آہ شرمندۂ اثر نہ ہوئی
آہ شرمندۂ اثر نہ ہوئی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی ملتفت آپ کی نظر نہ ہوئی شاخ امید بارور نہ ہوئی ہم نے دن جس جگہ گزار دیا رات اپنی وہاں بسر نہ ہوئی عیب اوروں کے ڈھونڈتے ہیں ہم اپنے افعال پر نظر نہ ہوئی قصۂ غم اگر نہ تھا کوتاہ زندگانی بھی مختصر نہ ہوئی رہ گئی دل میں داغ دل بن ...