قومی زبان

خواہش

بہت دنوں سے پھول کی یہ خواہش تھی کہ اڑ پائے لطف رہے گا جب وہ اپنی خوشی سے آئے جائے اسی پھول نے آخر اک دن دیا شاخ کو دھوکا تیلی بن ہی گیا وہ جب پھر اس کو کس نے روکا ہر دن بیٹھ کے سوچا کرتا دیپک کا اجیالا میں پرواز جو کرتا تو خوشیاں ہو جاتیں دوبالا اسی سوچ میں آخر اک دن پنکھ اس نے بھی ...

مزید پڑھیے

زمیں تھم گئی ہے

بدن میں نہ پہلی سی حدت نہ دھڑکن ہے دل میں جئے جانے کی ایک بے شرم عادت ادھر کچھ دنوں سے نگاہوں میں اپنی سبک کر رہی ہے ہزاروں بکھیڑوں میں بھی جانے کب بے ستر آ کھڑی ہوتی ہے یہ حقیقت تو کیا میں بھی ان ان گنت لوگوں میں ہوں جنہیں زندگی اک سزا ہے کوئی بد دعا ہے مگر جی رہے ہیں ابھی کچھ دھواں ...

مزید پڑھیے

مرد---عورت

کب کہاں سے چلی تھی پتہ نہیں جنت نے ٹھکرایا کہ آدم نے پکارا چاروں اور گھنا جنگل ہر شاخ ہاتھ بڑھاتے ہی خود میں سمٹ جاتی تھی جانے کب بے ستر ہوئی کس نے شرم گاہ کی لاج رکھی پاؤں کے نیچے ان گنت راہیں بے حساب نشیب و فراز دونوں طرف سوال و جواب کی اٹوٹ خواہشیں الزامات کے تبادلے کی ...

مزید پڑھیے

گلشن نا آفریدہ

بدن کے جھروکے میں جتنی نگاہیں لگی ہیں مری ہیں کوئی اور کب سوچتا ہے کہ غم خانۂ میرؔ کے اس طرف ایک ہنستا مہکتا باغیچہ بھی ہے کتنی ان چھوئی کلیاں جواں تتلیاں رس بھری جھومتی ڈالیاں سوندھی مٹی کی ہم جنس خوشبو لبالب سی اک باؤلی جانے کیا کچھ مگر وہ جھروکہ کہ جس کا مرے دل سے اک واسطہ ...

مزید پڑھیے

یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے

یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے میں سمجھتا تھا مرے یار سمجھتے ہیں مجھے جڑ اکھڑنے سے جھکاؤ ہے مری شاخوں میں دور سے لوگ ثمر بار سمجھتے ہیں مجھے کیا خبر کل یہی تابوت مرا بن جائے آپ جس تخت کا حق دار سمجھتے ہیں مجھے نیک لوگوں میں مجھے نیک گنا جاتا ہے اور گنہ گار گنہ گار سمجھتے ...

مزید پڑھیے

یوں مجھے تیری صدا اپنی طرف کھینچتی ہے

یوں مجھے تیری صدا اپنی طرف کھینچتی ہے جیسے خوشبو کو ہوا اپنی طرف کھینچتی ہے یہ مجھے نیند میں چلنے کی جو بیماری ہے مجھ کو اک خواب سرا اپنی طرف کھینچتی ہے مجھے دریا سے نہیں ہے کوئی لینا دینا کیوں مجھے موج بلا اپنی طرف کھینچتی ہے کھینچتی ہے مجھے رہ رہ کے محبت اس کی جیسے فانی کو ...

مزید پڑھیے

انصاف

میں نے کچھ بولنے کی کوشش کی تو مجھے اک کٹہرا فراہم کر دیا گیا میں گواہ ہوں لیکن چشم دید نہیں مقدس کتاب پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاؤ جو بھی کہوں گی سچ کہوں گی سچ کے سوا کچھ بھی نہیں میں نے قسم کھائی اور گواہی دی میری ہلاکت چشم دید نہ تھی سو قاتل آج بھی گھومتا ہے آزادانہ مگر میں قید ...

مزید پڑھیے

دم تحریر

دم تحریر جن ناپاک گندی عورتوں سے کوثر و تسنیم کترا کے گزریں گی جن پر دودھ اور شہد کے پیالے حرام کر دئے جائیں گے جن کو ملائک دزدیدہ نگاہوں سے بھی دیکھنا نہ چاہیں گے جن کا ٹھکانہ جہنم ہوگا جنہیں دوزخ کی آگ روز جلائے گی جن پر غیظ و غضب کے کوڑے ہر ساعت برسائے جائیں گے ان میں ایک میں ...

مزید پڑھیے

اگلی رت کی نماز

میں چاہتی ہوں کہ اگلی رت میں ملوں جو تم سے جنم جنم کی تھکاوٹوں کے خطوط چہرے سے مٹ چکے ہوں قدم قدم اک سفر کی پچھلی علامتیں سب گزر چکی ہوں ملال صحرا نوردی پاؤں کے آبلوں میں سمٹ چکا ہو مسافرت کی تمام رنجش مرے مساموں سے دھل چکی ہو کسی بھی پتھر کا کوئی دھبہ کسی بھی چوکھٹ کا کوئی ...

مزید پڑھیے

کولاژ

ساری چلمنیں تیلیوں کی شکل میں بکھر چکی ہیں کمزور دھاگے کہانیاں بننے سے عاری مومی شمعیں پگھل پگھل کر زمیں بوس پروانے راستہ بھٹک چکے ہیں بے رنگ اوس کے دھبے جا بجا آنگنوں میں پھیلے ہیں سورج نے آنکھیں نہیں کھولیں قطرہ قطرہ پی رہی ہے گھاس چاند کی جھوٹی شراب خاکستری یادوں کی بارہ دری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 970 سے 6203