خواہش
بہت دنوں سے پھول کی یہ خواہش تھی کہ اڑ پائے لطف رہے گا جب وہ اپنی خوشی سے آئے جائے اسی پھول نے آخر اک دن دیا شاخ کو دھوکا تیلی بن ہی گیا وہ جب پھر اس کو کس نے روکا ہر دن بیٹھ کے سوچا کرتا دیپک کا اجیالا میں پرواز جو کرتا تو خوشیاں ہو جاتیں دوبالا اسی سوچ میں آخر اک دن پنکھ اس نے بھی ...