قومی زبان

سوچئے گر اسے ہر نفس موت ہے کچھ مداوا بھی ہو بے حسی کے لیے

سوچئے گر اسے ہر نفس موت ہے کچھ مداوا بھی ہو بے حسی کے لیے سورجوں کی وراثت ملی تھی ہمیں در بدر ہو گئے روشنی کے لیے کوئی آواز ہے وہ کوئی ساز ہے اس سے ہی رنگ و نکہت کا در باز ہے جس طرف ہو نظر وہ رہے جلوہ گر کیسے سوچیں گے ہم پھر کسی کے لیے بد دماغی مری ہے وہی جو کہ تھی طرز خود بیں تمہارا ...

مزید پڑھیے

سچ کی آواز کا سولی پہ بھی رد ہے حد ہے

سچ کی آواز کا سولی پہ بھی رد ہے حد ہے تم اگر جھوٹ بھی بولو تو سند ہے حد ہے تم تو سورج تھے پہ حیرت ہے مجھے وقت زوال اک دیے سے تمہیں اس درجہ حسد ہے حد ہے میں کہ مسجود ملائک تھا کبھی داور حشر میرے اعمال پر ان سے ہی مدد ہے حد ہے ہم تو بربادی کا سامان کئے بیٹھے تھے مسلک عشق و وفا میں ...

مزید پڑھیے

دنیا اپنی موت جلد از جلد مر جانے کو ہے

دنیا اپنی موت جلد از جلد مر جانے کو ہے اب یہ ڈھانچہ ایسا لگتا ہے بکھر جانے کو ہے عین اس دم نیشتر لے آتی ہیں یادیں تری زخم تنہائی کا لگتا ہے کہ بھر جانے کو ہے جانے والے اور کچھ دن سوگ کرنا ہے ترا ذہن و دل سے پھر یہ نشہ بھی اتر جانے کو ہے وقت رخصت بد گمانی تیری ایسا گھاؤ تھی رفتہ ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھ میری کہانی کہاں سے نکلی ہے

نہ پوچھ میری کہانی کہاں سے نکلی ہے یہ داستاں بھی تری داستاں سے نکلی ہے جگر کو چیر لیا شوق میں چٹانوں نے صدائے عشق جب آب رواں سے نکلی ہے سبھی پہ خوف مسلط تھا ناخداؤں کا جو بات حق تھی ہماری زباں سے نکلی ہے چھوا ہے تجھ کو تو میرا سلگ اٹھا ہے بدن یہ کیسی آنچ ترے جسم و جاں سے نکلی ...

مزید پڑھیے

بھرنے لگتا ہے کوئی زخم تو جب پوچھتے ہیں

بھرنے لگتا ہے کوئی زخم تو جب پوچھتے ہیں لوگ یوں تجھ سے بچھڑنے کا سبب پوچھتے ہیں کیا تمسخر ہے بلندی بھی کہ اب حال اپنا پہلے جن لوگوں نے پوچھا نہیں اب پوچھتے ہیں اپنا پیکر نہیں پہچان بدل کر آؤ یہ وہ محفل ہے جہاں نام و نسب پوچھتے ہیں حسن والوں کی ادا ہے کہ جفا ہے کیا ہے ہجر زادوں ...

مزید پڑھیے

تمہاری یاد کی تلخی ابھی بچی ہوئی ہے

تمہاری یاد کی تلخی ابھی بچی ہوئی ہے سو اک شراب کی بوتل نئی رکھی ہوئی ہے نہ آستین میں خنجر نہ لب پہ شیرینی یہ کیسے عقل کے دشمن سے دوستی ہوئی ہے وہ پھول کس کے شبستاں میں کھل رہا ہوگا جو میرے کمرے میں خوشبو بھری بھری ہوئی ہے ابھی سے فلسفۂ ریگ زار کی باتیں ابھی تو عشق کے مکتب میں ...

مزید پڑھیے

سوچئے گر اسے ہر نفس موت ہے کچھ مداوا بھی ہو بے حسی کے لئے

سوچئے گر اسے ہر نفس موت ہے کچھ مداوا بھی ہو بے حسی کے لئے سورجوں کی وراثت ملی تھی ہمیں در بدر ہو گئے روشنی کے لیے کوئی آواز ہے وہ کوئی ساز ہے اس سے ہی رنگ و نکہت کا در باز ہے جس طرف ہو نظر وہ رہے جلوہ گر کیسے سوچیں گے ہم پھر کسی کے لیے بد دماغی مری ہے وہی جو کہ تھی طرز خود بیں تمہارا ...

مزید پڑھیے

بہت گھٹن ہے یہاں پر کوئی بچا لے مجھے

بہت گھٹن ہے یہاں پر کوئی بچا لے مجھے میں اپنی ذات میں مدفون ہوں نکالے مجھے ہم آدمی ہیں بہکنا ہماری فطرت ہے بہک رہا ہوں اگر میں کوئی سنبھالے مجھے کہ حرف حق تو ادا ہو گیا ہے ہونٹوں سے زمانہ چاہے تو نیزے پہ اب اچھالے مجھے خدا کرے کہ میسر ترا وصال نہ ہو بہت عزیز ہیں یہ ہجر کے اجالے ...

مزید پڑھیے

سوال روشنی کا تھا جواب لکھ رہے تھے ہم

سوال روشنی کا تھا جواب لکھ رہے تھے ہم پروں پہ جگنوؤں کے آفتاب لکھ رہے تھے ہم جو خشک لب کو تر نہ کر سکے تو رات یہ ہوا سمندروں کو خواب میں سراب لکھ رہے تھے ہم تمام سر بلندیاں تھیں سر نگوں کھڑی ہوئیں شکستگیٔ ذات پر کتاب لکھ رہے تھے ہم تو مرحبا کی اک صدا حرم کی سمت سے اٹھی قصیدۂ جناب ...

مزید پڑھیے

زندہ وہ اپنے ساتھ کے بیمار بھی نہیں

زندہ وہ اپنے ساتھ کے بیمار بھی نہیں مرتے رہو کہ اب کوئی غم خوار بھی نہیں اکثر خیال زلف سے ٹوٹا سکوت شب زنجیر اب نہیں ہے تو جھنکار بھی نہیں ہمسائیگی پہ اس کی بہت ناز ہے ہمیں دیوار سے لگی ہوئی دیوار بھی نہیں دامن کا چاک چاک گریباں سے جا ملے اب عاشقی کا یہ کوئی معیار بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 879 سے 6203