سیال تصور ہے ابلنے کی طرح کا
سیال تصور ہے ابلنے کی طرح کا اک عکس سے سو عکس میں ڈھلنے کی طرح کا اب سانحۂ ہجر مسلسل کا مزہ بھی ہے آتش تخلیق میں جلنے کی طرح کا سب قید ہوا جاتا ہے تنگنائے غزل میں منظر پس منظر ہے بدلنے کی طرح کا اپنی ہی طرح کا ہے قدم راہ طلب میں گرنے کی طرح کا نہ سنبھلنے کی طرح کا سمجھو کہ قریب آ ...