قومی زبان

جانتے ہو نہیں چلنا تو یوں چلتے کیوں ہو

جانتے ہو نہیں چلنا تو یوں چلتے کیوں ہو آج بھی غافل منزل ہو نکلتے کیوں ہو وہ دلاسے ہی چھلاوے ہی فقط دیتے ہیں ان کی ہر بات سے ہر بار بہکتے کیوں ہو جب سنبھالا ہے جوانی میں یوں خود کو تنہا آپ آ کر کے بڑھاپے میں پھسلتے کیوں ہو کوئی فن کار اگر شہرت و عزت پائے مرتبہ ملنے پہ اس نام سے ...

مزید پڑھیے

تم نے ہی تو گرائی تھی مجھ پر یہ بجلیاں

تم نے ہی تو گرائی تھی مجھ پر یہ بجلیاں دینے کو آ رہی ہو مجھے کیوں تسلیاں سونے سی تھی کھری میں چمک برقرار تھی پھر کیوں ہزار بار لیں میری تلاشیاں نکلے جو آشیاں کو گرانے کبھی مرے گرنے لگی ہے آج انہیں پر یہ بجلیاں سلجھایا جتنا اتنی ہی الجھی یہ زندگی اس زندگی کی حل نہیں ہوتی ...

مزید پڑھیے

ساتھ تیرا مرا گھر ہو تو مزہ آ جائے

ساتھ تیرا مرا گھر ہو تو مزہ آ جائے پھر وہاں باغ و شجر ہو تو مزہ آ جائے نوکری کے لئے پھرتے ہیں ہزاروں در در ہاتھ میں کوئی ہنر ہو تو مزہ آ جائے تم رکھو سب پہ نظر میرے سوا کیوں ساقی صرف مجھ پر ہی نظر ہو تو مزہ آ جائے تجھ کو آتا ہے نظر بس مری شہرت کا خیال سوز دل کی بھی خبر ہو تو مزہ آ ...

مزید پڑھیے

اے ہواؤ! مجھے دامن میں چھپا لے جاؤ

اے ہواؤ! مجھے دامن میں چھپا لے جاؤ زرد پتہ ہوں میں آہستہ اٹھا لے جاؤ سر چھپانے مری کٹیا میں چلے آنا تم اگر اس اونچی حویلی سے نکالے جاؤ پھول مرجھاتے ہیں الفاظ نہیں مرجھاتے دور جانا ہے بزرگوں کی دعا لے جاؤ زندگی شاخ گل تر نہ سہی بوجھ سہی گرتی دیوار سہی پھر بھی سنبھالے جاؤ تند ...

مزید پڑھیے

مر جانے کی اس دل میں تمنا بھی نہیں ہے

مر جانے کی اس دل میں تمنا بھی نہیں ہے اندر سے کوئی کہتا ہے جینا بھی نہیں ہے گل ہو گئیں شمعیں ذرا تم جاؤ ہواؤ شاخوں پہ کوئی ٹوٹنے والا بھی نہیں ہے اے سنگ سر راہ ملامت سے گزر جا تیرا بھی نہیں ہے کوئی میرا بھی نہیں ہے احباب کی چاہت پہ شبہ بھی نہیں ہوتا ہم جیسا مگر کوئی اکیلا بھی ...

مزید پڑھیے

غم کا سورج کبھی ڈھلتا ہی نہیں

غم کا سورج کبھی ڈھلتا ہی نہیں آسماں رنگ بدلتا ہی نہیں دے دیا جاتا ہے قبضہ دل پر دل تو سینے سے نکلتا ہی نہیں کہتے ہیں اونچی اڑانوں والے جو گرا پھر وہ سنبھلتا ہی نہیں ہے خوشامد ہی سے آمد لیکن وہ خوشامد سے پگھلتا ہی نہیں گاؤں بھر خوف زدہ ہے اس سے جو کبھی گھر سے نکلتا ہی نہیں کسی ...

مزید پڑھیے

یہ دل ہر اک نئی کوشش پہ یوں دھڑکتا ہے

یہ دل ہر اک نئی کوشش پہ یوں دھڑکتا ہے کہ جیسے کوئی نتیجہ نکلنے والا ہے ہمیں خبر ہے کہ ہے کون کتنے پانی میں یہ شہر سطح سمندر سے کتنا اونچا ہے سراب پیاس بجھاتا نہیں کبھی لیکن یہ بات خوب سمجھتا ہے کون پیاسا ہے تمہارے ہاتھ میں تقدیر ہے اجالوں کی چراغ کو یہ خبر کیا کہاں اندھیرا ...

مزید پڑھیے

یہ سلسلہ غموں کا نہ جانے کہاں سے ہے

یہ سلسلہ غموں کا نہ جانے کہاں سے ہے اہل زمیں کو شکوہ مگر آسماں سے ہے یادوں کی رہ گزار سے خوابوں کے شہر تک اک سلسلہ ضرور ہے لیکن کہاں سے ہے میری کتاب زیست کو ایسے نہ پھینکیے روشن کسی کا نام اسی داستاں سے ہے منزل نہ پائی میں نے مگر یہ تو کھل گیا رشتہ مرے سفر کا کسی کارواں سے ...

مزید پڑھیے

دل جسے چاہے وہی چہرہ جبیں لگتا ہے

دل جسے چاہے وہی چہرہ جبیں لگتا ہے اپنے سینے کا ہر ایک داغ حسیں لگتا ہے میں کہیں بھی ہوں مگر ہوں اسی محفل کا چراغ وہ جہاں بھی ہو مرے دل کا مکیں لگتا ہے دوسری بار نہ میں پہونچا وہاں اور نہ وہ پھر بھی میلہ ہے کہ ہر سال وہیں لگتا ہے سرحد غم کے علاقوں میں ادھر ہو کہ ادھر مجھ کو ہر دشت ...

مزید پڑھیے

متاع و مال جو لے جائے تو غنیمت ہے

متاع و مال جو لے جائے تو غنیمت ہے وہ اپنی جان بچا لائے تو غنیمت ہے پھلوں کا آئے گا موسم تو پھل بھی آئیں گے درخت دیتا رہے سائے تو غنیمت ہے کبھی تو عمر گزر جاتی ہے نہیں آتی شعور وقت پہ آ جائے تو غنیمت ہے کبھی جو درد میں ڈوبی ہوئی صدا ابھرے سماعتوں سے نہ ٹکرائے تو غنیمت ہے یہ غم جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 880 سے 6203