...

مزید پڑھیے

اگر مجھے زباں ملے

اگر مجھے زباں ملے تو دل کی داستاں کہوں خود اپنے چارہ گر سے حال سعی رائیگاں کہوں کہوں کہ کیوں فسردگی ہے خیمہ زن بہار میں دھنک کے رنگ کیوں نہیں ہیں عکس شاخسار میں وہ ابر بن کے تیرتی ہیں کیوں فلک کے نیل میں گئے دنوں کی کشتیاں جو ہیں نظر کی جھیل میں الم نصیب دوستوں کو کیا ہوا وہ سبز ...

مزید پڑھیے

کرنوں کا سندیسہ

پورب والو سورج بھیجو پورب والو سکھ کا سورج بھیجو دیکھو دھرتی بانجھ ہوئی ہے سبز سنہرے روپ کا کنگن دھوپ کا کنگن راکھ ہوا ہے سرد دھوئیں میں شیشے کی دیوار کے پیچھے بے کیفی کی میت پر پہلے بے گھر پتے ناچ رہے ہیں پورب والو دیر نہ کرنا دیر لگی تو رو رو کر آکاش دلہن کی ساری آنکھیں رم جھم رم ...

مزید پڑھیے

عجیب خوف ہے جذبوں کی بے لباسی کا

عجیب خوف ہے جذبوں کی بے لباسی کا جواز پیش کروں کیا میں اس اداسی کا یہ دکھ ضروری ہے رشتے خلا پذیر ہوئے ادا ہوا ہے مگر قرض خود شناسی کا نہ خواب اور نہ خوف شکست خواب رہا سبب یہی ہے نگاہوں کی بے ہراسی کا کوئی ہے اپنے سوا بھی مسافت شب میں سحر جو ہو تو کھلے راز خوش قیاسی کا وہ سیل اشک ...

مزید پڑھیے

ہوا سرکش اندھیرا سخت جاں ہے

ہوا سرکش اندھیرا سخت جاں ہے چراغوں کو مگر کیا کیا گماں ہے یقیں تو جوڑ دیتا ہے دلوں کو کوئی شے اور اپنے درمیاں ہے ابھی سے کیوں لہو رونے لگی آنکھ پس منظر بھی کوئی امتحاں ہے وہی بے فیض راتوں کا تسلسل وہی میں اور وہی خواب گراں ہے مرے اندر ہے ان پیاسا کنارہ مرے اطراف اک دریا رواں ...

مزید پڑھیے

زندگی میں یوں تو ہر اک حادثہ ناگاہ تھا

زندگی میں یوں تو ہر اک حادثہ ناگاہ تھا جسم کے پرچھائیں بننے کا عمل جانکاہ تھا اب تو سارے دشت و دریا ان نگاہوں میں رہیں دن گئے ذوق سفر میں جب کوئی گمراہ تھا خالی پن اپنی جگہ کچھ تلخیاں رکھتا تو ہے کھوکھلے پن سے رفاقت کے بھی دل آگاہ تھا تیور دریا کا شکوہ ہے نہ طوفاں کا گلا میری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 972 سے 6203