جانتے ہو نہیں چلنا تو یوں چلتے کیوں ہو
جانتے ہو نہیں چلنا تو یوں چلتے کیوں ہو آج بھی غافل منزل ہو نکلتے کیوں ہو وہ دلاسے ہی چھلاوے ہی فقط دیتے ہیں ان کی ہر بات سے ہر بار بہکتے کیوں ہو جب سنبھالا ہے جوانی میں یوں خود کو تنہا آپ آ کر کے بڑھاپے میں پھسلتے کیوں ہو کوئی فن کار اگر شہرت و عزت پائے مرتبہ ملنے پہ اس نام سے ...