جنون شوق کی راہوں میں جب اپنے قدم نکلے
جنون شوق کی راہوں میں جب اپنے قدم نکلے نگار حسن کی زلفوں کے سارے پیچ و خم نکلے یہ بے نوری مرے گھر کے اجالوں کی معاذ اللہ اگر دیکھیں اندھیرے تو اندھیروں کا بھی دم نکلے ابھارے جائیے جب تک نہ ابھرے نقش کاغذ پر تراشے جائیے جب تک نہ پتھر سے صنم نکلے نہیں دیکھا تھا جب تک خود کو سمجھے ...