چشم الفت عجیب ہوتی ہے
چشم الفت عجیب ہوتی ہے مجھ سے ہر شے قریب ہوتی ہے بات جب بڑھ گئی محبت میں اپنی ہستی رقیب ہوتی ہے جس کو چاہے نہ کوئی دنیا میں اس کی دنیا عجیب ہوتی ہے ایسا ہوتا ہے یاد کچھ بھی نہیں یوں بھی یاد حبیب ہوتی ہے سامنے وہ ہوں اور بات نہ ہو وہ گھڑی بد نصیب ہوتی ہے ان کی باتوں سے زخم کھا کے ...