جہل
کسے کیا کہوں مرے لفظ ترسیل سے منحرف ہیں مری سوچ اپنی ہی پیچاک پہ گھومتی جا رہی ہے سنہرے روپہلے ہرے کاسنی کوزہ در کوزہ رنگوں میں لپٹے ہوئے میرے جذبات جن کو پروسوں تو سوچوں بہت تلخ ہے ذائقہ کون سمجھے محبت کی جادوگری کون پرکھے عداوت کی پاکیزگی کس کو سمجھاؤں ہجرت کی آوارگی کس کو ...