قومی زبان

عجب سا وہ ارادہ کر رہا ہے

عجب سا وہ ارادہ کر رہا ہے لکھے اوراق سادہ کر رہا ہے غزل میں گھولتا ہے رس لبوں کے ابھی تیکھی زیادہ کر رہا ہے تھی اس کے ہاتھ میں صندل سی لکڑی نہ جانے کیوں برادہ کر رہا ہے چھپانے سے نہیں چھپتا ہے لہجہ اگرچہ وہ ارادہ کر رہا ہے نہیں مابعد کا چکر نہیں ہے فقط اذہان تازہ کر رہا ہے

مزید پڑھیے

مکان جاں پہ بھلا کب مکیں کا حصہ ہے

مکان جاں پہ بھلا کب مکیں کا حصہ ہے یہ آسماں بھی سراسر زمیں کا حصہ ہے بدن کی ساری رگیں جل گئیں مگر اب تک جو جل نہ پایا کسی دل نشیں کا حصہ ہے ٹھہر بھی جاؤ کہ ہے بات کچھ مہینوں کی گماں کی ناف میں زندہ یقیں کا حصہ ہے چھپا ہوا نہیں رہتا ہے کچھ فقیروں کا چمک رہا ہے جو قشقہ جبیں کا حصہ ...

مزید پڑھیے

کھوٹا سکہ اک دن چل بھی سکتا ہے

کھوٹا سکہ اک دن چل بھی سکتا ہے راوی کا انداز بدل بھی سکتا ہے دو پل کا ہے ساتھ مگر تنہائی میں اندیشہ رسوائی کا پل بھی سکتا ہے ماچس کی اک تیلی جیسی آنکھوں سے حد نظر کا منظر جل بھی سکتا ہے دنیا اس کی مجبوری میں شامل ہے زیر زمیں وہ رہ کر پھل بھی سکتا ہے نیکی کا دریا سے گہرا رشتہ ...

مزید پڑھیے

ایک انچ مسکراہٹ

کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ جیوں بہت دنوں تک یہاں تک کہ جینے کا سلیقہ کھو بیٹھوں یہاں تک کہ دوڑتی بھاگتی زندگی کے ٹمپو پر اٹھنے والے میٹر کی پرواہ کرنا فضول سا لگنے لگے جس طرح فضول سا لگنے لگتا ہے بیساکھی کا سہارا لے کر جینا پھر بھی جئے جاتا ہوں کہ کبھی کبھی جینا پڑتا ہے یہاں محض ایک ...

مزید پڑھیے

مہاجر پرندے کا سفر

جہاں پہ ختم ہو ایسا سفر نہیں آیا وہ تیرگی ہے کہ کچھ بھی نظر نہیں آیا وہ روشنی ہے کہ چشم غزال حیراں ہے نہیں ہے تاب کہ دیکھے ذرا بھی سوئے فلک کہاں سے آئی ہے روئے زمیں پہ ایسی چمک یہ راکٹوں کے دھماکے یہ عصری میزائل گماں ہے سمت سمندر بدل کے رکھ دیں گے ہرے بھرے سبھی منظر بدل کے رکھ دیں ...

مزید پڑھیے

سب سے پہلے تو عرض مطلع ہے

سب سے پہلے تو عرض مطلع ہے یوں سمجھئے کہ اس کا جلوہ ہے آئینہ جھوٹ بولنے کے لیے سو بہانے تلاش کرتا ہے زندہ رکھے گی شاعری مجھ کو کون کہتا ہے اس میں گھاٹا ہے دل شاعر بھی ہے پھسڈی ہی حسن کے پیچھے پیچھے رہتا ہے سچ زمینی کہ آسمانی ہو وہ بدن زندہ استعارہ ہے کوئی اچھا سا شعر ہو ...

مزید پڑھیے

یہ اور بات کہ گملے میں اگ رہا ہوں میں

یہ اور بات کہ گملے میں اگ رہا ہوں میں زبان بھول نہ پائے وہ ذائقہ ہوں میں اندھیری شب میں حرارت بدن کی روشن رکھ وہی کروں گا اشارہ جو کر رہا ہوں میں سخن سفر میں بدن اس نے کھول رکھے ہیں ذرا سا سایۂ دیوار چاہتا ہوں میں میں چاہتا ہوں کہوں ایک نک چڑھی سی غزل اگرچہ حلقۂ یاراں میں نک ...

مزید پڑھیے

کسی ٹرین کے نیچے وہ کٹ گیا ہوتا

کسی ٹرین کے نیچے وہ کٹ گیا ہوتا غبار راہ طلسمات چھٹ گیا ہوتا چلو یہ اچھا کہ چندن بدن سے دور رہے میں سانپ بن کے کمر سے لپٹ گیا ہوتا کسی کے ہجر میں اتنی گھٹن سے بہتر تھا ہوا میں صورت غبارہ پھٹ گیا ہوتا ہوا کہ ڈھیر سی اشیا سے بھر گیا دامن اے کاش ذرۂ نیکی بھی اٹ گیا ہوتا زبان آتی تو ...

مزید پڑھیے

فضائے نم میں صداؤں کا شور ہو جائے

فضائے نم میں صداؤں کا شور ہو جائے وہ مسکرا دے ذرا سا تو بھور ہو جائے کبھی جو اتروں میں رقص سخن کے صحرا میں تو اپنا حال بھی مانند مور ہو جائے وہ مے کدے سے بھی نکلے تو پاکباز رہے میں اس کی آنکھوں سے پی لوں تو شور ہو جائے نظر میں پھول ہو کاغذ پہ ایک صحرا ہو تو یوں غزل کا کوئی اور ...

مزید پڑھیے

وہ شخص بھی ہے عجیب و غریب ڈھونڈھتا ہے

وہ شخص بھی ہے عجیب و غریب ڈھونڈھتا ہے صف رقیب میں ہے اور رقیب ڈھونڈھتا ہے جھلس نہ دے کہیں اس کو بھی آتش مفہوم مری غزل میں وہ ذکر حبیب ڈھونڈھتا ہے اگرچہ ہو گیا بوڑھا وصال کا موسم وہ بوئے یار ابھی بھی قریب ڈھونڈھتا ہے وہ اپنے عہد کا صحرا نورد ہے لیکن شجر کو کاٹ کے اب عندلیب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 862 سے 6203