مجھے بخشی خدا نے کون روکے گا زباں میری
مجھے بخشی خدا نے کون روکے گا زباں میری تمہیں ہر حال میں سننی پڑے گی داستاں میری کبھی تو شاہراہ زندگی تھی کہکشاں میری مگر اب کارواں میرا نہ گرد کارواں میری ابھی لوگوں کے دل میں خار کی صورت کھٹکتا ہوں ابھی تک یاد ہے اہل چمن کو داستاں میری مرے گزرے ہوئے تیور ابھی بھولی نہیں ...